۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
کرگل

حوزہ/ حقائق کو پس پشت ڈال کر یوم جمہوریہ کے جھانکی کو صرف ایک مخصوص مذہب کی مظہر کے طور پر پیش کیے جانے کے اس اقدام کو کرگل کے ہر مذہبی سماجی اور سیاسی انجمنوں نے مذمت کی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ہندوستان میں 26 جنوری کو منائی جانے والی ملک کی یوم جمہوریہ کے سلسلے میں ملک کے دارلخلافہ نئی دہلی میں تیاریاں عروج پر ہیں۔اس سلسلے میں مرکزی سرکار ہر ایک ریاست اور مرکز کے زیر انتظام والے علاقوں سے جھانکی منتخب کرتے ہیں جس میں اس علاقے کے منفرد ثقافتی خصوصیات کی عکاسی کی گئی ہو۔

٘سال 2019 میں سابقہ ریاست جمّوں و کشمیر کے تقسیم کے بعد لداخ کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا درجہ دلایا گیا تھا۔جس کے بعد اس خطّے کو بھی یوم جمہوریہ کے موقعہ پر اپنی خصوصی جھانکی کے نمائش کا موقعہ فراہم کیا گیا ہے۔اسی بنا یہاں کے مقامی سرکار نے گزشتہ نومبر میں مختلف ماہرین سے اس سلسلے میں جھانکی کے نمونے طلب کیے تھے۔جس میں لداخ کے تاریخ، ثقافت اور ماحولیات کی ترجمانی کی گئی ہو۔اس سلسلے میں اس فن سے تعلق رکھنے والے کچھ  مقامی جوانوں نے بھی مجوّزه شرایط کے مطابق اپنے نمونے متعلقہ حکام کو پیش کیا تھا۔ تاہم 21 فروری کو سوشل میڈیا میں ایک کسی ہندی اخبار کے حوالے سے منتخب شدہ جھانکی کی تصویر سمیت ایک خبر شائع ہوئی جس میں صرف ایک مخصوص مذہب کے آثار کو دکھایا گیا تھا۔ دوسری جانب اگر دیکھا جاۓ تو  خطہ لداخ صدیوں سے کئی مذاہب کے ماننے والوں کا مسکن رہا ہے اور یہاں کی بین المذاھب آپسی رواداری پورے ملک میں اپنی مثال آپ ہے۔اس کے علاوہ یہاں کے منفرد ثقافتی سماجی اور ماحولیاتی کشش کے حامل حقائق پوری دنیا کے لیے توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔

ان حقائق کو پس پشت ڈال کر یوم جمہوریہ کے جھانکی کو صرف ایک مخصوص مذہب کی مظہر کے طور پر پیش کیے جانے کے اس اقدام کو کرگل کے ہر مذہبی سماجی اور سیاسی انجمنوں نے مذمت کی ہے۔

اس سلسلے میں انجمن جمعیت العلماء مدرسہ اثنا عشریہ کرگل کے صدر حجت الاسلام شیخ ناظر مہدی محمدی نے  نماز جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے یو ٹی سرکار کے اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔اُنہوں نے کہا کہ یو ٹی سرکار کو اس یکطرفہ فیصلے پر نظر ثانی کرنا چاہئے اور  ساتھ ساتھ یہ واضح بھی کرنا چاہئے کہ ایسے اقدامات کے پیچھے سرکار کے کیا مقاصد ہیں۔

اُنہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ شکل کے ساتھ یہ جھانکی پریڈ میں پیش نہ کیا جائے اور اپیل کیا کہ جھانکی کو سارے مذاھب کے آثار کے ساتھ نئے سرے سے پیش کیا جائے ورنہ اس سے لداخ کے اکثر مسلمان آبادی کے وطن کے تئیں جذبات کے منافی سمجھا جائے گا۔

دوسری جانب ضلع کا دوسرا سب سے بڑا مذہبی و سماجی ادارہ امام خمینی میموریل ٹرسٹ کے چیئرمین حجت الاسلام و المسلمین شیخ صادق رجائی نے بھی خطبہ جمعہ کے دوران اس فیصلے پر شدید الفاظ میں نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے سرکار کی جانب سے لداخ کی کثیر آبادی پر مشتمل طبقے کو نظر انداز کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ قرار دیا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ وطن عزیز ہندوستان کے شہری ہونے اور آئین ہند کی جمہوری اصولوں پر اُنھیں فخر ہے لیکن اس طرح کے منفی اقدامات سے خطّے کے لوگوں میں آپسی رواداری کو نقصان پُہنچے کا اندیشہ ہے اور کسی بھی ممکنہ نتائج کی صورت میں یو ٹی انتظامیہ کو ذمے دار قرار دیا۔
اس کے علاوہ انجمن صاحب الزمان کے سینئر رہنما اور مصلّا مہدیہ سنکو کے امام جمعہ آغا سید احمد رضوی نے بھی اس فیصلے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے یو ٹی انتظامیہ اور لیفٹینٹ گورنر سے نظر ثانی کی اپیل کی ہے تاکہ خطّے کی سالمیت کو ایسے عناصر کے عزائم محفوظ رکھا جا سکے جو ہمہ وقت لوگوں میں مذہب کے نام پر انتشار پھیلا نے کے مذموم عزائم رکھتے ہوں۔

اُدھر دنیا کا دوسرا سردترین علاقہ دراس میں دار التبلیغ دراس کے زیر اہتمام امامیہ جامع مسجد کے امام و خطیب جمعہ حجت الاسلام غلام حسین برامو نے بھی یو ٹی  انتظامیہ کے اس یکطرفہ اقدام کو محکوم کرتے ہوئے حکومت کو ایسی اقدامات کے نتائج کے بارے میں  باور کرایا ہے اور عوام سے ا ایسے غیر منصفانہ اقدامات کے خلاف خاموشی توڑنے کی اپیل کی ہے۔

دوسری جانب سیاحتی اعتبار سے مشہور علاقہ سورو میں بھی انجمن انقلاب مہدی کے زیر اہتمام مصلّا جنت الزھراء میں خطیب جمعہ حجت الاسلام شیخ محمد حسن نے بھی اس فیصلے کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے  بار بار ایسے اقدامات نہ دہرانے کی اپیل کی ہے۔

کرگل کے نمائندہ سیاسی ادارہ لداخ خود مختار پہاڈی ترقیاتی کونسل کے چیئرمین فیروز احمد خان نے بھی لوگوں کی نمائندگی کرتے ہوئے یو ٹی انتظامیہ کے لیفیننٹ گورنر کے نام خط لکھ کر اس جھانکی پر اعتراض پیش کیا ہے اور سرکار سے اس فیصلے پر نظر ثانی کرنے کی اپیل کی ہے۔

ضلع کرگل کے پنچایت رابطہ کمیٹی نے بھی لیفٹیننٹ گورنر لداخ کے نام  جاری ایک خط میں منتخبہ جھانکی پر اعتراض جتایا ہے اور اس کو منگھڑت قرار دیا ہے۔

معروف سیاسی و سماجی شخصیت سجّاد حسین کرگیلی نے بھی ایک ٹویٹ پیغام میں اس فیصلے کو کرگل کے لوگوں کی حب الوطنی کے جذبات کو مجروح کرنے سے تعبیر کرتے ہوئے جمہوری اور رواداری کے اصولوں کے منافی قرار دیا ہے ۔اس فیصلے پر مقامی طلباء سوشل میڈیا کے ذریعے سے غم و غصّے کا اظہار کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔

اس ضمن میں انجمن صوفیہ نوربخشیہ لداخ کے صدر اور پايئنی دراس حلقے کے کونسلر سید محمد شاہ نے بھی دراس میں منعقدہ ایک روایتی کھیل کے اختتامی تقریب کے دوران مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یو ٹی انتظامیہ کو اس جانبدارانہ رویہ کو ترک کر کے برابری کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .