۶ تیر ۱۴۰۱ |۲۷ ذیقعدهٔ ۱۴۴۳ | Jun 27, 2022
علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی

حوزہ/ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما اور امام جمعہ مسجد بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی نے کہا کہ امریکی نئے صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ہم سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گے اور یہ بہت ہی اچھا اقدام ہے لیکن سوال یہاں یہ ہوتا ہے کہ اب تک کیوں چھوڑا گیا تھا؟۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی رہنما اور امام جمعہ مسجد بقیۃ اللہ ڈیفنس کراچی علامہ شبیر میثمی نے اپنے خطبہ جمعہ میں کہا کہ انبیاء و آٸمہؑ طاہرین کی تعلیمات دین کی بنیاد اور ہمارے لٸے مشعل راہ ہیں انہیں کے زریعہ ہم اخلاق اور دلاٸل کو مضبوط کرتے ہیں اور شکر نعمت نعمتوں میں اضافہ اور کفران نعمت نعمتوں کے چھن جانے کا باعث ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمتہ الزہرا سلام اللہ علیہا کا خطبہ فدکیہ توحید کی معرفت کا اہم باب ہے سیدہ سلام اللہ علیہا کی معرفت توحید اعلی ترین مراحل پر فاٸز ہےان کی معرفت توحید سے ہم توحید کی معرفت حاصل کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر خلوص اور دل سے وحدہ لا شریک لا کا اقرار کریں تو زندگی پر اثرات اور عبادت میں لذت و لطف محسوس ہوگا۔ توحید کا اصلی مفہوم فکر کو زندگی و روشنی عطا کرتا ہے۔خدا کہ روٸیت ناممکن اور اس کی ذات و صفات لامتناہی ہےاگر لوگ توحید کو سمجھتے تو بی بی کو دربار میں نہ جانا پڑتا اور بعض لوگ جو منبر پر توحید بیان کرتے ہیں ان کی اور سیدہ کی توحید بیان کرنے میں بڑا فرق ہے۔پھر پتہ چلے گا منبر پر آنے والے بعض ذاکرین کیسے توحید کے حوالہ سے شرک کا ارتکاب کرتے ہیں۔

علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے کہا کہ عراق میں ایک بار پھر دھماکوں کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہےاللہ کرے کہ عراقی حکومت اس پر قابو پا جائے،دوسری جانب دشمن حشدالشعبی جو عوامی فورس ہے اس کو کمزور کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب یہ بات کھل کر سامنے آگئی ہے کہ مودی سرکار نے اپنے الیکشن کمپین کے لیے گجرات میں پہلے ہندوں پر حملہ کرایا پھر 2ہزار کے قریب مسلمانوں کو جلا کر راک کیا لیکن دنیا میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے،یہ وہ چیزیں ہیں جس پر ہمیں بھی جواب دینا پڑھے گا کہ تم کیوں خاموش رہے؟ آپ ہندوستانی میڈیا کی رپورٹس اٹھا کر دیکھے صاف لکھا ہے کہ اپنے لوگوں کو خود مروایا، اب دیکھتے ہیں کہ دنیا انصاف دیتی ہے یا نہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکی نئے صدر جوبائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ ہم سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قاتلوں کو نہیں چھوڑیں گے اور یہ بہت ہی اچھا اقدام ہے لیکن سوال یہاں یہ ہوتا ہے کہ اب تک کیوں چھوڑا گیا تھا؟جس نے چھوڑا تھا کیا اب اس پہ بھی کیس ہوگا کہ نہیں ؟انسانی حقوق کے نعرے لگانے والے جو یہاں پر ایک چھوٹا حادثہ ہوتا ہے تو چیختے ہیں لیکن اتنے بڑے حادثے میں ملوث مجرموں کو کیوں چھوڑا گیا؟

علامہ ڈاکٹر شبیر میثمی نے کہا کہ ہمیں اطمینان نہیں ہے کہ امریکی نئے صدر ہمارے لیے اچھے کام کریں گے لیکن امریکی نئی حکومت کے نئے فیصلے، جوبائیڈن انتظامیہ نے متحدہ عرب امارات کوجدید ترین ایف 35 لڑاکا طیاروں کی ترسیل روک دی۔ امریکہ نے سعودی عرب کیلئے بھی جدید اسلحہ کے پیکیج کو عارضی طور پر منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے یہ مثبت اقدام ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
4 + 3 =