۲۸ شهریور ۱۴۰۰ |۱۱ صفر ۱۴۴۳ | Sep 19, 2021
علامہ مقصود علی ڈومکی

حوزہ/ وطن عزیز پاکستان میں ایم آئی سکس کے ایجنٹس ایک مرتبہ پھر تشیع کے کے پاکیزہ اور نورانی چہرے کو داغدار کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں ان کی ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے علماء کرام اور نظریاتی تنظیموں کو آگے آنا چاہیے تا کہ معاشرے میں نظام ولایت فقیہ کا مکمل تعارف کرائیں اور شبہات اور اشکالات کا جواب دیں۔ ہم عوام میں آگاہی اور شعور کی تحریک چلا کر دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنائیں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان ڈویژن لاڑکانہ کے ایک وفد نے ڈویژن صدر برادر دھنی بخش جلبانی کی قیادت میں ایک وفد نے جامعہ المصطفی خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ترجمان علامہ مقصود علی ڈومکی سے ملاقات کی۔ اور انہیں ڈاکٹر شہید محمد علی نقوی کی برسی میں شرکت اور خطاب کی دعوت دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ ولایت فقیہ قرآن کریم کے بیان کردہ نظام ولایت کی عملی تفسیر اور ولایت انبیاء کا تسلسل ہے۔

انہوں نے کہا کہ انبیائے الہی اور آسمانی کتابوں نے ظالم طاغوتی نظام کا ساتھ دینے کی بجائے انسانیت کے درمیان نظام عدل و انصاف قائم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسی لئے قرآن کریم میں طاغوت کی اطاعت سے منع کیا گیا ہے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے نمرود کے خلاف جب کہ حضرت موسی کلیم اللہ نے فرعون کے خلاف قیام کیا اور حضرت داؤد علیہ السلام اور سلیمان نبی ع نے  الہی حکومت تشکیل دی۔ حضرت سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ طیبہ میں جو اسلامی حکومت قائم کی وہ آج بھی ہمارے لئے مشعل راہ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نظام ولایت فقیہ در اصل قرآن کریم کا دیا ہوا نظام ہے  جو وقت کے ظالم طاغوت کی اطاعت کی بجائے قانون خدا اور دین کی حاکمیت کا نام ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی نظریہ ولایت فقیہ پر یقین رکھتے تھے اور آپ نے حضرت امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ اور قائد شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے حقیقی عاشق اور پیروکار ہونے کا عملی ثبوت دیا۔

مزید اضافہ کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد علی نقوی شہید کی برسی منانے کا مقصد ان کے افکار و نظریات اور کردار سے تجدید عہد ہے۔ ڈاکٹر محمد علی نقوی نظام ولایت کے حقیقی مبلغ تھے۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان میں ایم آئی سکس کے ایجنٹس ایک مرتبہ پھر تشیع کے کے پاکیزہ اور نورانی چہرے کو داغدار کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں ان کی ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے علماء کرام اور نظریاتی تنظیموں کو آگے آنا چاہیے تا کہ معاشرے میں نظام ولایت فقیہ کا مکمل تعارف کرائیں اور شبہات اور اشکالات کا جواب دیں۔ ہم عوام میں آگاہی اور شعور کی تحریک چلا کر دشمن کے ناپاک عزائم ناکام بنائیں گے۔

آخر میں کہا کہ نظام ولایت فقیہ اور مرجعیت ہمارا افتخار ہے اس لئے ہمیں عوام کے اندر حقائق کو بیان کرنا ہوگا نظام ولایت پر یقین رکھنے والی تمام تنظیموں کو متحد ہوکر مشترکہ لائحہ عمل مرتب کرنا چاہیے۔ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دوستوں کی مشاورت سے عنقریب ایک عظیم الشان عظمت مرجعیت و نظام ولایت کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 13 =