۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
تصاویر/ بازدید حجت‌الاسلام والمسلمین سید حسن ظفر نقوی از خطاب معروف پاکستان از خبرگزاری حوزه

حوزہ / پاکستان کے معروف خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن ظفر نقوی نے کہا کہ جب تک ہم اپنی قومی و مذہبی شناخت کے ساتھ سیاست میں داخل نہیں ہوں گے تب تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،پاکستان کے معروف خطیب و عالم دین حجۃ الاسلام والمسلمین سید حسن ظفر نقوی صاحب ایران تشریف لائے۔ اس موقع پر انہوں نے حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی آفس کا وزٹ کیا اور نمائندہ حوزہ نیوز نے ان سے ایک انٹرویو لیا ہے۔ جو خلاصۃً قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے:

کسی بھی ملک کے معروضی حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اگر دیکھا جائے تو مختلف اسلامی ممالک کی ثقافت بھی الگ الگ ہے۔ الجزائر میں بھی مسلمان ہیں لیکن ان کا لباس، رہنا سہنا، کھانا پینا وغیرہ سب الگ ہے، مصر سوڈان، اسی طرح ہمیں اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے کہ برصغیر کا اپنا ایک مزاج ہے، ایک ساخت ہے۔ جغرافیائی بھی، موسمی بھی اور تاریخی بھی۔

تصاویر دیکھیں :

پاکستان کے معروف خطیب علامہ سید حسن ظفر نقوی کا حوزہ نیوز ایجنسی کا دورہ

مسلمان یہاں پر چونکہ اکثریت میں نہیں تھے اور وہ مشرکوں کی زمین پر یا تو تلوار کے زور پر فاتح بن کر آئے یا یہاں موجود لوگوں کے زخموں کا مرہم بن کر آئے۔ تو اب علماء کرام نے اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے جہاں تک ان کی رسومات کو صحیح کر سکتے تھے شرک سے الگ کرتے ہوئے ان رسومات کو جاری رکھا، ان پر کام کیا۔ پھر چونکہ وہاں پر کوئی مذہبی سیاسی تحریک نہیں تھی بلکہ مغلوں کی بادشاہت و ملوکیت تھی تو اس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ جس زمانے میں عراق، ایران میں سیاسی تحریکیں ہوئیں تو جب علماء قربانیاں دے رہے تھے مثلا انیسویں صدی کے شہداء جیسے تقی شیرازی، میرزا شیرازی، موسی خیابانی، مرزا کوچک خان جنگلی کا زمانہ تو وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔ تو وہاں پہلے مرحلے میں ہندو، سکھ، مسلمان اور مسلمانوں میں بھی اہل تسنن پھر شیعہ۔ تو اس وقت شیعوں کا سب سے بڑا مسئلہ ان کی بقا کا تھا کہ تشیع کو کیسے بچایا جائے۔

پھر حضرت سید دلدار علی غفران مآب کے زمانے میں یہ تحولات ایجاد ہوئے اور یہ ہندوستان کے پہلے مجتہد اور مرجع تھے جن کا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے وہاں جمعہ و جماعت قائم کی۔ان کے بیٹے سب مجتہد اور مرجع، پھر ان زحمات کے طفیل ایک زمانہ آیا کہ لکھنؤ ایک علمی مرکز بن کر سامنے آیا۔

سنہ 63ء یا 64ء میں جب امام راحل (رہ) کے توسط سے "ولایت فقیہ" کی اصطلاح معروف ہوئی حالانکہ اس سے پہلے یہ نظام ایران کے مختلف علاقوں کے ساتھ ساتھ ہندوستان میں بھی سلطان العلماء کے زمانے میں "اوَد" کے زمانۂ حکومت میں قائم ہوا۔ سلطان العلماء کے ہاتھ میں اختیار تھا حتی کہ نواب تک نے یہ کہہ دیا تھا کہ میرے حکم کے خلاف اگر سلطان العلماء کا فتویٰ آئے گا تو سلطان العلماء کے فتوے پر عمل کیا جائے۔ یعنی قضاوت سے لے کر تمام چیزوں تک پورا نظام ایک فقیہ کے ہاتھ میں تھا۔ ہاں فقط "ولایت فقیہ" کی اصطلاح نہیں تھی۔ اسی طرح "طبرستان اور دیلم" میں معصومین علیہم السلام کے بعد پہلی حکومت مقامی طور پر خاندانِ اہل بیت (ع) میں سے"امام سید ابو محمد اطروش" نے قائم کی تھی۔ جن کا مزار بھی "چالوس" میں ہے۔ تو ایسی مثالیں ہمیں ملتی ہیں جہاں فقہاء نے فقہِ تشیع کے تحت حکومتیں قائم کیں۔

اسی طرح ہندوستان میں بھی اَوَد کے دور میں حوزہ علمیہ لکھنؤ نے یہ کام کیا کہ پورے ہندوستان میں علماء کرام کو پھیلا دیا۔ سب سے پہلے مجالس کی صورت میں، خطیبوں کو آمادہ کر کے بھیجا جاتا تھا، علماء و خطباء کشمیر تک جاتے تھے۔ تو اس وقت کا انقلاب "تشیع کو بچانا" تھا یعنی یہ کہ جہاں تک ہو سکے شیعیت کو بچایا اور تشیع کو پھیلایا جائے۔

اب جب ہندوستان و پاکستان کا استقلال اور پارٹیشن ہوئی تو تشیع کا علمی نقصان بہت زیادہ ہوا۔ چونکہ حوزاتِ علمیہ کے بانی نوابین تھے ان کا زمینداری سسٹم راتوں رات ختم ہو گیا تھا تو جب یہ ختم ہو گیا تو بانی نہ رہے اور حوزاتِ علمیہ ویران ہو گئے، بڑے بڑے علماء ہجرت کر گئے۔ البتہ اب الحمد للہ دوبارہ نشأتِ ثانیہ ہو رہی ہے۔

دوسری بات یہ ہوئی کہ جب پاکستان بنا تو وہاں پہلے سے اسلامی جماعتیں موجود تھیں، جماعتِ اسلامی، جے یو آئی وغیرہ تو وہ شروع سے سیاست میں موجود رہے ہیں۔ اس کے برعکس شیعوں نے سیاست کو "شجرۂ ممنوعہ" سمجھ لیا تھا کہ سیاست مذب کے خلاف ہے۔ اب پاکستان میں سب بڑے عہدوں پر فائز ہونے کے باوجود ان کی خدمات دوسری پارٹیاں لے رہی تھیں لیکن شیعہ علماء سیاست سے دور ہونے کی وجہ سے ان سے دور تھے۔

جب انقلابِ اسلامی آیا تو دو فکریں ٹکرا گئیں۔ ایک طرف صدیوں کی فکر تھی کہ "مذہب کا سیاست سے تعلق نہیں ہے" اور اب دوسری طرف "انقلابِ اسلامی" نے ایک نئی فکر دی۔ تو سب سے پہلے شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے یہ کام شروع کیا کہ جب تک ہم اپنی قومی و مذہبی شناخت کے ساتھ سیاست میں داخل نہیں ہوں گے تب تک ہمارے مسائل حل ہونے والے نہیں ہیں۔

اب جب انقلاب اسلامی آیا تو شیعہ و سنی سب حامی تھے، سب امام خمینی (رہ) وغیرہ کی تصویریں لے کر گھوم رہے تھے تو یہ چیز استعمار کو کب پسند آنی تھی، اور وہ کیسے چھوڑ دیتا، استعمار نے دیکھا کہ پاکستان میں کروڑوں کی تعداد میں شیعہ رہتے ہیں لہذا یہ بہت بڑا تشیع کا مرکز ہے۔

ایران سے شاہ کے جانے کے بعد سعودی عرب اس کا "پولیس مین" بن گیا اور اب اسے ایسی طاقت چاہئے تھی جو شیعوں کو کاؤنٹر کرے جس کے لئے اس نے دہشت گرد وجود میں لائے۔ اب شہید علامہ عارف حسین الحسینی نے اس بات کو درک کیا اور انہوں نے لاہور میں جلسہ بلوایا جہاں سیاست میں عمل دخل کا بھی اعلان کیا اور وہی چیز ان کی شہادت کا بھی باعث بنی۔ اب تشیع کی سیاست اور سیاسی شعور میں کم تجربہ کاری اور ایجنسیوں کے دباؤ کے وجہ سے نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارے اندر انتشار پڑنا شروع ہو گیا، مسائل در مسائل حتی کہ ہمارے نظریاتی گروہوں میں بھی تقسیم بندی شروع ہو گئی۔ تو یعنی مسائل کی شناخت مشکل ہو گئی، استعماری گروہوں نے ہمیں تقسیم کر کے رکھ دیا۔

آج صورتحال یہ ہے کہ پہلے سے زیادہ بڑے دشمن ہیں اور زیادہ تعداد میں بھی ہیں، دہشت گردی کے عنوان سے آپ دیکھ لیں، سیاست کے عنوان سے دیکھ لیں، پاکستان کو ناصبی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے یعنی آج حالات پہلے سے زیادہ خراب تو ہیں لیکن اس کے مقابلے میں مثبت نکات یہ ہیں کہ سب سے پہلے تو شعور بہت اوپر آ گیا ہے جیسے اب ہر آدمی کو یہ بات تو سمجھ آ چکی ہے کہ ہمارا اصلی دشمن "استعمار" ہے تو اس وقت جیسے اگر کہیں کہ غیبی مدد سے موجودہ صورتحال میں ایک موقع ہمیں ملا ہے البتہ کسی شخص کی طرف اشارہ نہیں ہے چونکہ سب کو پتا ہے کہ یہ "مہرے ہوتے ہیں اور ان کے اپنے اختیار میں کچھ نہیں ہوتا" تو جیسا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ "یومِ قُدس" صرف شیعہ مناتے ہیں اور کوئی نہیں مناتا۔ اب لگ بھگ دو سالوں سے اہل سنت میں بھی بے چینی پیدا ہو رہی ہے اور وہ یہ بات اپنے جلسوں میں بھی کہتے ہیں کہ "بیت المقدس کیا ہمارا نہیں ہے؟"۔

تو الحمد للہ یہ سب پاکستانی علماء کی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔ اپ یوم القدس میں ہر جگہ "مردہ باد امریکہ" کا نعرہ لگایا جاتا ہے۔ پہلے پوری دنیا کی ایجنسیاں ہم پر متمرکز تھیں کہ ان کو کچلنا ہے اور پاکستان میں ہم فکری طور پر، نظریاتی طور پر اور معاشی طور پر بھی کمزور بھی تھے اور انہیں پتا تھا کہ ان پر اٹیک کرنا آسان ہے، انہیں ڈرانا دھمکانا بھی آسان ہے، گرفتار کرو، لاپتا کرو، مارو، ٹارگٹ کلنگ کرو۔ سب کچھ کر کے انہوں دیکھ لیا۔ ہم اس مرحلے سے الحمد للہ نکل گئے۔

آج صورتحال یہ ہے کہ "مردہ باد امریکہ" دیواروں پر لکھنا کوئی مشکل کام نہیں ہے چونکہ یہ ہماری قربانیاں تھیں اور سب آج ہمارا نعرہ لگانے پر مجبور ہیں، چونکہ آج سب کو معلوم ہو گیا ہے کہ ہمارا اصل دشمن ہے کون ہے؟! یہ امریکہ مردہ باد کا نعرہ لگنا اور افغانستان میں سیاسی تبدیلی آنا (امریکہ کے جانے کی صورت میں) تو یہ صورتحال قدرت نے ہمیں بنا کر دی ہے اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور اس لہر کو پروموٹ کرنا چاہئے، ابھی تک ہم ایک قدم آگے بڑھے تھے تو اب پچاس قدم آگے بڑھنا چاہئے، اپنی نہضت اور تحریک کو آگے لے جانا چاہئے، اپنے منبر اور جلسات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے، رہبر معظم کے ارشادات اور ان کی رہنمائی میں سب کو اکٹھا آگے بڑھنا چاہئے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .