۵ تیر ۱۴۰۱ |۲۶ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 26, 2022
ریوائیول احیاء درس علماء

حوزہ / ریوائیول احیاء درس علماء کا آن لائن درس اور عوام کے لائیو سوال و جواب میں آج بروز پیر مدرس جناب انجینئر سید حسین موسوی شریک تھے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ریوائیول احیاء درس علماء کا آن لائن درس اور عوام کے لائیو سوال و جواب میں مدرس جناب انجینئر سید حسین موسوی شریک تھے ۔ جس درس کا موضوع "تصوف اور اسلام" تھا۔ انجینئر سید حسین موسوی صاحب نے درس کا آغاز خداۓ علیم و حکیم کے نام سے کیا۔

آپ نے وضاحت کرتے ہوئے بیان کیا کہ انسان کا قلب کہیں یا روح کہیں اس کی حیثیت ایک آئینے کی طرح ہے جس کو اگر صاف کیا جائے تو پھر اس پر علوم کی بارش ہوتی ہے۔ ہم بھی اس کو استعمال کرتے ہیں، ہر آدمی اس کو استعمال کرتا ہے، اپنے اندر موجود جو کیفیات ہیں انسان کی وہ محسوس ہوتی ہیں۔ کسی کے لیے مثلاً میرے اندر محبت ہے، کسی سے نفرت ہے، یا میرے اندر خوف ہے وغیرہ۔ یہ ساری چیزیں میں محسوس کرتا ہوں۔ اسی علم کی وجہ سے، قلب کے ذریعے سے، روح کے ذریعے سے، تو یہ روح ذریعہ ہے علم کا، الہی علوم کا۔ اگر اس کو صاف کیا جائے اور پاک کیا جائے۔ اس کو پاک اور صاف کیسے کیا جائے گا؟ اسی کا نام ہمارے دینی علوم میں تزکیہ ہے۔ یعنی تزکیہ کیا جائے گا پھر پاک ہو گا پھر اس میں خدا کی طرف سے علم کی بارش ہو گی۔

انہوں نے کہا: یہ جو عارف ہے یہ قلب کو صاف کرتا ہے پھر اس کے ذریعے سے کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے، جہان کا مشاہدہ کرتا ہے۔ جو کچھ وہ دیکھتا ہے اس کو بیان کرتا ہے مثلاً یہ کائنات اس طرح سے ہے، خدا کا فعل اس طرح سے ہے۔ ملائکہ کا کام اس طرح سے ہے۔ یہ جو بھی بیان کرتا ہے وہ عرفان نظری ہے کیوں کہ وہ اپنا مشاہدہ بیان کر رہا ہے اور عرفان عملی میں مشاہدہ کرنا ہے۔

اب یہ تزکیہ کیسے کیا جائے تو یہ عرفان عملی ہے۔ اسی کو سیرو سلوک بھی کہتے ہیں، اسی کو عرفان عملی بھی کہتے ہیں، اسی کو تصوف بھی کہتے ہیں۔ یعنی اگر تھیوری ہو تو اسے عرفان نظری کہتے ہیں اور عمل ہو تو اس کو عرفان عملی کہتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا: عرفان اور تصوف میں فرق ہے یہ فرق امام خمینی رح اور شہید مرتضیٰ مطہری رح نے بیان کیا تھا۔ نظری حد تک تھیوری کی حد تک ہو تو اس کو عرفان کہتے ہیں۔ جب وہ عملی بن جائے تو اس کو تصوف کہتے ہیں۔ یہ بنیادی فرق ہے۔

آج ہم دیکھتے ہیں کہ اس کے کچھ اصول کیا ہیں؟ ان کے آداب کیا ہیں؟ اس عرفان کا اور تصوف کا جو سب سے بنیادی اصول ہے وہ وحدت الوجود ہے ۔ کیونکہ یہ انتہائی اہم اور مشکل ترین مفہوم ہے سمجھنے کے حوالے سے میں کوشش کرتا ہوں کہ اس کو آسان ترین طریقے پر بیان کروں۔ تو وہ جو ہماری فطری زبان ہے بغیر اصطلاحات کے ہم سمجھ لیں۔ اس جہاں میں موجودات عقلی طور پہ دو قسم کے ہو سکتے ہیں: ایک وہ موجود کہ جس کا وجود اس کا اپنا ہو کسی غیر نے اسے وجود نہ دیا ہو۔

اب جس کا اپنا وجود ہو گا وہ ہمیشہ رہے گا اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور دوسرا موجود وہ ہے کہ جس کا وجود اپنا نہیں ہے۔ کسی غیر نے دیا ہے۔ مثلاً روشنی کو وجود بجلی نے دیا ہے۔ روشنی کا اپنا کوئی وجود نہیں ہے۔ یہ بجلی کا اظہار ہے۔ اسی طرح سے ہمیں سورج کی روشنی نظر آئے تو یہ سورج کا اظہار ہے تو جس کا وجود اپنا نہ ہو اس کو ہم موجود نہیں کہتے بلکہ یہ اس وجود کا اظہار ہے جس نے اس کو وجود دیا ہے اور جس کا وجود اپنا ہے وہ صرف خدا کی ذات ہے۔ اس لئے اسی کا وجود ہے کسی اور کا وجود نہیں ہے باقی جتنی مخلوقات ہیں کیوں کہ خدا نے ان کو وجود دیا ہے اس لۓ وہ اللہ کے وجود کا اظہار ہیں، آیات خدا ہیں۔ جتنی بھی مخلوقات ہیں سب آیات خدا ہیں وہ علیحدہ موجود نہیں رکھتی ہیں۔

تو اس طرح سے ہم سمجھیں تو شاید آسان ہو ہمارے لۓ وحدت الوجود کہ وجود اس کو کہا جاتا ہے جس کا وجود اپنا ہو جس کا وجود اپنا نہ ہو تو اس کو ہم وجود نہیں کہیں گے بلکہ وہ اصل وجود کا اظہار ہے تو یہ ساری کائنات اللہ کے وجود کا اظہار ہے۔ اصل وجود صرف ایک ہے اور وہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا وجود ہے۔ یہ تصوف اور عرفان کا پہلا اصول ہے۔

دوسرا اصول ان کا عشق ہے یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ سے اپنے قلب کا رابطہ جوڑنا یعنی جب تک یہ رابطہ نہیں جڑتا اللہ کی طرف سے اس پر علوم کی بارش نہیں ہو گی۔ تو خدا اور بندے کے درمیان رابط یہ عشق اور محبت ہے، یہ چاہت ہے، یہ مائل ہونا ہے، خدا کی طرف توجہ کرنا ہے ہمیشہ کے لیے۔ جب انسان خدا سے محبت کرتا ہے اس کا دل کا رخ، اس کے قلب کا رخ خدا کی طرف ہو جاتا ہے پھر وہاں سے علم حاصل ہونا شروع ہوتا ہے۔ تو یہ دوسرا اصول ہے تصوف کا جو عشق اور محبت ہے۔ ظاہر ہے محبت کا جو اعلیٰ درجہ ہے اس کو عشق کہتے ہیں۔

پروگرام کے اختتام پر انجینئر صاحب نے انتہائی احسن انداز میں درس کے شرکاء کے سوالات کے جوابات دیئے اور دعا کروائی۔

دنیا بھر سے پروگرام میں شرکت کرنے والے شرکاء میں سے جن شہروں کے شرکاء کو سوالات کا موقع ملا ان میں شیفیلڈ انگلینڈ، کراچی پاکستان، جرمنی، دوبئی، کوٹلی پاکستان، اسلام آباد پاکستان اور سرگودھا پاکستان شامل تھے۔

پروگرام میں ہر طبقہ کے انسان کو شرکت کا پورا موقع دیا جاتا ہے اور تسلی بخش جواب ملنے تک ڈسکشن جاری رہتی ہے۔

مکمل درس ریوائیول کے یو ٹیوب چینل پر اور فیس بک پر موجود ہے اور لائیو پروگرام اٹینڈ کرنے کے لیے زوم لنک جوائن کیجئے۔

انجینئر سید حسین موسوی(سندھ ) سے لائیو سوال کرنے کے لئے زوم درس جوائن کیجیے۔

http://www.youtube.com/c/revivalchanel

http://www.facebook.com/revivalchanel

ZOOM ID 3949619859

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 8 =