۴ مهر ۱۴۰۱ |۲۹ صفر ۱۴۴۴ | Sep 26, 2022
بالصور/ زيارة نائب رئيس تجمع المسلمين في لبنان الشيخ زهير جعيد والوفد المرافق لوكالة الحوزة بقم المقدسة

حوزہ / مسلم علماء کونسل لبنان کے نائب صدر نے کہا: رہبر انقلاب اسلامی کی سربراہی میں کوئی نقص و عیب نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو غاصب صہیونی حکومت سے تعلقات کو معمول پر لانے کی بات کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اہل سنت کہتے ہیں وہ درحقیقت اہل سنت نہیں ہی ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، لبنان کی مسلم علماء کونسل کے نائب صدر اور لبنان کی نامور شخصیت شیخ ظہیر جعید نے غاصب اسرائیلی حکومت اور خطے میں امریکی موجودگی کے متعلق واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا: فتنۂ اختلاف دنیائے اسلام کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے۔

انہوں نے اسرائیل سے تعلقات کو معمول پر لانے کے ایجنڈے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: جو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی باتیں کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اہل سنت بھی کہتے ہیں وہ سعودی عرب کے ہوں، متحدہ عرب امارات کے ہوں، بحرین کے ہوں یا مغربی ممالک کے، وہ درحقیقت اہل سنت نہیں ہیں۔

انہوں نے مزاحمتی محاذ کی طاقت اور پاور کے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا: مجھے حزب اللہ کے ڈرون کی طاقت پر فخر ہے اور میں صہیونیوں کو خبردار کرتا ہوں کہ آج الحمدللہ مزاحمتی محاذ کی طاقت قابل تصور نہیں ہے اور اس کے میزائل کم سے کم وقت میں اسرائیل کو نابود کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ان کے ایران کے دورے کے دوران حوزہ نیوز ایجنسی نے ان کا انٹرویو کیا۔ جس میں انہوں نے دنیائے اسلام کو درپیش مسائل اور چیلنجز اور مزاحمتی محاذوں کی طاقت، اسلامی جمہوریہ ایران کی پاوراور خطے میں امریکا کی شکست کے متعلق سیرحاصل گفتگو کی۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے نمائندے نے ان سے پوچھا کہ موجودہ حالات میں دنیائے اسلام کے لیے خطرناک ترین چیلنج کیا ہے اور خطے کی مشکلات میں امریکہ کے کردار کو وہ کس طرح دیکھتے ہیں؟

اس سوال کے جواب میں انہوں نے کہا: مسلمانوں سے امریکیوں کی دشمنی نئی نہیں ہے۔ یہ دشمنی ابتدا سے ہے اور یہ بات واضح ہے کہ امریکی مسلمانوں کی ترقی و پیشرفت اور ان کے آپسی اتحاد کے سخت مخالف ہیں۔

صہیونیوں سے سازباز کرنے والے اہل سنت میں سے نہیں ہیں

انہوں نے کہا: مسلمانوں کو جس خطرناک ترین چیلنج کا سامنا ہے وہ "فتنۂ اختلاف" ہے اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات ایجاد کرنے والا خود امریکہ ہے۔ اس کا زہر آلود میڈیا مسلمانوں میں اختلافات کو ہوا دیتا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی نے شیخ زھیر جعید سے پوچھا کہ بعض اسلامی ممالک اسرائیل تعلقات معمول پر لانے کے حامی ہیں تو کیا اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کو ایک بہت بڑے فتنے سے تعبیر کیا جاسکتا ہے؟

انہوں نے اس سوال کے جواب میں کہا: جب اسرائیل اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود اپنے آپ کو نہ منوا سکا اور فلسطین کی سرحدوں سے آگے نہ بڑھ سکا تو اس نے اس منصوبے پر کام شروع کیا۔

انہوں نے کہا: الحمدللہ حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور انقلاب اسلامی کی برکتوں سے اب تک اسرائیل کو اپنے تمام منصوبوں میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

صہیونیوں سے سازباز کرنے والے اہل سنت میں سے نہیں ہیں

انہوں نے مزید کہا: اس وقت اسلامی جمہوریہ ایران عالمی سطح پر بہت مضبوط ہے۔ دنیا بھی اس کی جدید ٹیکنالوجی کے معترف ہے۔

لبنان کی مسلم علماء کونسل کے نائب صدر نے آخر میں کہا: میں رہبرانقلاب اسلامی حضرت خامنہ ای حفظہ اللہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ وہ ہمیشہ مزاحمتی محاذ کی حمایت کرتے ہیں اور تمام تر مشکلات کے باوجود اس راستے میں ذرا برابر پیچھے نہیں ہٹے۔ ان شاء اللہ ہم بھی ان کی پیروی کرتے ہوئے اپنے راستے پر ثابت قدم رہیں گے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
5 + 9 =