۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
مولانا تطہیر زیدی

حوزہ / مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا: ایام محرم الحرام ایام تربیت ہیں۔ احکامات دین پر عمل کر کے ہم عزاداری کو تربیت گاہ اور عبادت بنا سکتے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کے مطابق، جامع علی مسجد حوزہ علمیہ جامعة المنتظر میں خطبہ جمعہ دیتے ہوئے مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا: عزاداران امام حسین ؑجلوسوں کے دوران نمازبا جماعت کااہتمام کریں، باوضو رہیں، کپڑوں پر لکھے ہوئے مقدس ناموں کا احترام کریں اور اللہ تعالیٰ، رسول خدا اور آئمہ ہدیٰ کے اسمائے گرامی کو بغیر وضو نہ چھوئیں۔

انہوں نے کہا: عزاداری سے ہماری تربیت ہونی چاہیے ۔محبت امام حسینؑ میں ہم مقدس نام اپنے کپڑوں پر لکھوا لیتے ہیں مگر بغیر وضو جب انہیں چھوتے ہیں تو اس سے ا ن کی بے حرمتی کے ساتھ ہم گناہ کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ تو ہماری اس بے معرفتی پر امام روتے ہیں کہ میرے عزادار کو احکام دین کی بھی سمجھ نہیں ہے۔

مولانا تطہیر حسین زیدی نے کہا: مومن سمجھدار ہوتا ہے۔ احکام خداوندی کو سمجھیں تاکہ عزاداری واقعی عبادت بن سکے۔عصر عاشور ایک صحابی حضرت امام حسین علیہ السلام کے پاس کربلا میں جنگ کے دوران تشریف لائے اور فرمایا کہ وقت نماز ہو گیا ہے۔ تو سید الشہداء علیہ السلام نے کہا کہ "آپ نے نماز کو یاد کیا ہے۔ اللہ قیامت کے دن آپ کو نمازیوں اور ذاکرین یعنی وظیفہ شناس اور ذمہ داری محسوس کرنے والوں میں شمار کرے"۔

انہوں نے مزید کہا: امام حسین علیہ السلام نے کربلا میں عاشور کے روز مشکل وقت میں نماز کو نہیں بھلایا اور باجماعت نماز ادا کی وہ انفرادی نماز بھی ادا کر سکتے تھے مگر نماز باجماعت کی اہمیت کو واضح کیا اور امت کوعمل کرکے بتایا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ عزادار ساری رات عزاداری میں مصروف رہے اور اگلے دن جب صبح کی نماز کا وقت آئے تو اس کی نماز قضا ہو جائے اور وہ سویا رہے ۔یہ نماز سے غافل ہونے کی نشانی ہے ۔اللہ ہمیں صحیح معنوں میں عزادار ی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .