۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
علامہ عارف واحدی

حوزہ/ شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل نے کہا کہ دنیا میں کامیاب اور مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی علمی سائنسی ریسرچ میں دنیا کے ساتھ چلنے کی ہمت رکھتی ہیں اور جرأت و بہادری کے ساتھ اپنے وطن عزیز کا دفاع کرنے کا فن اور سلیقہ جانتی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،شیعہ علماء کونسل کے مرکزی سیکریٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے یوم تکبیر کی مناسبت سے ایک بیان میں کہا کہ ملک و قوم کےلئے یوم تکبیر بہت بڑی فتح و عظمت اور استحکام کا دن ہے، دشمن کے مقابلے میں ہمارے عزیز اور عظیم سائنسدانوں نے اپنی دفاعی قوت کو پوری طاقت کے ساتھ ثابت کر کے گیدڑ بھبھکیاں لگانے والے دشمنوں کے منہ پر طمانچہ رسید کیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کامیاب اور مضبوط قومیں وہی ہوتی ہیں جو اپنی علمی سائنسی ریسرچ میں دنیا کے ساتھ چلنے کی ہمت رکھتی ہیں اور جرأت و بہادری کے ساتھ اپنے وطن عزیز کا دفاع کرنے کا فن اور سلیقہ جانتی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ الحمد للہ پاکستان اپنی محنت،علمی ریسرچ،جرأت و شجاعت اور اپنے ملی اتحاد و انسجام کے ساتھ عالمی سطح پر اپنی دفاعی قوت اور اور ترقی و پیشرفت کے لئے اپنی خدا داد صلاحیتوں کا لوہا منوا چکا ہے آج ہمارا پیارا وطن قابل فخر ایٹمی طاقت ہے جس سے ہمارے دشمن خوفزدہ ہیں، ہم اپنی طاقت،قوت اور صلاحیت کے ساتھ دنیا کی مضبوط اور ایٹمی طاقت بنے ہیں ہم نے ایٹمی دھماکے کرنے میں سامراجی قوتوں کے دباؤ اور لالچ میں نہ آ کر ثابت کیا کہ ہم آزاد اور غیور قوم ہیں کسی کے دست بستہ غلام نہیں ہیں پوری قوم کو خاص کر قابل فخر سائنسدانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ دعا ہے کہ ہمارا وطن اور وطن کے مدافع جنہوں نے ترقی و استحکام کے لئے شب و روز ایک کردیا اور مسلسل جدوجہد کرتے ہوئے پوری قوم کا سربلند اور سرفراز کیا اسی طرح ہمیشہ کامیاب رہیں۔

اپنے بیان کے آخر میں علامہ عارف واحدی نےکہا کہ موجودہ دور کے عالمی چیلنجز کے مقابلے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم متحد و مضبوط اور منسجم رہیں مگر افسوس ہے کہ اس وقت وطن میں انتشار،افتراق اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک دوسرے کو پچھاڑنے اور نیچا دکھانے میں دن رات ایک کیے ہوئے ہیں عوام کا کوئی پرسان حال نہیں! عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے لیکن سال گذرنے کے باوجود ابھی تک حکومت اس مہنگائی کا ذمہ دار سابقہ حکومتوں کو قرار دے رہی ہے۔ یہ سوچنے کا مقام ہے اور سنجیدہ سؤال ہے کہ جب ہم اپنی عوام کو کوئی ریلیف نہ دے سکیں، ان کی فلاح و بہبود کے لئے کوئی قابل ذکر اقدام نہ کر سکیں تو فلسطین،کشمیر اور دیگر امت مسلمہ کی توقعات پر کیسے پورا اتریں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .