۱۱ مهر ۱۴۰۱ |۷ ربیع‌الاول ۱۴۴۴ | Oct 3, 2022
تکریم شہداء و خوددار پاکستان کانفرنس

حوزہ / مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام یاد گار شہداء سکردو پر تکریم شہداء و خوددار پاکستان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلس وحدت مسلمین کے زیر اہتمام یاد گار شہداء سکردو پر تکریم شہداء و خوددار پاکستان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ جس میں ضلع بھرسے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکاء نے ہاتھوں میں قومی وپارٹی پرچم اٹھا رکھے تھے اور فضاء "پاکستان بنایا تھا پاکستان بچائیں گے، امریکا مردہ باد، اسرائیل نامنظور، امریکی غلامی نامنظور" جیسے فلک شگاف نعروں سے گونجتی رہی۔

جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا: شہید انسانی معاشرے کو حیات دیتا ہے، شہید کے لہو کے رنگ کو کوئی نہیں مٹا سکتا۔

انہوں نے کہا: آج کایہ اجتماع شہدائے پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتا ہے، پاکستان میں تکفیریت کو امپورٹ کیا گیا، پاکستان کو درندوں اور بھیڑیوں کے حوالے کر دیا گیا، وطن کے بے گناہ بیٹوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔ ہم نے کہا ہم داخلی خود مختاری چاہتے ہیں۔ ہمارے فیصلے اسلام آباد میں ہونے چاہئیں واشنگٹن میں نہیں۔

علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا: گلگت بلتستان کی عوام کو پاکستان سے وفاداری کے صلے میں صرف جھوٹے وعدے، دھوکا اور محرومیاں دی گئیں۔ اس خطے کے بہادر عوام کو اپنے حق کے لئے میدان میں ثابت قدم رہنا ہو گا۔ یہاں عوام کو حقیقی مسائل سے ہٹا کر غیر ضروری مسائل میں الجھایا جاتا ہے۔ گلگت بلتستان پاکستان کا سر ہے بغیر سر کے دھڑ باقی نہیں رہ سکتا۔

انہوں نے مزید کہا: یہ جنت نظیر علاقہ اب تک محرومیوں کا شکار ہے۔ ہمیں گلگت بلتستان کے جائز آئینی حقوق کی جدوجہد کے لئے متحد ہونا ہو گا۔آئین پاکستان میں واضح ہے کہ کسی کے عقیدے کے بر خلاف تعلیمی نصاب نہیں پڑھایا جا سکتا۔ موجودہ نصابِ تعلیم تنازعات سے بھرا ہوا ہے ہم اسے مسترد کرتے ہیں، نصاب کے مسئلے پر ہمارے اکابرین نےماضی میں بھی طویل جدوجہد کی ہے۔شہیدآغا ضیاء الدین شہید ِ نصاب ہیں ۔

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے چیئرمین علامہ راجہ ناصرعباس جعفری نے کہا: خطےمیں اس وقت شفٹ آف پاور کے عمل جاری ہےجبکہ پاکستان بھی تاریخ کے نازک ترین دورسے گزر رہا ہے، امریکی مداخلت ایک منتخب حکومت کے خاتمے کا سبب بنی، ملک عدم استحکام کا شکار ہے، معیشت تباہ اور خزانہ خالی ہے، آئی ایم ایف نے ملک کو دیوالیہ ہونے کے قریب پہنچادیا ہے۔

انہوں نے کہا: حکمرانوں نے ہوش مندی کا مظاہرہ اور معاشی استحکام کیلئے جرات مندانہ اقدامات نہ کئے تو ملک میں خانہ جنگی کا اندیشہ ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات، بجلی، گیس اور اشیائے خوردونوش کی آسمان کو چھوتی قیمتوں نے غریب کی زندگی اجیرن کردی ہے ۔ ہم پاکستان کو امریکی غلا می کا شکار نہیں بننے دیں گے، قائد اعظم محمد علی جناح اورعلامہ محمد اقبال نے قوم کو خودداری کا درس دیا جسے فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔

ایم ڈبلیوایم گلگت بلتستان کے صوبائی صدر رعلامہ آغا سید علی رضوی نے کہا: گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی جدوجہد پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے،ہم اپنی قوم کو جوابدہ ہیں۔ گلگت بلتستان کے مفادات کا سودا نہیں ہونے دیں گے،ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ سکردو کرگل کا باڈر کھولا جائے،سانحہ چلاس،سانحہ بابو سر کے شہدا ءکے قاتل اب تک آزاد ہیں، گلگت بلتستان کے حق میں آواز بلند کرنے والے جیلوں میں ہیں،آج کا یہ اجتماع پاک فوج کے شہدا ءکو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہے،پاک فوج کو پیغام دیتے ہیں کہ گلگت بلتستان میں زمینوں کے تنازعے میں فریق نہ بنیں، گلگت بلتستان کی عوام اپنی فوج سے محبت کرتی ہے۔ خدارا اپنا امیج خراب مت کریں۔پاکستان کے استحکام کے لئے خون کا نذرانہ دینے والے شہدا کو سلام پیش کرتے ہیں،شہدائےتحریک آزادی کشمیر کو سلام پیش کرتے ہیں۔

ایم ڈبلیوایم کے مرکزی جنرل سیکریٹری سید ناصرشیرازی نے کہا: ہم نے ہمیشہ پاکستان کی سر بلندی کا نعرہ لگایا،ہم پاکستانیوں کے قاتلوں کے ساتھ مذاکرات کو مسترد کرتے ہیں،ہم مقتولین کے ساتھ ہیں، شہدائے پاکستان کے ساتھ ہیں،بھکاری حکمرانوں کے مقابلے میں خودار لوگ کھڑے ہوں۔

انہوں نے کہا: یہ حکمران امریکہ کی غلامی کے بغیر نہیں چل سکتے، یہ ہمارے ملک کے ایٹمی اثاثوں کو بیچنا چاہتے ہیں، ہم ملک کے کونے کونے میں جائیں گے اور لوگوں کو آگاہ کریں گے۔ پاکستان پر امریکہ کا تسلط برداشت نہیں کریں گے، وطن کی قیمت لگائی جا رہی ہے، شہدا کے خون کی قیمت لگائی جا رہی ہے جو غیور پاکستانیوں کی کسی صورت قبول نہیں۔

صوبائی وزیر زراعت محمد کاظم میثم نےکہا: ہم ہر صورت گلگت بلتستان کے حقوق کا تحفظ کرتے رہیں گے، وفاق گلگت بلتستان کی ترقی میں رکاوٹ ڈال رہا ہے، گلگت بلتستان کے ترقیاتی بجٹ میں کٹوٹی کو مسترد کرتےہیں، ہم گلگت بلتستان کے پاکستان کے ساتھ الحاق کی تحریک کو جاری رکھیں گے، کچھ قوتیں علاقے میں نفرت اور علاقائی تعصب کو ہوا دینا چاہتی ہیں،بلتستان یورنیورسٹی کے متنازعہ وی سی کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ امریکہ نے ہمارے ملک میں مداخلت کی، ایک ہی مسئلے پر مقتدر قوتوں نے الگ الگ بیانیہ دیا، سن لو ہمارا نعرہ امریکہ مردہ باد ہے اور یہ نعرہ کسی صورت فراموش نہیں کیا جائے گا۔

قابلِ ذکر ہے کہ اس کانفرنس سے علامہ نیر عباس مصطفوی، علامہ مشتاق حکیمی، علامہ اکبر رجائی، علامہ اشرف شگری، شیخ علامہ تقی جعفری، علامہ زاہد حسین زاہدی، علامہ جان حیدری، شیخ غلام حسین عابدی اور بلال حسین قزلباش سمیت دیگر مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
8 + 10 =