۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
حضرت آیت الله صافی

حوزہ/ مرجع عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی(قدس سرہ) تقریبا ایک صدی بھرپور علمی اور عملی زندگی گزارنے کے بعد اس فانی دنیا سے کوچ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اسی مناسبت سے ان کی پر برکت زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، مرجع عالی قدر حضرت آیت اللہ العظمی صافی گلپائیگانی(قدس سرہ) تقریبا ایک صدی بھرپور علمی اور عملی زندگی گزارنے کے بعد اس فانی دنیا سے کوچ کرکے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ اسی مناسبت سے ان کی پر برکت زندگی پر ایک طائرانہ نظر ڈالتے ہیں؛

آیت‌ اللہ العظمی لطف الله صافی گلپایگانی رہ 19 فروری سنہ 1918 کو ایران کے شہر گلپایگان میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد آیت اللہ محمد جواد صافی مرحوم اپنے زمانہ کے بزرگ علماء میں شمار ہوتے تھے اور انہوں نے فقہ، اصول، کلام، اخلاق، حدیث اور تفسیر کے موضوعات پر بہت سی کتابیں تالیف کیں۔ آپ کی والدہ مرحومہ بھی ایک صاحب علم اور ذی استعداد خاتون ہونے کے ساتھ مداح اہلبیت (ع) بھی تھیں۔

مرحوم آیت اللہ صافی نے ادبیات، کلام، تفسیر، حدیث، فقہ اور اصول کی ابتدائی تعلیم اپنے ہی وطن گلپایگان میں قطب کے نام سے معروف جلیل القدر عالم دین سے حاصل کی اور پھر اپنے والد محترم کے پاس تعلیم و تزکیہ میں مشغول رہے۔

۱۳۶۰ھ میں قم مقدس میں اعلی تعلیم کے لئے تشریف لائے، اس زمانہ کے بزرگ علماء اور مراجع کرام سے کسب فیض کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی علمی تحقیقات میں بھی مشغول رہے اور کچھ عرصہ نجف اشرف امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے جوار میں رہ کر بھی خود کو علم و فضل سے آراستہ کیا۔

انہوں نے آیت اللہ سید محمد تقی خوانساری، سید محمد حجت کوہ کمری، سید صدر الدین صدر عاملی، سید محمد حسین بروجردی، سید محمد رضا گلپایگانی، محمد کاظم شیرازی ، سید جمال الدین گلپایگانی اور شیخ محمد علی کاظمی رحمت اللہ علیہم جیسے اساتذہ سے کسب فیض کیا۔

شیخ المراجع کے نام سے معروف آیت اللہ العظمیٰ شیخ صافی گلپایگانی کی فقہ، اصول، کلام، تفسیر، اخلاق، حدیث، تاریخ اسلام وغیرہ میں سینکڑوں تصنیفات ہیں۔ اسی کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنے اشعار کا ایک دیوان بھی مرتب کیا۔

مرحوم آیت اللہ نے مہدویت و انتظار کے موضوع پرنہایت اہم کتابیں تحریر کر کے ان موضوعات کے حوالے سے بہت سے شبھات کا تحقیقی جواب دیا۔ انکی شخصیت میں امام زمانہ علیہ السلام سے عشق محبت کا عنصر ایک نمایاں حیثیت کا حامل تھا جس کے تحت انہوں نے آپؑ سے متعلق اہم ترین کتابیں تالیف کیں۔ منتخب الاثر فی الامام الثانی عشر، امامت و مہدویت، العقیدہ بالمھدیہ ، نوید امن و امان، اصالت مہدویت، ، انتظار، عامل مقاومت و حرکت، فروغ ولایت در دعای ندبہ، وابستگی جہان بہ امام زمان، معرفت حجت خدا اور شرح دعای اللھم عرفنی نفسک، یہ وہ کتابیں جن کا شمار مہدویت کے باب میں تالیف ہونے والی گرانقدر کتابوں میں ہوتا ہے۔

امام خمینی (رح) کی قیادت میں رونما ہونے والے انقلاب اسلامی کی خدمت و تحفظ میں بھی مرحوم آیت اللہ العظمیٰ صافی پیش پیش رہے اور ایران کی گارڈین کونسل کے فقہاء میں شمولیت کے علاوہ مختلف اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ اسکے علاوہ وہ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ کے مخلص حامی تھے اور ان سے خاص عقیدت رکھنے کے ساتھ ساتھ انکے فرامین و ہدایات کے مطابق عمل کرنے پر بہت تاکید فرمایا کرتے تھے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .