بدھ 2 ستمبر 2026 - 22:16
مولوی عارفی:ایرانی قوم اپنے جذبۂ شہادت کے باعث امریکہ کے مقابلے میں سرخرو اور کامیاب ہے

حوزہ/مجلسِ خبرگانِ رہبری میں صوبۂ سیستان و بلوچستان کے عوامی نمائندے نے ایرانی قوم کی کامیابی میں شہادت اور استقامت کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ قوم جو دنیا کی وابستگیوں سے دل توڑ لے اور اسلام اور اپنے نظریات کے دفاع کے لیے قربانی دینے کو تیار ہو، ناقابلِ شکست ہوتی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مجلسِ خبرگانِ رہبری میں سیستان و بلوچستان کے عوامی نمائندے مولوی عبد الرحمٰن عارفی نے بدھ کے روز ٹیلی ویژن پروگرام «آفتاب شرقی» میں مسلمانوں کی جانب سے غریبوں اور ضرورت مندوں کی حالت پر توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ رسولِ اسلامؐ نے فرمایا کہ جو شخص خود سیر ہو اور اس کا پڑوسی اس کے پاس بھوکا ہو، وہ مسلمان نہیں ہے؛ لہٰذا ہمیں غریبوں اور مسکینوں کی حالت پر توجہ دینی چاہیے اور ان کے مسائل کو حل کرنا چاہیے۔

انہوں نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ آج کے مسلمان بہت سے معاملات میں رسولِ اسلامؐ کی تعلیمات کو فراموش کر چکے ہیں، مزید کہا کہ جنگِ غزہ اور امریکہ و صیہونی حکومت کے حملوں کے دوران ہم نے دیکھا کہ غزہ کے عوام کو کس طرح نشانہ بنایا گیا، ان کی نسل کشی کی گئی اور انہیں بھوک کے ذریعے کس طرح موت کے گھاٹ اتارا گیا؛ جبکہ عالمِ اسلام خوراک اور بے شمار وسائل و امکانات سے مالا مال ہے۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری میں سیستان و بلوچستان کے عوامی نمائندے نے مزید کہا کہ غزہ کے عوام خوراک اور لباس سے محروم کر دیے گئے اور ان تک غذائی امداد نہیں پہنچنے دی گئی؛ جبکہ مسلمانوں کو چاہیے تھا کہ استکبار کے مقابل ڈٹ جاتے اور ایران کی طرح استقامت و مزاحمت کا مظاہرہ کرتے، مگر افسوس کہ وہ صرف ٹیلی ویژن کی اسکرینوں پر یہ منظر دیکھتے رہے کہ کس طرح فلسطینی مسلمان اور اہلِ غزہ کو خون میں نہلا دیا جا رہا ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ حقیقت میں غزہ کے عوام پورے عالمِ اسلام کے محافظ تھے اور ایرانی قوم، قیادت، ایران کی فوج اور سپاہ بھی تمام اہلِ اسلام کے دفاع میں کھڑے تھے؛ کیونکہ بیت المقدس صرف فلسطینی عوام کا نہیں، بلکہ عالمِ اسلام کا پہلا قبلہ ہے اور تمام مسلمانوں پر اس کا دفاع لازم تھا۔

مولوی عارفی نے مسلمانوں کے درمیان پائی جانے والی پراگندگی اور خوف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افسوس کہ آج مسلمان منتشر ہو چکے ہیں، مرعوب ہیں اور خوف کا شکار ہیں۔ رسولِ اسلامؐ نے فرمایا کہ ایک زمانہ آئے گا جب اس زمانے کے لوگ خس و خاشاک کی مانند ہو جائیں گے اور کفار مسلمانوں کو ایک دوسرے کے خلاف اس طرح اکٹھا کریں گے، جیسے لوگوں کو کھانے کی دعوت دی جاتی ہے کہ آؤ، ایک دسترخوان کے گرد جمع ہو کر کھانا کھاؤ۔

انہوں نے مزید کہا کہ رسولِ اکرمؐ سے پوچھا گیا کہ کیا اس زمانے میں مسلمانوں کی تعداد کم ہو جائے گی؟ آپؐ نے فرمایا: نہیں، تم تعداد میں کم نہیں ہوگے، لیکن تمہارے اندر دو چیزیں پیدا ہو جائیں گی؛ «وَہن» اور «حبِ دنیا»۔ تمہارے دلوں میں دنیا کی محبت پیدا ہو جائے گی اور تم موت سے ڈرنے لگو گے۔ جو مسلمان موت سے خوفزدہ ہو اور جس کے دل میں دنیا کی محبت جگہ بنا لے، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن نے معاشروں کی شکست میں حبِ دنیا کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی محبت ہر گناہ کی جڑ ہے اور بہت سی مشکلات کا بنیادی سبب بھی حبِ دنیا ہے؛ لیکن ایرانی قوم، جس نے دنیا سے بے رغبتی اختیار کی ہے اور ایثار و شہادت کا جذبہ رکھتی ہے، کامیاب ہوئی ہے اور آئندہ بھی کامیاب رہے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج تقریباً ہمارے تمام فوجی، سپاہی اور بسیجی شہادت کی آرزو اور تمنا رکھتے ہیں اور شہادت کے خواہاں ہیں۔ میں نے ایک فوجی کمانڈر سے گفتگو کی تو اس نے کہا: ہم جو اس مقامِ سرداری تک پہنچ چکے ہیں، اب جانتے ہیں کہ ایک دن شہید ہوں گے؛ شہادت ہماری خواہش ہے اور ان شاء اللہ یہ سرداری ہماری شہادت پر منتج ہوگی۔

مولوی عارفی نے سردارِ شہید حاج قاسم سلیمانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم جو شہادت کی طلب گار ہو اور دنیا کی محبت سے بے نیاز ہو، وہی قوم کامیاب اور سرخرو ہوتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج مسلمان اقوام دنیا کی محبت، گاڑیوں اور آسائش و تجملات کی دلدادہ ہو چکی ہیں، اسی لیے وہ غاصب صیہونی حکومت اور امریکہ کے مقابلے میں معمولی سی بات کرنے کی بھی جرأت نہیں رکھتیں۔ جہاد اور جنگ کو ایک طرف بھی رکھ دیں تو وہ زبان تک نہیں کھولتیں، کیونکہ وہ خوفزدہ ہیں۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری میں سیستان و بلوچستان کے عوامی نمائندے نے فوجی دستوں کی روانگی کے حوالے سے رسولِ اسلامؐ کی سیرت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ اکرمؐ عید کے دن اسلامی لشکر کو روانہ فرمایا کرتے تھے۔ آج بھی اگر تمام اسلامی ممالک سے نمازِ جمعہ اور نمازِ عید کے بعد اسلامی افواج روانہ ہوں اور صیہونی حکومت و امریکہ کے مقابل ڈٹ جائیں تو آپ دیکھیں گے کہ وہ مسلمانوں کی طاقت کے سامنے کس طرح شکست کھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ وہ ایران کے مقابلے میں شکست کھا چکے ہیں اور پوری دنیا پر یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ ایرانی قوم کس طرح امریکہ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑی رہی؛ وہ امریکہ جس کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ بہت سے ممالک اس کا نام بھی برے الفاظ میں لینے کی جرأت نہیں رکھتے۔

مولوی عارفی نے مزید کہا کہ انہوں نے خود اعتراف کیا ہے کہ اب وہ جنگ کے ذریعے اس قوم کو شکست نہیں دے سکتے۔ تین دن کے اندر انہوں نے کہا کہ ہمارے رہبر کو شہید کر دیا گیا ہے، لیکن قوم اور ایران آج بھی قائم و برقرار ہیں اور روز بروز ان کی طاقت میں اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ اسلامی ممالک کو جہاد سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے، کہا کہ جہاد قیامت تک باقی رہے گا اور یہی جہاد دشمن کے دل و رگ میں خوف و ہراس پیدا کرتا ہے۔ وہ جہاد سے ڈرتے ہیں، اسی لیے کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کی جہاد سے متعلق آیات کو حذف کر دیا جائے اور یونیورسٹیوں میں ان آیات کی تعلیم نہ دی جائے۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری میں سیستان و بلوچستان کے عوامی نمائندے نے مزید کہا کہ بعض اسلامی ممالک میں یہ کوشش کی جاتی ہے کہ مسلمانوں اور مسلمان بچوں کے دلوں سے جہاد کا جذبہ اور عقیدہ نکال دیا جائے، تاکہ اسکول میں پڑھنے والا بچہ جہاد سے متعلق الفاظ نہ پڑھے اور اسے یہ مفاہیم سکھائے نہ جائیں۔

مولوی عارفی نے کہا کہ مسلمان کو مجاہد ہونا چاہیے اور اسے عیش پرست و آرام طلب نہیں ہونا چاہیے۔ مسلمان کو بھوک اور پیاس برداشت کرنے کا حوصلہ رکھنا چاہیے اور اسلام کی خاطر ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، جس طرح اصحابِ رسولؐ نے اسلام کی راہ میں اپنی جان، مال، عزت، وطن اور اپنی زندگی تک قربان کر دی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے پاس ہر چیز موجود ہے؛ تیل، گیس، فولاد، تانبا اور بے شمار دیگر وسائل اور صلاحیتیں مسلمانوں کے اختیار میں ہیں۔ بہت سے مغربی ممالک ہمارے محتاج ہیں اور ہم سے کچھ حاصل کرنے کے لیے ہماری طرف دستِ طلب دراز کرتے ہیں۔ ہمیں ان کی کوئی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں ہر چیز عطا کی ہے اور ہمیں چاہیے کہ ان وسائل اور صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کریں۔

مجلسِ خبرگانِ رہبری کے رکن نے مزید کہا کہ بعض مسلمانوں کی نا آگاہی اور آیاتِ قرآن پر عمل نہ کرنے کے باعث بعض اسلامی ممالک امریکہ کی طرف مدد کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں ہتھیار دو اور ہماری حفاظت کرو؛ جبکہ امریکہ انہیں فرسودہ اور مدت پوری کر چکے ہتھیار فراہم کرتا ہے، ان ہتھیاروں کو مسلمانوں پر آزما کر تجربات کرتا ہے، مسلمانوں کو قتل کرتا ہے، نسل کشی کرتا ہے اور ان کے اموال و وسائل بھی لوٹ لے جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha