حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم کی اسلامی معارف یونیورسٹی میں دوسرے بین الاقوامی پروگرام ’’بشارتِ نصر‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس میں علاقائی امور کے تجزیہ کاروں، محاذِ مزاحمت کے کارکنوں اور بین الاقوامی طلبہ نے شرکت کی۔
اس پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے حوزہ علمیہ ایران کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجۃ الاسلام والمسلمین سید مفید حسینی کوہساری نے کہا کہ محاذِ مزاحمت ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور اس میں نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت اب علاقائی دائرے سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکی ہے۔ اسی طرح یہ صرف مزاحمتی گروہوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ مختلف قومیں بھی اس میں شامل ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ مزاحمت کا دائرہ فوجی اور اسلحہ جاتی میدان سے آگے بڑھ کر مختلف محاذوں پر جاری جنگ تک وسیع ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج محاذِ مزاحمت ایک متحد، منظم اور بین الاقوامی محاذ کی شکل اختیار کر چکا ہے، جسے مختلف محاذوں پر چیلنجز کا سامنا ہے۔
حجۃ الاسلام والمسلمین حسینی کوہساری نے کہا کہ اس راستے میں بھاری قربانیاں بھی دینی پڑی ہیں، جن میں رہبرِ شہید، شہید کمانڈروں اور سید حسن نصراللہ کی شہادت شامل ہے، تاہم شہداء اور قائدین کی قربانیوں کے نتیجے میں دنیا بھر میں مزاحمت کی ایک نئی صورت سامنے آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دنیا کے مختلف علاقوں میں مزاحمت کے مراکز تشکیل پا رہے ہیں اور قوموں میں نئی توانائی اور جذبہ پیدا ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق، ان قربانیوں کے باوجود موجودہ صورت حال کو کامیابی اور فتح کی امید کے ساتھ دیکھنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ اب عالمی توحیدی محاذ کی تشکیل، عالم اسلام میں امت سازی اور نئی اسلامی تہذیب کی بنیاد رکھنے کے لیے منصوبہ بندی اور تیاری ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے عالمی سطح پر ایک متحد اور منظم محاذ تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ عوام کی بیداری اور میدان میں ان کی موجودگی دیگر قوموں کو بھی متحرک کر سکتی ہے۔ امید ہے کہ ایرانی عوام کی بیداری پوری امت، انسانیت اور دنیا بھر کے ضمیر و فطرت کی بیداری کا ذریعہ بنے گی۔










آپ کا تبصرہ