۱۵ مهر ۱۴۰۱ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 7, 2022
مولانا سید صفی حیدر زیدی

حوزہ/ سکریٹری تنظیم المکاتب نے اپنے ایک بیان میں لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پہلا کام کھانا پہنچانا نہیں بلکہ بر وقت مریض تک پہنچ کر اس کی جان بچانا ہے۔ 

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،ملک ہندوستان میں جان لیوا ور مہلک ترین کورونا وائرس کا قہر جاری ہے اور اس کے تیزی سے بدستور پھیلنے کے سبب تشویش میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ایسی صورت میں مولانا سید صفی حیدر زیدی سکریٹری تنظیم المکاتب نے قوم کے مخیر افراد کو مخاطب کرتے ہوئے گزارش کی ہے کہ علی والو! کوئی بھی وبا کا شکار بغیر علاج کے نہ رہنے پائے۔

بیان کا مکمل متن اس طرح ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

میری مخیر قوم پر میرا سلام کہ جس کے جوان، بوڑھے، مرد اور عورتیں سب اس جان لیوا وبا میں خطرات کے باوجود ایک دوسرے کی مدد میں لگے ہیں۔ 

آئیے ہم سب مل کر ممکنہ مدد وہاں تک پہنچائیں جہاں تک شائد مدد نہ پہنچ رہی ہو۔ 

پچھلے سال اپنی قوم کی خدمت میں عرضی پیش کی تھی کہ "علی والو! کوئی بھوکا نہ رہنے پائے" تو پوری قوم نے بھر پور طریقہ سے اس مہم کو انجام دیا تھا، مگر اس سال صورت حال کچھ اور ہے، ابھی لاک ڈاون کی مصیبت اتنی نہیں بڑھی ہے کہ ملکی سطح پر گھروں میں فاقہ کی نوبت ہو اگرچہ علاقائی سطح پر ایسی صورت حال بھی ہے۔ 

اس وقت پہلا کام کھانا پہنچانا نہیں بلکہ بر وقت مریض تک پہنچ کر اس کی جان بچانا ہے۔ 

 1.بروقت ڈاکٹر نہیں مل پا رہے ہیں۔ 

2۔ اسپتالوں میں جگہ نہیں ہے۔

3۔ بروقت دوا نہیں مل رہی ہے۔ 

4۔ آکسیجن کی کمی ہے۔ 
 یہی کثرت موت کے اسباب ہیں۔

 روزآنہ بڑی تعداد میں موت کی خبریں دل کو بے چین کر رہی ہیں اور کچھ نہ کر پانے کا احساس مزید تڑپا رہا ہے اور اپنی بے بسی پر رونا آ رہا ہے کہ نہ آکسیجن فراہم کرنے کی طاقت ہے نہ اسپتال میں بیڈ۔ مگر پھر خود سے سوال کیا کہ جو کرنا چاہئیے وہ نہیں کر سکتے تو کیا جو کر سکتے ہیں وہ بھی نہ کریں؟ 

اس لئے مسلسل کرب کے دن گذار کر یہ فیصلہ کیا کہ اٹھیں اور جو کر سکتے ہیں وہ تو کریں۔ 

اس وقت حسب ذیل ضرورتیں ہیں
1. سب سے پہلی ضرورت بر وقت صحیح طبی مشورہ اور علاج کا مریض تک پہنچنا ہے اور مریض کے ساتھ گھر والوں کو سہارا دینا ہے۔  بروقت اور سمجھدار خبرگیری کے بعد بیماری کے مہلک ہونے کے امکانات بہت کم رہ جاتے ہیں۔ 

اس لئے ایسے ڈاکٹر حضرات کی ضرورت ہے جو روزآنہ چند گھنٹے آن لائن مریضوں کو طبی مشورہ دے سکیں۔ علاقائی سطح پر یہ کام ہو رہا ہے مگر ملکی سطح پر اس کی ضرورت ہے۔ 
  
2۔ کہیں کہیں بیمار کی فیملی کو دوا اور آکسیجن کے لئے مالی مدد کی ضرورت پڑتی ہے جو میری مخیر قوم گذشتہ برس کی طرح پوری کر دے گی جس کا مجھے یقین ہے۔ 

3۔ آکسیجن اور اسپتال میں جگہ کے لئے ملک بھر میں بے شمار مومنین اور ادارے خدمت میں لگے ہیں ان کے آپسی رابطہ کے ذریعہ اس کام کو بھی کیا جا سکتا ہے۔ 

ظاہر ہے ان تمام خدمات کے لئے ایک مرکز کی ضرورت ہے جہاں ہیلپ لائن پر مریض رابطہ کریں تو انکی ضروریات کو پورا کرنے لئے ڈاکٹر یا دیگر علاقائی خدمت گذاروں سے رابطہ کرایا جا سکے۔ 

اگر میری قوم کے ڈاکٹر اور خدمت گذار افراد جو اپنے محلوں اور شہروں میں خدمت کر رہے ہیں ملک گیر پیمانے پر پھیلے ادارہ تنظیم المکاتب کے نیٹ ورک کے ذریعہ خدمت پر تیار ہوں تو ادارہ اپنی پوری توانائی کے ساتھ حاضر ہے تا کہ دور دراز اور دیہی علاقوں میں جانیں بچائی جا سکیں۔ 

مجھے امید ہے کہ علی علیہ السلام والے اس علی علیہ السلام کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہاتھ میں ہاتھ دے کر آگے بڑھیں گے وہ علی علیہ السلام جنہیں اپنے دشمن کی تکلیف بھی برداشت نہ تھی۔ 

اس خدمت میں شمولیت کے لئے تیار حضرات بالخصوص ڈاکٹر صاحبان اور والنٹیر گروپس نا چیز کے پرسنل نمبر پر فون یا ادارہ کے وہاتس ایپ پر اپنی آمادگی سے مطلع فرمائیں۔ 

والسلام 
مولانا سید صفی حیدر زیدی
سکریٹری تنظیم المکاتب 
گولہ گنج لکھنو۔ 
30 اپریل 2021
پرسنل نمبر 
+919415306997
تنظیم المکاتب وہاتس ایپ نمبر 
+918090065982

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 3 =