۱۳ اسفند ۱۴۰۲ |۲۲ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 3, 2024
آرم مرکز مدیریت حوزه های علمیه

حوزہ/ مرکزی مینجمنٹ برائے حوزہ ہائے علمیہ ایران نے ایک بیان میں کہا ہے کہ عالی جناب پوپ فرانسس کا حالیہ دورہ عراق اور حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی اور پوپ فرانسس کی دو قائدین اور مذہبی پیشوا کی حیثیت سے حالیہ ملاقات دانشمندانہ اور قابل ستائش اقدام ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مرکزی مینجمنٹ برائے حوزہ ہائے علمیہ ایران نے ایک بیان میں،حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی اور پوپ فرانسس کی دو قائدین اور مذہبی پیشوا کی حیثیت سے حالیہ ملاقات کو دانشمندانہ اور قابل ستائش اقدام قرار دیا ہے۔

بیان کا متن کچھ یوں ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

مذہبی رہنماؤں نے انسانی معاشروں میں معنویت، اخلاقیات،امن اور دوستی کو فروغ دینے میں ہمیشہ اہم اور کلیدی کردار ادا کیا ہے۔وہ تنازعات،نسلی اور مذہبی اختلافات کو اپنے دانشمندانہ برتاؤ کے ذریعے امن ،دوستی اور اتحاد میں بدلنے میں مستقل طور پر کلید ہیں۔

اس سلسلے میں عالی جناب پوپ فرانسس کے دوست اور برادر ملک عراق کے حالیہ دورے کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔نیز ،  حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی اور پوپ فرانسس کی دو قائدین اور مذہبی پیشوا کی حیثیت سے حالیہ ملاقات ایک دانشمندانہ اور قابل ستائش اقدام ہے۔

نہایت ہی اخلاص اور محبت کے ساتھ ہونے والی یہ ملاقات، ادیان آسمانی کو ایک دوسرے کے قریب لانے کے لئے آئندہ کی جانے والی کوششوں کا ایک الہام اور نمونہ ثابت ہوسکتی ہے۔دو عظیم الہی مذاہب کے پیروکار کی حیثیت سے مسلمانوں اور عیسائیوں کے مابین تعلقات میں بہتری لانا اور اسلامو فوبیا ، شیعہ فوبیا اور تکفیری دہشت گردی کے عقائد جیسے باطل نظریات کی مذمت اور نظرانداز کئے جانے کو اس تاریخی ملاقات کے سب سے اہم اثرات سمجھا جاسکتا ہے۔

حوزہ علمیہ ایران ہمیشہ ہی الہی مذاہب کے مشترکہ مقاصد اور اقدار کی حمایت کے لئے پرعزم رہا ہے اور امید کرتا ہے کہ اس بابرکت ملاقات اور ان باہمی تعامل کا تسلسل انسانی بھائی چارگی کی توسیع اور ادیان آسمانی کے پیروکاروں سمیت تمام بشریت کے پرامن بقائے باہمی کا باعث بنے گا۔

مرکزی مینجمنٹ برائے حوزہ ہائے علمیہ ایران

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .