ہفتہ 22 اگست 2026 - 21:57
مولانا نقی مہدی زیدی: 9 ربیع الاول؛ امام زمانہ کی امامت کا آغاز، ہمیں ایمان تازہ کر کے اپنی ذمہ داریوں کو پہچاننا ہوگا

حوزہ/امام جمعہ تاراگڑھ ہندوستان مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ ماہ ربیع الاول شروع ہوچکا ہے ایام عزاء حسینی ختم ہو گئے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں چند لمحوں کے لیے رک کر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: ان دو مہینوں نے ہمیں کیا دیا؟

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امام جمعہ تاراگڑھ ہندوستان مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ ماہ ربیع الاول شروع ہوچکا ہے ایام عزاء حسینی ختم ہو گئے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں چند لمحوں کے لیے رک کر ہمیں خود سے پوچھنا چاہیے: ان دو مہینوں نے ہمیں کیا دیا؟ ہم پہلی محرم کو جس حالت میں تھے، آج بھی وہیں کھڑے ہیں یا کچھ آگے بڑھے ہیں؟ ہمارے اندر کون سی تبدیلی آئی؟ ہماری کون سی کمزوری ختم ہوئی؟ کون سا گناہ چھوٹا؟ کون سی عبادت بہتر ہوئی؟ کون سا اخلاق سنورا؟

اور اگر دو مہینے مسلسل حسین علیہ السّلام کو سننے کے بعد بھی ہمارے اندر کچھ نہیں بدلا، تو سوال عزاداری پر نہیں، ہمارے استفادے پر ہے۔ بارش بہت برسے، لیکن کوئی برتن الٹا رکھا ہو تو بارش کا قصور نہیں کہ وہ خالی رہ گیا۔ کربلا فیض کا سمندر ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ ہم اس سمندر سے کتنا لے کر نکلے ہیں، امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے منقول ہے: مَنْ حَاسَبَ نَفْسَهُ رَبَحَ، وَمَنْ غَفَلَ عَنْهَا خَسِرَ، جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے وہ فائدے میں رہتا ہے اور جو اس سے غافل رہتا ہے وہ نقصان اٹھاتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام نے مدینہ سے نکلتے وقت اپنے قیام کا مقصد بیان کرتے ہوئے فرمایا: إِنِّي لَمْ أَخْرُجْ أَشِرًا وَلَا بَطِرًا وَلَا مُفْسِدًا وَلَا ظَالِمًا، وَإِنَّمَا خَرَجْتُ لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ فِي أُمَّةِ جَدِّي، میں نہ سرکشی کے لیے نکلا ہوں، نہ خود نمائی کے لیے، نہ فساد پھیلانے کے لیے اور نہ ظلم کرنے کے لیے، میں تو اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں۔ یہاں یہ لفظ بہت اہم ہے: لِطَلَبِ الْإِصْلَاحِ، حسینؑ کا مقصد اصلاح ہے۔ تو پھر عزاداری کا ایک فطری نتیجہ بھی اصلاح ہونا چاہیے۔

جس حسین علیہ السلام کا مقصد امت کو بدلنا تھا، کیا اس حسینؑ کی مجلس ہمیں نہیں بدلے گی؟

جس حسینؑ نے پورے معاشرے کی اصلاح کے لیے جان دے دی، کیا ہم ان کے غم میں دو مہینے گزار کر اپنی ایک عادت بھی نہیں بدل سکتے؟ یہاں سے محاسبہ کا معیار مل جاتا ہے: دیکھیں کہ ہمارے اندر کتنی اصلاح ہوئی۔

پہلا سوال: ہمارا اللہ سے تعلق کتنا بدلا؟ کربلا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہاں ہر چیز اللہ کے لیے ہے۔ حسینؑ کا سفر اللہ کے لیے۔ حسینؑ کی قربانی اللہ کے لیے۔ اصحاب کی وفاداری اللہ کے لیے۔ زینبؑ کا صبر اللہ کے لیے اور عاشورا کے دن میدانِ جنگ میں بھی نماز اللہ کے لیے۔

دوسرا سوال: ہمارے گناہوں میں کتنی کمی آئی؟ یہ شاید محاسبہ کا یہ سب سے سخت سوال ہے۔ ہم حسینؑ کے لئے روئے، لیکن کیا حسینؑ کی خاطر گناہ چھوڑا بھی؟

تیسرا سوال: میرے اخلاق میں کیا تبدیلی آئی؟ یہ امتحان گھر میں ہوتا ہے۔ مجلس میں ہم سب مؤدب ہوتے ہیں۔ امام بارگاہ میں آواز دھیمی ہوتی ہے۔ علم کے سامنے سر جھکتا ہے۔ ذاکر مصیبت پڑھتا ہے تو دل نرم ہو جاتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ گھر پہنچنے کے بعد وہ نرمی باقی رہتی ہے یا نہیں؟ تب معلوم ہوگا کہ مجلس صرف کان تک نہیں پہنچی، دل میں اتری ہے۔

چوتھا سوال: کیا ہمارے دل بدلے؟

کربلا کی ایک عظیم تربیت رقتِ قلب ہے، حسینؑ پر رونے والا دل اگر کسی یتیم کو دیکھ کر نہ پگھلے تو کچھ کمی ہے۔ علی اصغرؑ کی مصیبت پر رونے والی آنکھ کسی بھوکے بچے کو دیکھ کر بے حس نہیں رہ سکتی، زینبؑ کی اسیری سننے والا کسی مظلوم کی فریاد سے بے نیاز نہیں رہ سکتا، عباسؑ کی وفا پر آنسو بہانے والا اپنے وعدے میں بے وفائی کیسے کر سکتا ہے؟ کربلا کے ہر کردار کے ساتھ ایک اخلاقی قدر وابستہ ہے۔ عباسؑ، وفا۔ علی اکبرؑ، جوانی میں پاکیزگی۔ قاسمؑ، حق کے لئے آمادگی۔ حبیبؑ، بڑھاپے میں وفاداری۔ زینبؑ، مصیبت میں استقامت۔ حسینؑ، خدا کے سامنے مکمل تسلیم۔

اب سوال یہ ہے: ہم نے کرداروں پر آنسو تو بہائے، ان کے کردار میں سے کتنا اپنے اندر اتارا؟

حجۃالاسلام مولانا نقی مہدی زیدی نے کہا کہ ٨ ربیع الاول غم کا یہ دن گزرنے کے بعد ۹ ربیع الاول کی تاریخ آتی ہے، جسے حضرت ولیِ عصر عجّل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی امامت کے آغاز کی مناسبت سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

یہاں ایک بات بہت اہم ہے: ایامِ عزا ختم ہونے کا مطلب ایامِ بندگی کا ختم ہونا نہیں ہے۔ لباسِ عزا بدل سکتا ہے، لیکن حسینؑ سے لیا ہوا سبق نہیں بدلنا چاہیے۔ آنکھوں کے آنسو تھم سکتے ہیں، لیکن دل کا تقویٰ نہیں تھمنا چاہیے۔ مجالس کا سلسلہ کم ہو سکتا ہے، لیکن نماز، حیا، پاکیزگی اور اطاعتِ خدا میں کمی نہیں آنی چاہیے۔ بلکہ یہی ۹ ربیع الاول کا ایک امتحان بھی ہے۔

مولانا نقی مہدی زیدی نے مزید کہا کہ ٨ ربیع الاول کو امام حسن عسکری علیہ السلام کے غم میں اپنے امام زمانہؑ سے عہد کریں، اور ۹ ربیع الاول کو اس عہد کی تجدید کریں کہ آقا! ہم نے آپ کے جد حسینؑ کا غم منایا ہے، اب کوشش کریں گے کہ ہماری زندگی بھی حسینؑ کی تعلیمات کی گواہی دے۔ عزا سے تقویٰ لے کر نکلیں، مجلس سے نماز لے کر نکلیں، ماتم سے وفا لے کر نکلیں، کربلا سے حریت لے کر نکلیں اور امام حسینؑ سے ایسا تعلق لے کر نکلیں جو محرم کے چاند سے شروع ہو کر ربیع کے چاند پر ختم نہ ہو جائے۔ حسینؑ صرف محرم و صفر کے امام نہیں، حسینؑ پوری زندگی کے امام ہیں؟ ٩ ربیع الاول، امام زمانہ (عج) کی امامت کا آغاز اور ان سے تجدیدِ عہد کا دن ہے، ہمیں اس دن اپنے ایمان کو تازہ کرنا چاہیے اور اپنی ذمہ داریوں کو پہچان کر امام علیہ السلام کی نصرت کے لئے تیار رہنا چاہیے، اس عظیم اور مبارک دن کو عقلمندی کے ساتھ منانا چاہیے اور ایسی کسی بھی حرکت سے اجتناب کرنا چاہیے جو امت میں تفرقہ ڈالے اور جو حضرات معصومین (علیہم السلام) کی مرضی کے خلاف ہو۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha