۱۶ تیر ۱۴۰۱ |۷ ذیحجهٔ ۱۴۴۳ | Jul 7, 2022
مولانا سید محمد اصغر زیدی 

مرحوم کی شہرت تشنگان علوم کو علم دین سے سیراب کرنے کی وجہ سے فقط اہل علم میں پائی جاتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،مولانا سید محمد اصغر زیدی، سابق مدرس مدرسہ سلطان المدارس لکھنؤ نے اپنے ایک بیان میں مولانا سید بیدار حسین نوراللہ مرقدہ الشریف کے حوالے سے کہا کہ مدرسہ سلطان المدارس کے تعلیمی  و تدریسی ساتھی ، بزرگ اور شفیق برادر حجۃ الاسلام والمسلمین عالیجناب مولانا سید بیدار حسین کی رحلت کی خبر 18/ ستمبر 2021ء کی صبح میں سنے کو ملی جس  کے بعد آنکھؤ کے سامنے اندھیرا چھا گیا اور کافی وقت تک کچھ سمجھ میں نہیں آیا ۔ موت حق ہے اور ہر ذی نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ 

موصوف خاموش اور گوشہ نشین عالم دین کہ جن کی شہرت تشنگان علوم کو علم دین سے سیراب کرنے کی وجہ سے فقط اہل علم میں پائی جاتی ہے۔ مولانا سید بیدار حسین ابن سید شاکر حسین مرحوم  11/ دسمبر 1947ء میں سرزمین گنگیرو ضلع مظفرنگر یوپی پر پیدا ہوئے۔ 

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے وطن ہی میں  مولانا سید رضا حسین نوگانوی سے حاصل کی پھر اس کے بعد دینی تعلیم کی غرض سے مولانا سید رضا حسین  صاحب مرحوم نے آپ کا داخلہ مدرسہ منصبیہ میرٹھ میں کرا دیا ، وہاں رہکر آپ نے جید اساتذہ سے کسب فیض کیا جن میں مولانا شبیہ محمد مظفرنگری، مولانا سید افضال حسین سرسوی، مولانا سید محمد ریحان امروہوی،  صدرالاساتذہ مولانا ابرار حسین امروہوی وغیرہ کے اسماء قابل ذکر ہیں۔ 

آپ مدرسہ منصبیہ میرٹھ سے درجہ عالم کی سند لیکر عازم لکھنؤ ہوئے اور مدرسہ ناظمیہ میں داخل ہوگئے ایک سال مدرسہ ناظمیہ میں جید اساتذہ سےکسب فیض کیا ۔  آپ نے سنہ 1964ء میں مدرسہ سلطان المدارس لکھنؤ میں داخلہ لینے کے بعد اپنے تعلیمی سفر کو جاری رکھا اور وہاں  کے مجرب اساتذہ کرام سے کسب فیض کیا جن میں مولانا سید کلب عابد نقوی طاب ثراہ لکھنؤی ، مولانا سید محمد صالح طاب ثراہ ، مولانا سید علی رضوی طاب ثراہ ، مولانا محمد مہدی زیدپوری، مولانا سید محمد رضوی طاب ثراہ  و۔۔۔ کے اسماء گرامی قابل ذکر ہیں۔ 

مولانا بیدار حسین صاحب نے مدرسہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ  شیعہ عربی کالج  لکھنؤ میں بھی  علمی مدارج کو بڑھانے کی غرض سے مولانا سعادت حسین خان، مولانا سید محمد صادق آل نجم المت و غیرہ سے کسب فیض کرتے رہے  اور وہاں سے عماد الادب، عمادالتفسیر وغیرہ کی اسناد حاصل کیں ۔ 

مولانا بیدار حسین صاحب نوراللہ مرقدہ الشریف نے سنہ 1971ء میں مدرسہ سلطان المدارس کی آخری سند صدرالافاضل حاصل کی پھر اس کے بعد دروس فقہ و  اصول  کی تکمیل کے لئے عازم نجف اشرف ہوئے اور  دربار   باب العلم مولائے متقیان حضرت امیرالمؤمنین  علی علیہ السلام میں حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ روح اللہ امام خمینی،   حضرت آیۃ اللہ العظمیٰ  آقائے خوئی ،   آیۃ اللہ حیدر عباس الہ آبادی  ہندی  و   فقیہ و استاد ادبیات عرب آقائے  محمد علی مدرس افغانی جیسے بزرگ  علماء سے پانچ سال کسب فیض کیا۔ 

موصوف  سنہ 1978ء میں نجف اشرف سے اپنے وطن واپس تشریف لائے  اور سنہ 1978ء میں آپ کو مدرسہ سلطان المدارس میں مدرس کی حیثیت سے منتخب کرلیا گیا۔  آپ نے پوری عمر اپنی مادر علمی میں سینکڑوں  شاگردوں  کی تعلیم و تربیت میں بسر کی۔  مولانا موصوف نے نہ تنہا مدرسہ سلطان المدارس میں  فریضہ تدریس انجام دیا بلکہ لکھنؤ کے  دیگر مدارس میں بھی تشنگان علوم آل محمد کو علم  دین سے سیراب کرتے رہے ہیں جن میں مدرسہ جامعۃ التبلیغ مصاحب گنج، شیعہ عربی کالج نخاس  اور مدرسۃ الواعظین لکھنؤ سر فہرست ہیں ۔ 

آپ جہاں مدارس میں درس و تدریس میں مصروف رہتے وہیں گھر پر بھی جویندگان علم کو   مختلف علوم کی تدریس کرتے رہتے تھے۔ آپ کے شاگردوں کی بہت بڑی تعداد ہے جن میں مولانا محمد حسن معروفی لندن، مولانا سید طیب رضا نقوی علیگڑھ یونیورستی،  مبلغ فرانس و افریقا مولانا سید عمران حیدر زیدی مرحوم پھندیڑوی،  مولانا محمد ابراھیم مدرس مدرسہ جامعۃ التبلیغ لکھنؤ ، مولانا مرزا شفیق حسین سانکھنوی، مولانا سید شان حیدر نمبردار پھندیڑوی، مولانا تصدیق حسین زیدپوری، پروفیسر کلیم اصغر سنبھلی، مولانا سید رضی حیدر پھندیروی ایران کلچرہاؤس، مولانا سید بلال کاظمی، پروفیسر مولانا نیر جلال پوری ،مولانا سید نقی حیدر  صدرالافاضل پھندیڑوی وغیرہ کے اسماء قابل ذکر ہیں۔

موصوف نے فریضہ تدریس کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے مختلف شہروں اور صوبوں میں ایام عزا اور ماہ مبارک رمضان میں  وظیفہ  تبلیغ دین مبین اسلام  کو بھی انجام دیتے رہے۔  

بالآخر اس  انتہائی پر سکون ، گوشہ نشین، علمی دنیا کی معروف   اور ہر دلعزیز شخصیت  نے 18/ ستمبر  2021ء  کو  ارا مڈیکل کالج  لکھنؤ میں داعی اجل کو لبیک کہہ دیا  اور چاہنے والوں کی ہزار آہ و بکا کے ہمراہ  کربلا ملکہ جہاں عیش باغ لکھنؤ میں سپرد خاک ہوگئے۔  

میں آخر میں ان کے فرزندندان:  آصف حسین ، عامر حسین، افضل حسین، تینوں  بچیوں اور  تمام اہل علم و شاگردوں کی خدمت میں تسلیت و تعزیت پیش کرتا ہوں اور رب کریم کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ اے مالک تمام پسماندگان خصوصا اہلیہ و فرزندان اور تمام عزیزو اقارب کو صبر جمیل و اجر جزیل عطا فرما ،مولانا کے درجات بلند فرما  اور جوار معصومین علیہم السلام میں جگہ عنایت فرما آمین یا رب العالعالمین۔ والسلام 

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
3 + 2 =