۱ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۱ شوال ۱۴۴۵ | Apr 20, 2024
یحیٰ سریع

حوزہ/ یمن کی قومی سالویشن حکومت کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ صنعا یمنی مسلح افواج کی طرف سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد مزید حملوں کے لیے تیار ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، یمن کی قومی سالویشن حکومت کی وزارت دفاع نے کہا ہے کہ صنعا یمنی مسلح افواج کی طرف سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر ڈرون اور میزائل حملوں کے بعد مزید حملوں کے لیے تیار ہے۔

دہشت گرد اسرائیلی حکومت 7 اکتوبر سے غزہ کے مظلوم عوام پر مسلسل بمباری کر رہی ہے، ان وحشیانہ حملوں میں اب تک ساڑھے آٹھ ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، شہداء میں سب سے زیادہ تعداد بچوں اور خواتین کی ہے، بیس ہزار سے زائد افراد زخمی جب کہ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔

اس وقت جو اسلامی ملک غزہ کے عوام کی حمایت میں کھل کر بات کر رہا ہے اور مدد کر رہا ہے وہ اسلامی جمہوریہ ایران ہے، اس کے ساتھ ساتھ دنیا کے کئی ممالک میں اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف مظاہرے بھی ہو رہے ہیں، لیکن جس قسم کا ردعمل عرب ممالک کی طرف سے آنا چاہیے تھا وہ آج تک دیکھنے میں نہیں آیا۔

جہاں مغربی ایشیا کے امیر عرب ممالک امریکہ اور یورپی ممالک کے دباؤ میں فلسطینی عوام پر ہونے والے مظالم کو خاموشی سے دیکھ رہے ہیں، وہیں خطے کا غریب اور جنگ زدہ عرب ملک یمن اس غیر قانونی دہشت گرد اسرائیلی حکومت کے مظالم کا منہ توڑ جواب دینے کی پوری کوشش کر رہا ہے۔

یمن کی قومی آزادی کی حکومت کی وزارت دفاع کے ایک اعلیٰ عہدیدار عبداللہ بن عامر نے کہا ہے کہ مقبوضہ فلسطین پر حالیہ میزائل اور ڈرون حملے یمن کے مقبول عوامی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک بدرالدین الحوثی کے حکم پر کیے گئے تھے۔

عبداللہ بن عامر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ جب تک دہشت گرد اسرائیلی فوج کے مظالم جاری ہیں یمنی مسلح افواج فلسطینی عوام کی مدد اور حمایت جاری رکھے گی، انہوں نے کہا کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ یمنی قوم کا اپنا فیصلہ ہے۔

یمنی مسلح افواج کے ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ ہم اپنے فلسطینی بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑ سکتے اور جب تک اسرائیل ان پر وحشیانہ حملے جاری رکھے گا، ہم بھی مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو بڑی تعداد میں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بناتے رہیں گے۔ یمنی فوج نے تیسری بار دہشت گرد اسرائیلی فوج کے ٹھکانوں پر حملہ کیا ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .