حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃالاسلام مولانا سید طیب رضوی نے سونہ وار کے ہوٹل گولڈن ٹولپ میں متحدہ مجلس علماء جموں و کشمیر (ایم ایم یو) کے زیر اہتمام ایک روزہ علماء اجلاس اور سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا اللہ، قرآن مجید، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور قبلہ ایک ہے، اس لیے فقہی و تاریخی اختلافات کو باہمی نفرت کا سبب نہیں بننا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ شیعہ مسلمان اپنی تاریخ، بالخصوص کربلا، امام حسین علیہ السلام، اہل بیت علیہم السلام، حضرت عباس علیہ السلام، حضرت زینب سلام اللہ علیہا اور اصحاب امام حسین علیہ السلام کی قربانیوں کو فراموش نہیں کر سکتے، تاہم تاریخ یاد رکھنا اور تاریخ کی بنیاد پر نفرت پیدا کرنا دو الگ چیزیں ہیں۔ نوجوان نسل کو اپنی تاریخ علم، وقار اور ذمہ داری کے ساتھ سکھانے کی ضرورت ہے۔
مولانا سید طیب رضوی نے شہید آیت اللہ العظمی خامنہ ای اور آیت اللہ العظمی سیستانی کی جانب سے اتحادِ امت کے پیغامات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اتحاد کا مطلب اپنے عقائد سے دستبردار ہونا نہیں، بلکہ ایک دوسرے کا احترام اور مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انہوں نے قرآن مجید کی آیت «وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا» کا حوالہ دیتے ہوئے عملی اقدامات پر زور دیا۔
انہوں نے ایم ایم یو میں آئی ٹی اور سوشل میڈیا سیل قائم کرنے، گمراہ کن یا اشتعال انگیز مواد کے خلاف فوری کارروائی اور جرائم سے متعلق معاملات سائبر پولیس کے حوالے کرنے کی تجویز دی۔ نوجوانوں کے لیے ایک خفیہ مذہبی رہنمائی ہیلپ لائن اور خاندانی تنازعات کے حل کے لیے مؤثر مشاورتی نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے خواتین کی مؤثر نمائندگی، خصوصاً شادی، طلاق اور خاندانی مسائل سے متعلق امور میں ان کی شمولیت کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایم ایم یو کو سری نگر تک محدود رہنے کے بجائے جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں باقاعدگی سے پروگرام منعقد کرنے چاہئیں۔
اختتام پر انہوں نے کہا کہ ہر مسلم مکتب کو اپنے بچوں کو اپنے عقائد، تاریخ اور روایات سکھانے کا حق حاصل ہے۔ ہم اپنی تاریخ اور عقائد محفوظ رکھتے ہوئے بھی ایک دوسرے کا احترام، پرامن بقائے باہمی اور امت مسلمہ کا اتحاد برقرار رکھ سکتے ہیں۔









آپ کا تبصرہ