حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجمع علماء و خطباء حیدرآباد نے کامیڈین انکیت اگنیہوتری کی جانب سے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی، شہیدِ راہِ اسلام حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ایؒ کے خلاف مبینہ توہین آمیز اور تضحیک آمیز الفاظ کے استعمال کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری معذرت اور وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ کسی دینی رہنما، شہیدِ اسلام اور کروڑوں محبانِ اہلِ بیتؑ کے عقائد و جذبات سے وابستہ شخصیت کی تضحیک کو آزادیِ اظہار یا کامیڈی کا نام نہیں دیا جا سکتا۔ بیان میں لکھنؤ کے مومنین و مسلمین کے دینی جذبات کو نشانہ بنائے جانے پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
مکمل بیان حسب ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
کامیڈین انکیت اگنیہوتری کی جانب سے رہبرِ معظم انقلاب اسلامی، شہیدِ راہِ اسلام حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای اعلیٰ اللہ مقامہٗ کے خلاف انتہائی تضحیک آمیز اور توہین آمیز الفاظ استعمال کیے جانے کی ہم سخت ترین الفاظ میں مذمت اور شدید احتجاج کرتے ہیں۔
کسی شہیدِ اسلام، دینی رہنما اور کروڑوں محبانِ اہلِ بیتؑ کے محبوب قائد کا مذاق اڑانا کامیڈی نہیں بلکہ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے والا انتہائی غیر ذمہ دارانہ طرزِ عمل ہے۔ اسی پروگرام میں لکھنؤ کے مومنین و مسلمین اور ان کے دینی جذبات کو بھی نشانہ بنایا جانا اس معاملے کی سنگینی کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
ہم واضح الفاظ میں کہتے ہیں کہ مذہبی آزادی اور آزادیِ اظہار کو مذہبی شخصیات کی توہین اور مسلمانوں کی تحقیر کا لائسنس نہیں بنایا جا سکتا۔ اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ، لیکن مقدسات اور کروڑوں انسانوں کے عقائد و جذبات کی تضحیک کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہونی چاہیے۔
ہم انکیت اگنیہوتری، پروگرام کے منتظمین اور متعلقہ پلیٹ فارم سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اس توہین آمیز طرزِ عمل پر فوری وضاحت اور غیر مشروط معذرت پیش کی جائے، بصورتِ دیگر متاثرہ افراد اور متعلقہ تنظیمیں آئینی و قانونی طریقے سے مؤثر احتجاج اور مناسب قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہیں۔
شہید آیت اللہ خامنہ ایؒ کی توہین اور لکھنؤ کے مومنین و مسلمین کی تحقیر پر ہمارا احتجاج واضح، دوٹوک اور ناقابلِ تردید ہے۔
مجمع علماء و خطباء حیدرآباد










آپ کا تبصرہ