۲ اسفند ۱۴۰۲ |۱۱ شعبان ۱۴۴۵ | Feb 21, 2024
News ID: 377705
23 فروری 2022 - 12:32
رحیم پور ازغدی

حوزہ/ یہ نئے استعمار کا زمانہ ہے لیکن جب تک ہم یہ نہ سمجھ سکیں کہ نظریات و مفاہیم اور الفاظ و تصاویر کے اسلحے خانے سے مورد ہدف معاشرے کو کیسے نشانہ بنایا جائے بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ قدیم استعمار کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہوں ۔

ڈاکٹر حسن رحیم پور ازغدی

اردو ترجمہ :البلاغ : ادارہ فروغ ثقافت اسلامی پاکستان

حوزہ نیوز ایجنسی |عالمی میڈیا میں سافٹ پاور کی اصطلاح کو چند لوگوں سے منصوب کیا جاتا رہا ہے جس میں سے ایک جوزف نائی ہے کہ جس نے پہلی مرتبہ اس اصطلاح کو استعمال کیا اور اس سے متعلق نظریہ پردازی کی ۔

اُس نے ایک کتاب بنام سیاسی راہنما ،سافٹ پاور یا انفارمیشن پاور بھی لکھی ہے وہ یہ کہنا چاہتا ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ یہ نئے استعمار کا زمانہ ہے لیکن جب تک ہم یہ نہ سمجھ سکیں کہ نظریات و مفاہیم اور الفاظ و تصاویر کے اسلحے خانے سے مورد ہدف معاشرے کو کیسے نشانہ بنایا جائے بالکل ایسے ہی ہے جیسے آپ قدیم استعمار کے زمانے میں زندگی گزار رہے ہوں ۔

قدیمی استعمار یعنی جو جنگ و فوجی لشکر کشی کے دور پر مشتمل تھا جبکہ جدید استعمار یعنی کیسے کم سے کم خرچہ کرکے مد مقابل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اور نتیجہ حاصل کیا جائے؟۔

سافٹ پاور یعنی سینکڑوں باطل مفروضوں اور نظریات کے درمیان مورد ہدف معاشرے پر اور اسی طرح پوری دنیا کے معاشروں پر۔

تحقیق کرو یعنی دقیق طور پر کونسی ترجیحات حقیقی اور درست ہیں اور کونسی ترجیحات صرف تمہارے ذہنی خیالات ہیں ۔یعنی پہلے مرحلے میں خیالات کو حقیقت سے الگ کیا جائے ۔

آپ نے فٹبال میں دیکھا ہوگا کہ ٹیموں کے کوچ مقابل ٹیم کے نکات ضعف و قوت کو ویڈیو میں اپنی ٹیم کو دکھاتے ہیں تاکہ دقیق طور پر اُسکا توڑ نکال کر مقابل ٹیم کو شکست دی جاسکے ۔

سافٹ پاور سے استفادے کی پہلی شرط ذہانت و انٹیلی جنس پر مبنی ،مورد ہدف معاشرے کی دقیق شناخت ہے ۔

وہ ہمارے خلاف حد اقل ڈیڑ ھ سو سال سے ریسرچ میں مصروف ہیں جسکی بنا پر وہ بعض اوقات ہمارے معاشرے کے نکات قوت و ضعف کو ہم سے زیادہ بہتر اور بیشتر جانتے ہیں۔

کسی بھی معاشرے کا دماغ ہی اُسکا اصلی کنٹرول روم ہوتا ہے یہ ضروری نہیں کہ آپ دروازہ توڑ کر ہی داخل ہوں بلکہ جیسے عام لوگ دروازے سے داخل ہوتے ہیں آپ بھی وہیں سے داخل ہوں پھر اپنے دوست تلا ش کریں اور ایسی زبان تلاش کریں کہ وہ یہ سمجھیں کہ یہ اُن ہی کی زبان ہے ۔

اور جب آپ اُنکے کنٹرول روم میں پہنچ گئے تو پھر آپ اُنہیں آسانی کے ساتھ وہاں لے جاسکتے ہیں جہاں اُنہیں لے جانا آپکا ہدف تھا ۔

کوشش کرو کہ اُنکی دیدگاہ اور طرز تفکر کو تبدیل کرڈالو،اُنکے معیارات کو تبدیل کرڈالو،اُنکی حساسیت{مقدسات}کو بد ل ڈالو ،اُنکے اقدار کی ترجیحات کی فہرست کو اُلٹا کر ڈالواور یہ وہ کام ہیں جو عالمی میڈیا میں ہالی ووڈ ،فلم و سینما سے لیکر سوشل میڈیا تک باقاعدہ اور پلاننگ کے تحت اسٹیپ بائے اسٹیپ انجام دئیے جارہے ہیں ۔

سافٹ پاور یعنی مدِ مقابل محاذکو سب سے پہلے کسی بھی طرح شکوک و شبہات میں مبتلا کرڈالوتاکہ تمہارے خلاف بروقت اور صحیح فیصلہ نہ کرسکے ۔

اگلے مرحلے پر اُ سے مایوس کرڈالو کہ تم بدبخت ہو تم لاچار ہو اور تمہارا کوئی مستقبل نہیں ہے تمہارا وہ ماضی نہیں تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے ۔

حالانکہ خود ہزاروں ایٹم بموں کا مالک ہے جنگی جرائم کا مرتکب مجرم ہے لیکن پوری دنیا کو ایران سے خوفزدہ کرتا ہے کہ ایران ایٹم بم بنارہا ہے۔

دیکھیں انہوں نے اِسی سافٹ پاور سے وہ کام کیا کہ آج کوئی بھی پوری دنیا میں یہ سوال نہیں کرتاکہ امریکہ ،روس،فرانس،برطانیہ اور چین کے پاس ایٹم بم کیوں ہے ؟آج کوئی یہ سوال نہیں کرتا ہے۔

جب آپ کسی فیکٹری میں جاتے ہیں تو وہاں لکھاہوتا ہے کہ پہلے سیفٹی پھر کام ،لیکن جب آپ سوشل میڈیا پر ،سینما میں،انسانی علوم کی مباحث ،ثقافت،روشنفکری ،تھئیٹر اور آرٹ گیلریز وغیرہ جاتے ہیں۔

تو وہاں آپ کے لئے کسی قسم کی کوئی سیفٹی گائیڈ لائنز نہیں ہوتیں۔ کیوں ؟ اسلئیے کہ جسمانی نقصان کو آپ محسوس کرچکے ہوتے ہیں لیکن سافٹ پاور سے متعلق نقصان کو درک و محسوس نہیں کرپائے ہیں ۔

حتی آپ یہ بھی سمجھ نہیں پاتے کہ جو ناول آپ پڑھ رہے ہیں اُس کے اختتام پر جب آپ کتاب بند کررہے ہونگے تو اپنی زندگی سے متعلق مایوس ہوچکے ہونگے ،اپنی بیوی کی نسبت شکی ہوچکے ہونگے۔

فلاں فلم دیکھ کر جب سینما سے باہر آئینگے تو افسردگی طاری ہوچکی ہوگی یعنی آپ زندگی کے معنی و مقصد کو کھو چکے ہونگے۔

جدید آرٹ گیلری کے وزٹ سے واپسی پر وحشی افکار حاوی ہوچکے ہونگے ۔

در اصل تصاویر و الفاظ و آواز سے ہمیں نشانہ بنایا گیا اور ہم پر اِنہی کے ذریعے حملے کی مقصد سے فائر کیا گیا لیکن ہم اِس حملے کے فائر کی آواز کو سُن ،دیکھ اور سمجھ نہیں پائے۔

اور جب تک یہ احساس و ادراک پیدا نہ ہو کہ ہم نفسیاتی جنگ ،سافٹ وار کے حملوں کو درک و محسوس کرسکیں اُس وقت تک نہ ہم اِس جنگ کا مقابلہ کرسکتے ہیں اور نہ اس جنگ میں فتحیاب ہوسکتے ہیں یہاں تک کہ ہم تصاویر و الفاظ و آواز کی طاقت کو سمجھ سکیں۔

سافٹ پاوریعنی تصاویر و الفاظ و آواز ایک ڈائنامائٹ کی طرح پوری بلڈنگ کو یکدم منہدم کردیتا ہے اجتماعی اخلاق کی بلڈنگ ایکدم زمین بوس ہوجاتی ہے ۔

سافٹ پاور یعنی انفارمیشن لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ انفارمیشن صحیح بھی ہو بلکہ یہ وہ انفارمیشن ہے جوپہلے سے انجئیرنگ شدہ ،تحریف شدہ اور ہدف کے مطابق درجہ بندی شدہ ہے جسے تحریفِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ٹیکنیک کہتے ہیں ۔

سافٹ پاور،یعنی ایسا کام کرو کےغلام خود اپنی زنجیروں کا بوسہ لیں ،ایسا کام کرو کہ غلام اپنے مالکوں کی زبان بولنے پر فخر کریں اور یہی وہ وقت ہوگا کہ جب وہ قوم مکمل طور پر ہمارے کنٹرول میں آچکی ہوگی پھر کسی قسم کی جنگ اور خرچہ کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ پھر ہم اُنہی کے پیسوں کو اُنہی کے خلاف باآسانی استعمال کرسکیں گے ۔

اگر ہم نے یہ سیکھ لیا کہ کیسے الفاظ و تصاویر اور آواز کے مدِمقابل محاذ پر آگاہانہ ،سنجیدہ ،ذہانت کے ساتھ ہوشیارانہ انداز میں پڑھا ،دیکھا اور سُنا جائے تو یہ وہ وقت ہوگا کہ جب آپ اِس محاذ پر کیونکہ حقیقت میں یہ محاذِ جنگ ہی ہے تو پھر اِس محاذ پر مثبت عمل انجام دے سکیں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .