۱۴ اسفند ۱۴۰۲ |۲۳ شعبان ۱۴۴۵ | Mar 4, 2024
آغا سید حسن الموسوی الصفوی

حوزہ/ انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کے صدر حجت الاسلام والمسلمین سید حسن الموسوی الصفوی نے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن، محض ایک نعرہ اور ایک حسین تصور بن کر رہ گیا ہے۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، انجمنِ شرعی شییعان بڈگام جموں و کشمیر کے صدر حجت الاسلام والمسلمین آغا سید حسن الموسوی الصفوی نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں کہا کہ دس دسمبر کو دنیا بھر میں انسانی حقوق کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس دن عالمی سطح پر تقریبات کا انعقاد کرکے انسانوں کی عزت، تکریم اور ان کے حقوق کے بارے میں یقین دہانی کی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ دن 10دسمبر 1948ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر سے متعلق ایک مسود ے کی منظوری دینے پر منایا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر انسان نے اس قدر ترقی کی ہے کہ اب انسانوں کے حقوق سے بڑھ کر جانوروں اور پرندوں کے حقوق اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے پر توجہ مبذول کرتا ہے، لیکن عملی دنیا کی اگر بات کی جائے تو عالمی سطح پر انسانی حقوق کا نعرہ تو بلند کیا جاتا ہے اور ان کے حقوق کی پاسداری کے لئے دنیا بھر میں تنظیمیں بھی قائم ہوئیں اور ان تنظیموں کی فنڈنگ بھی عالمی اداروں اور طاقتور ملکوں کی طرف سے ہوتی رہتی ہے۔

صدر انجمنِ شرعی شیعیان جموں و کشمیر نے کہا کہ میڈیا میں انسانی حقوق کے نعرے بلند کئے جارہے ہیں مگر انسانی حقوق کی پاسداری اور انسانوں کی عزت وتکریم کا معاملہ عملی دنیا میں محض ایک خواب، ایک نعرہ اور ایک حسین تصور ہی رہ چکا ہے۔ عملی دنیا میں جابر قوتوں نے بے بس و بے کس قوموں کے بنیادی حقوق سلب کر رکھے ہیں اور جبر و تشدد کے بل پر مظلوم انسانوں کی بر حق آواز دبانے کی راہ پر گامزن ہیں، دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ مسئلہ فلسطین ایک دیرینہ سیاسی تنازعہ ہے، جس کا تعلق براہ راست دنیائے انسانیت کے ساتھ ہے۔

انہوں نے انسانی حقوق پر زور دیتے ہوئے مزید کہا کہ حالیہ دنوں میں غزہ میں فلسطینی انسانی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں، جن کے لئے کوئی جگہ محفوط نہیں ہے۔

آغا حسن الموسوی الصفوی نے مزید کہا کہ انسانی حقوق کا عالمی دن مغربی دنیا کے لئے جدید قدم ضرور ہوگا، مگر مسلمان دنیا کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی، چونکہ اسلام کی بنیاد ہی انسانوں کی مساوات، برابری اور ایک منصفانہ معاشی نظام پر تھی۔ خطبہء حجتہ الوداع انسانی حقوق کا ایک بہترین عالمی چارٹر تھا۔

صدر انجمنِ شرعی شیعیان جموں و کشمیر نے اسلام میں انسانی حقوق کے تصور کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ رسول اکرم ؐ نے اپنے آخری حج کے موقع پر خانۂ خدا میں اہل اسلام کے ایک جمع غفیر کے سامنے اپنے تاریخی خطبہ میں فرمایا تھا کہ کسی کالے کو گورے پر اور گورے کو کالے پر اور کسی عربی کو عجمی اور عجمی کو عربی پر برتری حاصل نہیں ہے، بلکہ انسانوں کے درمیان برتری کی بنیاد تقویٰ ہے۔ یہ خطبہ نسلی تفاخر اور برتری کا مزاج رکھنے والے معاشرے میں دیا گیا اور اس سے پہلے مدینہ منورہ میں انسانی مساوات پر مبنی ایک بین الاقوامی سوسائٹی اور ریاست تشکیل پا چکی تھی۔

انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ اس سال کا یہ عالمی دن، عملی دنیا میں امن و سلامتی کا پیغام لے کر آئے۔ آمین

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .