۱۵ مهر ۱۴۰۱ |۱۱ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 7, 2022
مجلس وحدت مسلمین پاکستان

حوزہ/ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،اسلام آباد/ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل سید ناصر شیرازی نے پاراچنار کے دیگر قائدین کے ہمراہ ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبان کے ساتھ مذاکرات کو سختی سے مسترد کرتے ہیں ۔قاتلوں کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے خیانت کار ہیں۔ دہشت گردوں کے ساتھ مذاکرات قاتلوں کے ساتھ کھڑے ہونے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی کے حساس ترین علاقے کے امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔جو طاقتیں عسکریت پسندوں کی سرپرستی کر رہی ہیں حکومت انہیں لگام دے۔خطے کے عوام کی جابنب سے طالبانائزیشن کے خلاف بھرپور ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی کو ضلع کی حیثیت دے کر ایف سی آر کا خاتمہ کر دیا گیا ۔آئینی اعتبار سےپولیس انتظامیہ ضلع کے امن و امان کی ذمہ دار ہے۔اس طرح بیوروکریسی کے ذریعے ضلع کے دیگر معاملات کو چلایا جانا چاہئے ۔لیکن یہاں کی صورتحال بالکل برعکس ہے۔ علاقے میں مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو نشانہ بنا کر فرقہ واریت کا تاثر دیا جاتا ہے۔ صدہ میں میڈیکل کے طالب علم شیعہ نوجوان اور دوسرے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کا قتل ان عناصر کی کارستانی ہےجن کا ایجنڈاپارا چنار اور گردو نواح میں بدامنی کو فروغ دینا ہے۔طے شدہ منصوبے کے تحت کرم ایجنسی کے حالات خراب کیے جا رہے ہیں۔ یہاں کے عوام مدبر اور بابصیرت ہیں وہ ملک دشمن مذموم عناصر کو قطعی کامیاب نہیں ہونے دیں گے ۔

انہوں نے کہا کہ سلطان گل نامی شخص نے اہلبیت ؑ کی شان میں گستاخی کر کے شیعہ سنی افرادکے مذہبی جذبات کو مجروح کیا ہے۔اس شخص کو فوری طور پر گرفتار کر کے توہین اہلبیت ؑ کے قانون کے مطابق سزا دی جائے ۔اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے ان شرپسندوں کے خلاف حرکت میں نہ آئیں توشدید عوامی ردعمل کا اظہار ایک فطری تقاضاہے۔

انہوں نے کہا کہ کرم ایجنسی کے زمینی تنازعات کو مسلکی رنگ دے مذہبی منافرت پھیلائی جارہی ہے۔ان معاملات کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق حل نہ کیا جانابددیانتی ہے۔کابل مذاکرات میں فاٹا کی سابق حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ بدنیتی پر مبنی ہے۔اس کا مقصد پاکستان میں دہشت گرد گروہوں کو داخلے کے لیے سہولت فراہم کرنا ہے۔ پاراچنار کی موجودہ آئینی حیثیت کے خلاف کسی بھی اقدام کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔پورا پاکستان کرم ایجنسی کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔کرم ایجنسی میں اگر امن و امان کے حقیقی قیام کے لیے نیک نیتی سے کوششیں نہ کی گئی تو پاکستان کے ہر شہر سے یہاں کے عوام کے حق میں آواز بلند کریں گے۔

پریس کانفرنس میں تحریک حسینی پارا چنار کے صدر علامہ تجمل حسین الحسینی،پارا چنار یوتھ کے سربراہ شبیر ساجدی،علامہ تصور حسین،علامہ مرتضیٰ حسن علوی،علامہ شیر انصاری،علامہ ضیغم عباس,یاسر حسین اور مذہبی رہنما احمد علی بھی موجود تھے

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 4 =