حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ محمود رجبی نے گزشتہ شب ایران کے شہر قم کے عوامی اجتماع میں منعقدہ پروگرام ’’قرارگاہ مصباح الہدیٰ‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے استکبار مخالف جدوجہد اور اجتماعی کمال کے موضوع پر گفتگو کی۔
انہوں نے کہا: اجتماعی کمال فلسفۂ اجتماع کے اہم مباحث میں سے ایک ہے، جس پر شہید مطہری (رہ) اور آیت اللہ مصباح یزدی نے گفتگو کی ہے۔
حوزاتِ علمیہ کی اعلیٰ کونسل کے رکن نے کہا: اجتماعی کمال کے متعدد مراحل اور درجات بیان کیے گئے ہیں۔ ہمارے ثقافتی تناظر میں اس حوالے سے رہبرِ انقلابِ شہید (رہ) نے اسلامی انقلاب اور امام خمینی (رہ) کی تحریک کے مراحل کی وضاحت کی تھی۔ یہ سفر انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے شروع ہو کر جدید اسلامی تہذیب کی تشکیل پر منتج ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا: اس موضوع پر ایک دوسری تقسیم بھی موجود ہے، جس کے مطابق اجتماعی کمال کے پانچ مراحل ہیں: فرد سازی اور خود سازی، خاندان اور رشتہ داروں کی تربیت و تشکیل، معاشرے کی تشکیل، امت سازی، تہذیب سازی۔
مجلس خبرگانِ رہبری کی مجلسِ عاملہ کے رکن نے کہا: اس سفر کا آغاز فرد کی اپنی تربیت سے ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے: «إِنَّ اللَّهَ لَا یُغَیِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّیٰ یُغَیِّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ» ’’بے شک اللہ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلنا چاہے۔‘‘
انہوں نے کہا: کسی بھی اجتماعی تبدیلی کے لیے افراد کی اندرونی تبدیلی بنیادی شرط ہے۔ جب انسان کے باطن میں تبدیلی آتی ہے تو وہ معاشرے میں تبدیلی کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔
آیت اللہ رجبی نے مزید کہا: جب مسلمان جنگ سے واپس آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے جہادِ اصغر انجام دیا ہے۔ صحابہ نے پوچھا کہ جہادِ اکبر کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جہادِ اکبر، خود سازی ہے۔
امام خمینی (رہ) تعلیمی و تحقیقی ادارے کے سربراہ نے کہا: جہادِ اکبر، یعنی خود سازی جو تمام میدانوں میں کامیابی کے لیے بنیادی شرط ہے کیونکہ استکبار کے خلاف جدوجہد اسی وقت ممکن ہے جب انسان اپنے اندر کے شیطان سے لڑ کر اسے شکست دے چکا ہو۔
انہوں نے کہا: دشمن کی خاردار تاروں سے وہی گزر سکتا ہے جو اپنے نفس کی خاردار تاروں سے گزر چکا ہو۔ جب انسان اپنے نفس کی رکاوٹوں میں الجھا ہو تو وہ دشمن کی رکاوٹوں کو عبور کرکے اسے شکست نہیں دے سکتا۔










آپ کا تبصرہ