۶ آذر ۱۴۰۰ |۲۱ ربیع‌الثانی ۱۴۴۳ | Nov 27, 2021
حجت الاسلام تقی عباس رضوی

حوزہ/ معاشرتی برائیوں کی روک تھام کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ والدین اور علماء کا جہیز کے مطالبات اور گھریلو تشدد جیسے معاشرتی ناسور کے معالجے کے لئے ٹھوس اقدامات خصوصاً اس مسئلہ میں جوانوں کی رہنمائی اور جلد عدالتی کاروائی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، دہلی/ اہل بیت (ع)فاؤنڈیشن ہندوستان کے نائب صدر حجت الاسلام مولانا تقی عباس رضوی نے کہا کہ خودکشی جرم بھی ہے صبر کی توہین بھی ہے، چند عرصے پہلے گجرات کے شہر احمدآباد کی رہنے والی عائشہ نے 25 فروری کونی مبینہ طور پر جہیز کے مطالبے اور ازدواجی جھگڑوں سے تنگ آکر سابر متی ندی میں کود کر خود کشی کر لی۔ 

عائشہ نے خود کشی کرنے سے پہلے ایک ویڈیو اپنے شوہر عارف خان کو بھیجا تھا جو کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جو فقط ایک لڑکی کی بے بسی کی داستان نہیں سنا رہا ہے بلکہ  عائشہ ہی جیسی دوسری نصیب جلی سسرال والوں کے ظلم کی ستائی لڑکیوں کو مزید  اپنے ہی ہاتھوں موت کے گھاٹ اتارنے کا حوصلہ دے رہا ہے جو سراسر ایک اجتماعی جرم ہے گناہ ہے فعل حرام اور سخت عذاب کا سبب ہے۔

پھر زمین و آسماں پر موت ہے چھائی ہوئی
  موت بھی کیسی خود اپنے ہاتھ کی لائی ہوئی

لوگوں کی ایک بڑی تعداد سوشل میڈیا پر عائشہ کی ویڈیو پر رد عمل دے رہی ہے۔ 

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ عائشہ کو اپنے والدین کی بات سننی چاھیے تھی اور کچھ لوگ ویڈیو دیکھ کر تناؤ بھی محسوس کر رہے ہیں۔

اس ردعمل میں ویڈیو کا وائرل ہونا ایک دوسری جان کے لئے وبال جان بن گیا اور عائشہ کے بعد پھر ایک دوسری عائشہ جو در اصل سورت کی رہنے والی ہے اسی قصہ پارینہ کو دہرانے اور تاپی ندی میں چھلانگ لگانے کی کوشش کی جسے سورت کے ایک آٹو ڈرائیور نے بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اسے طمانچہ رسید کر خود کشی کرنے سے روکنے کی کوشش کی جس کی ویڈیو فیس بک پر گشت کر رہی ہے!۔

حالانکہ ہمیں  یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ برائی کا تذکرہ برائی کی تشہیر کرنے کے مترادف ہے۔

یہاں کہنا شاید بجا ہوکہ دور حاضر میں جس فیس بک جیسے دیگر سوشل نیٹ ورک  ابلاغ و تبلیغ اور لوگوں کے کیرئیر سنوارنے کا بہترین ذریعہ ہیں وہیں  معاشرے کی تباہی اور تمام برائیوں کی جڑ بھی ہے،

معاشرتی برائیوں کی روک تھام کے لئے حکومت کے ساتھ ساتھ والدین اور علماء کا جہیز کے مطالبات اور گھریلو تشدد جیسے معاشرتی ناسور کے معالجے کے لئے ٹھوس اقدامات خصوصاً اس مسئلہ میں جوانوں کی رہنمائی اور جلد عدالتی کاروائی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔

جس پر عمل درآمد ہوکر گھریلو تشدد میں متاثرہ عورتوں کی مدد اور خودکشی جیسے واردات کو کافي حد تک روکا جاسکتا ہے۔

 نیز ان جیسی دیگر برائیوں سے لوگوں کو روکنے کے لئے ان میں دینی بیداری پیدا کرنےاور معاشرے میں اسلامی تعلیمات کا فروغ بھی ضروری ہے۔

اسلام نے دکھ، پریشانی اور تکلیف میں لوگوں کو صبر و تحمل سے کام لینے پر زور دیتا ہے نہ کہ ذہنی تناؤ  مایوسی اور ناامیدی میں اپنے آپ کو موت کے حوالے کردینے کا پیغام!۔ 

عام لوگوں کے ذہنوں پر اس طرح کے واقعات کے اثرات کے بارے میں ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ’اس طرح کے واقعات کو کوئی اہمیت نہیں دی جانی چاھیے۔ اس سے یہ سیکھنا چاھیے کہ موت کسی بھی مسئلے کو حل نہیں کر سکتی۔‘

خودکشی گناہ کبیرہ ہے: اللہ اور اسکے رسول نے خود کشی کو بڑی سختی کیساتھ حرام قرار دیا، اور خود کشی کرنے والے کو جہنمی قرار دیا ہے 

 اللہ کے رسول ؑ نے فرمایا: جس نے پہاڑ سے اپنے آپ کو گراکر خودکشی کر لی وہ جہنم کی آگ میں ہوگا اور اس میں ہمیشہ ہمیش پڑا رہے گا ‘اور جس نے زہر پی کر خودکشی کر لی تو وہ زہر اس کے ہاتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں وہ اسے اس طرح ہمیشہ ہمیش پیتا رہے گا اور جس نے لوہے کے کسی ہتھیار سے خود کشی کر لی تو اس کا ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہوگا اور جہنم کی آگ میں ہمیشہ کے لئے اسے اپنے پیٹ میں مارتا رہے گا۔

خود کشی جہاں ناکامی، شکست اور محرومی کی ایک بدنما تصویر وہیں یہ عمل خود کش انسان کو دینی اور دنیوی سعادتوں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم کردیتی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 11 =