حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، حوزہ علمیہ قم کے طلبہ اور علماء کی نمائندہ کونسل نے کویت کی نااہل عدالت کے غیر انسانی اور غیر اسلامی فیصلے کی مذمت میں ایک بیان جاری کیا ہے۔

بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم الله الرحمٰن الرحیم
«وَلَا تَحْسَبَنَّ اللَّهَ غَافِلًا عَمَّا یَعْمَلُ الظَّالِمُونَ»
کویت کی فوجداری عدالت نے نام نہاد ریاستی سلامتی کے مقدمات کی سماعت کرنے والے شعبے میں آیت الله شیخ حسین عبدالله المعتوق، جو شیعہ عالمِ دین اور مجمع جہانی اہل بیت (ع) کے کویتی رکن ہیں اور دو دیگر افراد کو اسلامی جمہوریہ ایران کے لیے جاسوسی کے بے بنیاد الزامات کے تحت انتہائی سزائے موت سنا دی ہے۔
حوزہ ہائے علمیہ کے طلبہ اور علماء کی نمائندہ کونسل، اس ناپسندیدہ اور انسانیت سے عاری اقدام کی مذمت کرتے ہوئے کویت کی حکمران قیادت کو متنبہ کرتی ہے کہ یہودیوں کے لیے اس طرح کی خوشامد اور چاپلوسی کی سزا اور انجام تمہیں دیکھنا پڑے گا۔
امتِ اسلام اور دنیا کے حریت پسند اس فیصلے کو جانبدارانہ اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہیں۔ وہ ان خباثتوں کی مذمت کرتے ہوئے ٹرمپ اور نتن یاہو کی تابع کویتی عدالت کی اہلیت کو مسترد کرتے ہیں اور اس کے فیصلے کو بے اعتبار اور بے وقعت سمجھتے ہیں۔
آیت الله معتوق عالمِ اسلام کی ممتاز شخصیات میں سے ہیں اور انسانی معاشرے کی خدمت میں جدوجہد کرنے والے علماء میں شمار ہوتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان پر کسی بھی قسم کی دست درازی ہوئی تو مجرموں کو امتِ اسلام کے غیظ و غضب اور نفرت کا سامنا ہوگا۔
حوزہ ہائے علمیہ کے طلبہ اور علماء کی نمائندہ کونسل اس مجاہد عالم دین کے ساتھ یکجہتی کا اعلان کرتے ہوئے ان کی اور دیگر مظلوم قیدیوں کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتی ہے۔
کونسل بین الاقوامی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس ظالمانہ فیصلے اور انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی کے مقابلے میں ہرگز خاموش نہ رہیں۔
والسلام علی من تبع الهدی










آپ کا تبصرہ