۳۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 20, 2024
آیت الله غریفی - بحرین

حوزہ/ انہوں نے بحرین میں امریکہ کے ہم جنس پرستی کے فروغ کے خلاف بیان دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے بحرین میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے پر معافی نہیں مانگی اور اس عظیم جرم کے خلاف خاموشی ناقابل قبول ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بحرین کے ممتاز عالم دین آیت اللہ سید عبداللہ غریفی نے دارالحکومت منامہ کے علاقے قفول میں واقع مسجد امام صادق علیہ السلام میں خطاب کے دوران منامہ میں امریکی سفارت خانے کے ذریعہ ہم جنس پرستی کی حمایت اور معاشرے میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینے کی کوششوں کی شدید مذمت کی ۔

انہوں نے مزید کہا: اسلام کی اقدار کا احترام کرنے والے اس ملک میں ہم جنس پرستی کو فروغ دینا ایک بہت بڑا جرم ہے جس پر خاموش نہیں رہا جا سکتا۔

آیت اللہ ظریفی نے اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا: ہم ان تمام لوگوں کی قدر کرتے ہیں اور ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو ہم جنس پرستی کے خلاف کھڑے ہوئے جو کہ اخلاقی اور مذہبی اقدار کے بالکل خلاف ہے۔

اس بحرینی عالم دین نے کہا: ہم جنس پرستی کو فروغ دینا انسانیت کے خلاف جرم ہے، کیونکہ یہ ثقافتی اقدار، اصولوں اور مذہب سے متصادم ہے، امریکہ، انگلینڈ اور فرانس وغیرہ کو چاہئے کہ اس طرح کی غلیظ چیزوں کو صرف اپنے ممالک تک محدود رکھیں، دوسرے ممالک میں اس طرح کی حرکتوں کی ترویج سے گریز کریں۔

آیت اللہ ظریفی نے مزید کہا: بحرین کے عوام انہیں اس قسم کے فاسد اور بیہودہ افکار کو فروغ دینے کی اجازت نہیں دیں گے، یہ وہ بدترین چیز ہے جسے مغربی ثقافت نے جنم دیا ہے اور کوشش کی ہے کہ بحرین جیسے مذہبی ملک میں اس قسم کی چیزوں کو فروغ دے۔

انہوں نے اسلامی معاشروں میں اس طرح کے غیر معمولی اور بیہودہ افکار کے فروغ پر مغربی اور امریکی حکومتوں کے اصرار کی وجوہات پر سوال اٹھایا اور کہا: سیاسی افراد، سرکاری اداروں اور انسانی حقوق کے اداروں اور تمام غیرت مند لوگوں نے اس کی مخالفت کی ہے۔

آخر میں آیت اللہ غریفی نے کہا کہ امریکی سفارت خانے نے اس بہیودگی کے بعد سرکاری طور پر معافی نہیں مانگی، بحرینی حکام اس چیز کےذمہ دار ہے، لہذا بحرینی حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر اس کے خلاف ایکشن لے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .