۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
ادیان و مذاہب یونیورسٹی قم کے سربراہ کا جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور کا دورہ

حوزہ/ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں شاندار اور جدید ترین لائبریری دیکھ کر خوشی ہوئی، جو قومیں کتاب سے وابستہ ہو جاتی ہیں، وہ کبھی دشمن سے شکست نہیں کھا سکتیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں جامعہ عروۃ الوثقیٰ کا وجود پاکستانی عوام کیلئے کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لاہور/ اسلامی جمہوریہ ایران کے ممتاز عالم دین و ادیان و مذاہب یونیورسٹی قم کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید ابوالحسن نواب کی سربراہی میں علماء کے وفد نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کا دورہ کیا اور سربراہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ علامہ سید جواد نقوی سے خصوصی ملاقات کی۔ علماء کے وفد کو جامعہ کے مختلف شعبہ جات کا دورہ کرایا گیا۔ علامہ سید جواد نقوی نے جامعہ کے مختلف شعبہ جات کے حوالے سے وفد کو تفصیلی بریفنگ دی۔ ملاقات میں دینی مدارس کے تعلیمی نظام، اُمت کی رہبری میں مدارس کا کردار، تبلیغِ دین سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تصاویر دیکھیں: ادیان و مذاہب یونیورسٹی قم کے سربراہ کا جامعہ عروۃ الوثقیٰ لاہور کا دورہ

اس موقع پر علمائے کرام نے جامعہ عروۃ الوثقیٰ کے تعلیمی نظام کو شاندار اور مثالی قرار دیا۔ وفد کے ارکان نے دین کیلئے علامہ سید جواد نقوی کی کوششوں کو بھی سراہا۔ وفد کے ارکان کا کہنا تھا کہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں شاندار اور جدید ترین لائبریری دیکھ کر خوشی ہوئی، جو قومیں کتاب سے وابستہ ہو جاتی ہیں، وہ کبھی دشمن سے شکست نہیں کھا سکتیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں جامعہ عروۃ الوثقیٰ کا وجود پاکستانی عوام کیلئے کسی نعمت عظمیٰ سے کم نہیں۔

علامہ سید جواد نقوی نے کہا کہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ پاکستان میں وحدت اسلامی کیلئے مصروف عمل ہے، یہاں تمام مکاتب فکر کے جید علمائے کرام اور زعماء بھی دورے کرتے رہتے ہیں، اور ہماری ہمیشہ سے کوشش رہی ہے کہ امت کیخلاف ہونے والے بیرونی سازشوں کا مقابلہ باہمی اتحاد و وحدت کیساتھ کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ عروۃ الوثقیٰ میں دینی کیساتھ دنیاوی اور جدید تعلیم بھی دی جا رہی ہے، جس سے یہاں سے فارغ التحصل طالب علم معاشرے کا کارآمد اور مفید شہری بن کر نکلتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو صالح قیادت کی ضرورت ہے اور جامعہ عروۃ الوثقیٰ یہ صالح افراد کی تیاری میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .