منگل 15 ستمبر 2026 - 16:00
معاشرے میں حجاب و عفاف کے فروغ کے لیے قرآن کے ۵ اہم اصول

حوزہ/ حرم حضرت معصومہ قم سلام اللہ علیہا کے خطیب حجۃ الاسلام والمسلمین محمد اسماعیل خورشیدی نے معاشرے میں حجاب و عفاف کے فروغ کے لیے مناسب ماحول پیدا کرنے کو ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم نے حجاب و عفاف کے فروغ کے لیے پانچ اہم طریقے بیان کیے ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حجۃ الاسلام والمسلمین محمد اسماعیل خورشیدی نے حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا میں منعقدہ پروگرام ’’تلاوت فاطمی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سورۂ آل عمران کی آیت 33 سے آگے حجاب و عفاف کی دعوت کے قرآنی طریقوں کی طرف اشارہ ملتا ہے، جن سے آج کے معاشرے میں بھی استفادہ کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسلام کے دشمن ماضی سے لے کر آج تک فوجی اور اقتصادی جنگ کے ساتھ ثقافتی اثراندازی کے ذریعے معاشرے کو بے حیائی اور بے عفتی کی طرف لے جانے کی کوشش کرتے رہے ہیں اور آج بھی نوجوانوں کو اسی سمت لے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

حرم حضرت معصومہ سلام اللہ علیہا کے خطیب نے کہا کہ قرآن کریم انسان کی سعادت سے متعلق ایسے مسائل کے لیے مکمل رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ قرآن کا ایک اہم طریقہ یہ ہے کہ کسی معاملے کی براہِ راست دعوت یا ممانعت سے پہلے اس کے لیے مناسب ماحول اور بنیادیں فراہم کی جائیں۔ اس لیے حجاب و عفاف کی دعوت کے سلسلے میں بھی پہلے مناسب ماحول پیدا کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن معاشرے کی اصلاح کے ساتھ ساتھ ان حالات کی اصلاح پر بھی توجہ دیتا ہے جو انسان کے کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں حجاب و عفاف کے فروغ کے لیے پانچ اہم طریقے بیان کیے گئے ہیں۔

پہلا طریقہ: ماؤں کی اعلیٰ تربیت

حجۃالاسلام خورشیدی نے کہا کہ حجاب و عفاف کے فروغ کا پہلا قرآنی طریقہ ماؤں میں بلند روحانی اور اخلاقی تربیت پیدا کرنا ہے۔ اگر مائیں خود ان امور کی اہمیت کو سمجھیں گی تو وہ اپنی بیٹیوں کی بھی قرآنی تعلیمات کے مطابق تربیت کر سکیں گی۔ اگر ماں ان مسائل کے حوالے سے بے توجہ ہو تو بیٹیوں سے اس سے بہتر رویے کی توقع مشکل ہے۔

دوسرا طریقہ: گھر کے ماحول کی اصلاح

انہوں نے گھر کے اندر اور اس کے اردگرد کے ماحول کو پاکیزہ بنانے کو حجاب و عفاف کے فروغ کا دوسرا اہم ذریعہ قرار دیا اور کہا کہ اگر گھر کا ماحول مناسب اور پاکیزہ نہ ہو تو بچیوں کی تربیت میں مشکلات پیدا ہوں گی۔

تیسرا طریقہ: آسان شادی

حجۃ الاسلام والمسلمین خورشیدی نے آسان شادی کو حجاب و عفاف کے فروغ کا تیسرا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی کے سلسلے میں بہت سی غیر ضروری سختیاں ایسی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ سنتوں سے کوئی تعلق نہیں۔

چوتھا طریقہ: نوجوانوں کے سامنے اچھے نمونے پیش کرنا

انہوں نے کہا کہ چوتھا طریقہ نوجوانوں کے سامنے عملی نمونے پیش کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حضرت مریم سلام اللہ علیہا کو ایک مثالی خاتون کے طور پر پیش کیا ہے اور ان کی پاکدامنی اور عفت کو ان کے بلند مقام کا سبب قرار دیا ہے۔

پانچواں طریقہ: عقائد اور عمل کی اصلاح

حجۃالاسلام خورشیدی نے کہا کہ پانچواں طریقہ عقائد اور کردار کی اصلاح ہے۔ والدین کو چاہیے کہ ابتدا ہی سے اپنی اولاد کی دینی اور اعتقادی تربیت کو سنجیدگی سے لیں اور انہیں اسلامی احکام اور دینی تعلیمات سے روشناس کرائیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha