۱۶ تیر ۱۴۰۱ |۷ ذیحجهٔ ۱۴۴۳ | Jul 7, 2022
حجۃ الاسلام والمسلمین ڈاکٹر فرمان علی سعیدی

حوزہ/اہل بیت (ع) ہمارے لئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ ہیں. اہل بیت میں سے ایک حضرت زهرا سلام اللہ علیہا کی ذات ہے. ان کی زندگی کے مختلف پہلو تمام انسانوں کے لئے بالخصوص مسلمانوں اور ان کے چاہنے والوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں۔

تحریر: ڈاکٹر فرمان علی سعیدی

حوزہ نیوز ایجنسی اہل بیت (ع) ہمارے لئے نمونہ عمل اور اسوہ حسنہ ہیں. اہل بیت(ع) میں سے ایک حضرت زهرا سلام اللہ علیہا کی ذات ہے. ان کی زندگی کے مختلف پہلو تمام انسانوں کے لئے بالخصوص مسلمانوں اور ان کے چاہنے والوں کے لئے بہترین نمونہ ہیں۔اس مقالہ میں حضرت امام حسن علیہ السلام سے نقل شدہ حدیث کی بنیاد پر آپ(ع) کی زندگی کے ایک پہلو پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے۔.
جناب سیدہ سلام اللہ علیہا ہمیشہ اپنے پڑوسیوں، شیعوں اور چاہنے والوں کے لئے دعا کیا کرتی تھی. سیرت فاطمی(ع) ایک زمانے کے لئے مخصوص نہیں ہے بلکہ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔
نفسا نفسی کےاس دور میں جہاں ہر کوئی اپنی ذات اور انفرادی مفادات کو اجتماعی اور آفاقی مفادات پر ترجیح دیتا ہے، جناب سیدہ سلام اللہ علیہا نے اپنی عملی زندگی سے دنیا کو پیغام دیا کہ اگر تم دنیا و آخرت میں سرخرو ہونا چاہتے ہو تو ہمیشہ اپنے ہم نوع انسانوں کا بھی خیال رکھو جب تم دوسروں کا خیال رکھتے ہوئےان کو اپنی دعاؤں میں شامل کریں گے تو اللہ تعالیٰ تمہاری دنیوی و اخروی حاجتیں بر آوردہ کرے گا۔ اس کے علاوہ دعا کا مقام کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔

مقدمہ:

رَأَیْتُ أُمِّی فَاطِمَةَ ع. قَامَتْ فِی مِحْرَابِهَا لَیْلَةَ جُمُعَتِهَا فَلَمْ تَزَلْ رَاکِعَةً سَاجِدَةً حَتَّى اتَّضَحَ عَمُودُ الصُّبْحِ وَ سَمِعْتُهَا تَدْعُو لِلْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ وَ تُسَمِّیهِمْ وَ تُکْثِرُ الدُّعَاءَ لَهُمْ وَ لَا تَدْعُو لِنَفْسِهَا بِشَیْ‏ءٍ فَقُلْتُ لَهَا یَا أُمَّاهْ لِمَ لَا تَدْعِینَ لِنَفْسِکِ کَمَا تَدْعِینَ لِغَیْرِکِ ''قَالَتْ یَا بُنَیَّ الْجَارَ ثُمَ‏ الدَّار۔
حضرت امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں زہرا‏ء(ع) کودعا اور مناجات میں مشغول دیکھا کہ آپ(ع) ہمسایوں کے لئے دعا کرتی ہیں اور ان کے لئے خیر، سعادت اور ہدایت کی خواہاں ہيں۔ میں نے سوال کیا اےاماں جان! ہمارے لئےدعا نہیں کی، بلکہ دعا ہمسایوں کے لئے تھی، ماں نے جواب دیا:
یَا بُنَیَّ الْجَارَ ثُمَ‏ الدَّار۔
میرے بیٹے پہلے ہمسایہ پھر گھر۔ اس حدیث شریف میں چند نکتے غور طلب اور قابل توجہ ہیں۔
یوں تو اہل بیت علیہم السلام کی پوری زندگی نہ تنہا ان کے پیروکاروں اور چاہنے والوں کے لئے اسوہ و نمونہ عمل ہے بلکہ عالم بشریت اور تمام انسانوں کے لئے آئیڈیل اور نمونہ عمل ہے کیونکہ اہل بیت(ع) تمام عالم بشریت کے لئے حجت ہیں اور تمام انسانوں کی ہدایت اور ان کو کمال تک پہنچانے کے لئے خداوند متعال کی طرف سے انتخاب ہوے ہیں۔ ان حضرات(اہل بیت) کے ایسے کلمات و فرامین تاریخی اور حدیثی کتابوں میں نقل ہوئی ہوے ہیں جو ایک خاص گروہ، طبقہ اور مکتب فکر کے لئے مخصوص نہیں ہیں بلکہ پوری بشریت کے لئے قابل عمل ہیں۔
اس مقالہ میں امام حسن علیہ السلام سے نقل شدہ ایک روایت کو سرنامہ کلام قرار دیا ہے۔ اور اس روایت کے ذیل میں کچھ اخلاقی نکات بیان کرنے کی کوشش کی گئ ہے جو جناب سیدہ سلام اللہ علیہا کے بیان سے ماخوذ ہیں ۔

1- روایت کی تشریح
اس روایت میں ہم پڑھتے ہیں کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا پوری رات یعنی صبح تک دعا اور مناجات میں مشغول ہیں لذا پہلا نکتہ، آپ کی بندگی، عبودیت اور اللہ سے ارتباط کا نکلتا ہے کیونکہ دین اسلام میں دعا، عبودیت اور بندگی کی نشانی ہے۔ قرآن کریم کی آیۂ کریمہ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَنْتُمُ الْفُقَرَاءُ إِلَى اللَّهِ ۖ وَاللَّهُ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ۔ لوگو! تم سب اللہ کی بارگاہ کی طرف محتاج ہو اور اللہ ہی صاحب دولت اور قابلِ حمد و ثنا ہے۔ بندہ اور مخلوق خدا خود کو ہمیشہ فقیر سمجھتا ہے۔ فقر ذاتی کسی چیز سے بھی ختم نہیں ہوسکتی، یہاں تک کہ مال و ثروت میں خود کفیل اور مالی پوزيشن بہتر ہونے کی صورت میں بھی ختم ہونے والی چیز نہیں ہے۔ بندہ اور مخلوق کو اس فقر کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ جب فاطمۂ الزہراء سلام اللہ علیہا جیسی عظیم شخصیت جو فضائل، کمالات اور بزرگی کا مالک ہوتے ہوئے، دعا کے لئے ہاتھ اٹھاتی ہیں تو پھر عام بندوں کے لیے اس کی اشد ضرورت ہے۔ اس لحاظ سے کہ ائمہ اہل بیت علیہم السلام ہمارے لئے نمونہ عمل ہیں اسی لئے اول خود اپنے باتوں پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ آپ (ع) جب ذات اقدس الہی کے مقابلے میں عبودیت، بندگی اور فقر بارے میں گفتگو کرتی ہیں، جو چیز سب سے زیادہ نمایاں نظر آتی ہے وہ آپ (ع) کا، تمام معنوی کمالات کی مالک ہونے کے باوجود ذات اقدس کے مقابل میں اپنے فقر کا اظہار ہے. یہ روایت اس چیز کو بھی بیان کر رہی ہے کہ امام حسن علیہ السلام نےصرف ایک رات اپنی مادر گرامی کی عبادت کا مشاہدہ فرمایا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ آپ(ع) دوسری راتوں اور اوقات میں بھی شب زندہ داری کرتی تھیں۔ یہ روایت بیان کر رہی ہے کہ حضرت فاطمۂ الزہرا‏ء سلام اللہ علیہا پوری رات خدا سے راز و نیاز میں گزاتیں، یہ اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ حضرت(ع) کی توحید کس قوی تھی آپ(ع) فقر کا احساس کر رہی تھیں اسی لئے صبح تک خدا سے راز و نیاز کرتی رہی رہیں۔

2- اسلام میں دعا کا بلند و بالا مقام
سورہ فرقان کی آخری آیت کے مطابق قُلْ مَا يَعْبَأُ بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ
3۔ پیغمبر آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہاری دعائیں نہ ہوتیں میرا پروردگار تمہاری پروا بھی نہ کرتا۔
لذا جتنا ہم خدا کی طرف توجہ کریں گے اور اس کی بارگاہ میں راز و نیاز کریں گے، ہماری حیثيت خدا کے ہاں اتنا ہی بلند ہو‏گی۔ قرآن کریم بھی ہمیں خدا کی طرف دعوت دیتا ہے، اور فرماتا ہے کہ اپنے فقر و نیاز کو اپنے پروردگار سامنے رکھو۔ قرآن چاہتا ہے کہ انسان اپنے فقر اور ناداری کو خدا کے سامنے فراموش نہ کرے۔ اپنی مادی اور معنوی روزی کا سرچشمۂ کو معلوم کرے۔ قال رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله الدُّعاءُ مُخُّ العِبادَةِ ، ولا يَهلِكُ مَعَ الدُّعاءِ أحَدٌ۔ رسول خدا نے فرمایا:" دعا عبادت کا مغز ہے اور کوئی بھی دعا کی موجودگی میں ہلاک نہیں ہوگا۔
اس روایت میں ایک اور اہم نکتہ یہ ہے ایک دوسرے کے لئے دعا کرنا ہے۔ حضرت فاطمۂ الزہراء(ع) اور ائمہ معصومیں علیہم السلام ہم سے یہی چاہتے ہیں کہ ہم دوسروں کی فکر میں رہیں۔ حضرت زہرا‏ء(ع) صبح تک دعا میں مشغول رہتی ہیں، لیکن امام حسن علیہ السلام کی روایت کے مطابق، اپنے لئے دعا نہیں کرتی ہیں، جب آپ(ع) سے سوال کیا جاتا ہے کہ اپنے لئے دعا کیوں(نہیں) فرماتی؟ جواب دیتی ہیں :" الْجَارَ ثُمَ‏ الدَّار" یعنی پہلے دوسرے افراد مقدم اور مہم ہے، لذا پہلے دوسروں کی حاجتوں کو بیان کیا کرو۔ حضرت(ع) ہمیں یہ درس دے رہی ہیں کہ دوسروں کو کسی بھی وقت فراموش نہ کریں، اپنے کے لئے دعا کرنے سے پہلے دوسروں کے لئے دعا کرو شاید وہ زیادہ نیازمند ہوں۔ یہاں پر ایک تربیتی اثر بھی ہے وہ یہ ہے کہ تم اکیلے مسائل و مشکلات کا شکار نہیں ہو، جب تم دوسروں کو یاد کرو گے تو پتہ چلے گا کہ ان کے مسائل اور مشکلات، تمھارے مشکلات اور مسا‏ئل سے زيادہ اور سخت ہیں تو اس وقت خدا کی دی ہوئی نعمتوں کا شکر گزار ہوگا۔ روایات میں وارد ہوا ہے کہ:" (رسولُ اللّه ِ صلى الله عليه و آله استكْثِروا مِن الإخوانِ ؛ فإنَّ لكلِّ مؤمنٍ شَفاعةً يومَ القيامة"۔ اپنی دعا‎وں میں مومنین کو زیادہ سے زیادہ شامل کرو کیونکہ قیامت کے دن ہر مومن کے لئے ایک خاص شفاعت ہے۔ اور اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت نقل ہوئی ہے کہ آپ (ع) فرماتے ہیں:
اِسْتَكْثِرُوا مِنَ اَلْإِخْوَانِ فَإِنَّ لِكُلِّ مُؤْمِنٍ دَعْوَةً مُسْتَجَابَة"۔
اپنی دعاوں میں اپنے مومن بھائیوں کو زیادہ سے زیادہ بناؤ کیونکہ ہر مومن ایک مستجاب دعا کا مالک ہے۔ اس طرح کی سوچ اور فکر سے مسمانوں اور مومنین کے درمیان اخوت اور بھائی چارگی فروغ پائی گی۔ روایات میں آیا ہے کہ دوسرے مومنین کی دعا انسان کے لئے اپنے لئے دعا کرنے سے زیادہ اثر رکھتی ہے۔ جب آپ ایک مومن کے لئے دعا کرتے ہیں تو ہمدردی کا یہ احساس، دوسروں میں بھی منتقل ہوجاتا ہے، وہی ہمدردی، دلسوزی اور اخوت کا احساس، جس کی سفارش اللہ تعالی اور اہل بیت علیہم السلام کی طرف سے کی گئی ہے۔
امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں زہراء سلام اللہ علیہا کو جمعہ کی رات دیکھا کہ آپ(ع) صبح تک عبادت، رکوع اور سجود میں مشغول ہیں، مومنین میں سے ہر ایک کا نام لے کر ان سب سے کے لئے دعا کرتی ہیں لیکن اپنے اور اپنے گھروں والوں کے لئے دعا نہیں کی کرتیں!، میں نے عرض کیا مادر گرامی اپنے لئے دعا کیوں نہیں فرماتیں؟ آپ(ع) نے فرمایا:" میرے بیٹے پہلے ہمسایہ پھر گھر"۔ شیخ صدوق(رح) کتاب علل الشرائع میں نقل کرتے ہیں کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا جب بھی دعا کیا کرتی تھی تو تمام مومنین و مومنات کے لئے دعا کرتی تھی، اپنے لئے دعا نہیں کرتی تھی۔ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا سے عرض کیا گیا اے رسول خدا(ص) کی بیٹی آپ لوگوں کے لئے دعا کرتی ہیں اور اپنے لئے دعا نہیں کرتی؟ زہرا‏ء(ع) نے فرمایا:" الجار ثم الدار"۔ پہلے ہمسایہ پھر گھر۔

3- فاطمۂ الزہرا سلام اللہ علیہا کا جود و سخا:

الجار ثم الدار کا جملہ ایک انسان کے اخلاق کا پروان چڑھنے کا اور معراج کی نشانی ہے۔ در حقیقت ہم ایک ایسی خاتون سے آمنا سامنا ہیں جس کا اخلاق اور و معنویت عالی درجہ تک پہنچا ہوا ہے۔ جب ہم ان کی عبادت کو دیکھتے ہیں تو سب سے علیحدہ اور خاص درجہ کی حامل ہے، جب ہم ان کے انفاق اور انسان دوستی کو ملاحظہ کرتے ہیں تو اس میدان میں آپ(ع) بلند اور عالی مقام پر فائز ہیں۔امام حسن علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میں نے اپنی ماں زہرا‏ء(ع) دعا اور مناجات میں مشغول دیکھا کہ آپ(ع) ہمسایوں کے لئے دعا کرتی ہیں اور ان کے لئے خیر، سعادت اور ہدایت کی خواہان ہيں۔ میں نے سوال کیا
امی جان! ہمارے لئے دعا نہیں کی، بلکہ دعا ہمسایوں کے لئے تھی، ماں نے جواب دیا الجار ثم الدار یہ ان کی متعالی اور بلند نگاہ ہے کہ ہمسایوں کو خود پر فوقیت اور اولویت دیتی ہے۔ حضرت فاطمۂ الزہرا‏ء(ع) کی زندگی ایک عجیب و غریب دور میں گذری ہے۔ ابھی تک اسلامی معاشرہ اور حکومت معرض وجود میں ںہیں آیا ہے اور اس میں امن و امان کامل نہیں ہوا ہے، جنگوں اور نا امنی سے فاطمہ کی زندگی متاثر ہے۔ لیکن پھر بھی ہم دیکھتے ہیں آپ (ع) اس دور میں ایسےدرخشان فرزندوں کو تربیت دیتی ہیں کہ امامت، انہی فرزندوں سے شروع ہوتی ہے اور گیارہ امام، نسل زہراء(ع) سے ہیں۔ یہ بات بھی غور طلب ہے فاطمۂ الزہراء(ع) کی نو سال کی عمر میں شادی ہوتی ہے۔ امام علی علیہ السلام مرد میدان ہیں۔ اور سب سے زيادہ مصروف ہیں، ان کے لئے شب اور روز کا کوئی حساب نہیں ہے، کوئینہ کوئی ذمہ داری نبھانے میں مشغول ہیں یا میدان کار زار میں ہیں۔ گھر کی دیکھ بھال کی ذمہ داری زہراء(ع) کے کاندوں پر ہے، ایک ایسا گھر جہاں سے امامت کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے اور پایۂ تکمیل پہنچ جاتا ہے۔ مشہور روایات کے مطابق پیغمبر گرامی اسلام کی رحلت کے چند مہینہ بعد اٹھارہ سال کی عمر میں زہراء(ع) شہید ہوجاتی ہیں۔ فاطمہ اور علی کی مشترکہ زندگی کا ماحصل چار چھوٹے بچے ہیں۔ امام علی علیہ السلام میدان جنگ میں فرد اول شمار ہوتا ہے۔ لذا گھر کے تمام کا سارا کام فاطمہ سلام اللہ علیہا کے کاندوں پر آتا ہے۔ اس حوالے سے امام علی علیہ السلام آسودہ خاطر ہیں۔ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے:" وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ ۖ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ ۖ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ". اور اے پیغمبر! اگر میرے بندے تم سے میرے بارے میں سوال کریں تو کہہ دینا میں ان سے قریب ہوں. پکارنے والے کی آواز سنتا ہوں جب بھی پکارتا ہے لہٰذا مجھ سے طلب قبولیت کریں اور مجھ ہی پرایمان و اعتماد رکھیں کہ شاید اس طرح راہ راست پر آجائیں۔
خداوند متعال کی طرف متوجہ ہونا دعا کے مہمترین فائدوں اور نتیجوں میں سے ہے۔ روزی جلب کرنا، دفع بلا، دردوں کی دوا، خدا کے ہاں منزلت و مقام حاصل کرلینا، جہنم کی آگ سے نجات، روحی آسودگی اور آرامش اور مناجات کے مضامین کی روشنی میں معرفت حاصل کرنا بھی دعا اور مناجات سے حاصل شدہ فا‏ئدے اور نتائج میں سے ہیں اور روایات میں ان چیزوں کی طرف اشارہ ہوا ہے۔
اسی وجہ سے اہل بیت عصمت و طہارت میں سے ہر ایک دعا اور مناجات کے ساتھ خاص دلچسپی اور لگاو رکھتا تھا اور دعا و مناجات اور خدا سے راز و نیاز کابہت زیادہ اہتمام کرتا تھااور اپنے شیعوں کو خوشی اور غم و اندوہ کے موقع پر دعا کرنے کا حکم دیا ہے۔
پیغمبر اکرم(ص) نے بھی دعا کو رحمت کا دروازہ ، مومن کا اسلحہ، دین کا ستون اور آسمان وزمین کا نور قرار دیا ہے۔
نُورُ اَلسَّمٰاوٰاتِ وَ اَلْأَرْضِ". " اَلدُّعَاءُ سِلاَحُ اَلْمُؤْمِنِ وَ عَمُودُ اَلدِّينِ اور آپ(ص) نے فرمایا:" دعاوں کے ذریعے بلاوں کا استقبال کرو۔ "وَ اسْتَقْبِلُوا الْبَلَاءَ بِالدُّعَاءِ". دعا کے ذریعے بلا کے موجوں کو خود سے دور کرو۔
دوسری طرف ہم دیکھ رہے ہیں کہ پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد امیر المومنین (ع) کی امامت اور حکومت اسلامی خطرے میں پڑ جاتی ہے وہاں پر بھی فاطمۂ الزہراء سلام اللہ علیہا کا نورانی چہرہ مدافع ولایت و امامت کی شکل میں نمایاں ہوجاتا ہے۔ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا اس وقت انصار و مہاجرین کی عورتوں سےملاقات کرتی ہیں اور انہیں واقعۂ غدیر یاد دلاتی ہیں یا فدک کے واقعۂ میں آپ(ع) خلیفۂ وقت سے احتجاج کرتی ہیں یہاں تک بعض منابع اور ماخذ کے مطابق آپ(ع) نے فدک واپس لینے میں کامیاب ہوگئ۔ یہ سارے واقعات اور اتفاقات اس بات کو ثابت کر رہی ہیں کہ جناب سیدہ سلام اللہ علیہا ہر میدان میں حاضر رہیں اور اپنی اجتماعی و سیاسی مسولیتوں اور ذمہ داریوں سے واقف تھیں، اپنے اور شوہر کےحقوق کا دفاع کرتی رہی۔
در حقیقت ہم ایک ایسی خاتون سے رو بہ رو ہیں جو اخلاق اور معنویت کے اعتبار سے اعلی ترین مقام پر فائز ہیں۔ جب ہم ان کی عبادت کوملاحظہ کرتے ہیں توان کی عبادت اور بندگی منفرد اور اعلی ہے۔ جب ہم آپ(ع) کا دوسرے انسانوں کے بارے میں آپ کی ہمدردی کا مطالعہ کرتے ہیں تو اس میدان میں بھی آپ(ع) لاثانی و یکتا ہیں۔
جناب زہراء سلام اللہ علیبہا مکتب نبوی کے تربیت یافتہ افراد میں سے تھے امیر المومنین علی علیہ السلام کے بعد، اسی لئے آپ (ع) وحیانی وصیتوں سے کافی فائدہ اٹھایا ہے۔
فاطمہ زہراء(ع) حضرت مریم کی طرح اپنے زمانے میں ایک پاکدامن، مقدسہ اور اہل دعا و تہجد سے معروف و مشہور ہو چکی تھی۔ یہاں پر سیرت فاطمی میں دعا کی کچھ خصوصیات بیان کریں گے۔

4- دعا کی اہمیت اور حیثيت:

دعا کی اہمیت و حیثيت آپ(ع) کے نزدیک اس قدر زيادہ ہے کہ آپ(ع) کسی صورت میں اس سے کسی دنیوی چیز سے معاوضہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس چیز کے بارے میں پیغمبر اسلام(ص) سے ایک روایت نقل ہوئی ہے آپ(ص) فرماتے ہیں:" آیا تو چاہتی ہے ایسی دعا تمہیں تعلیم دوں کہ کوئی ایسی دعا نہیں کرتے ہے یہاں تک اس کی حاجت پوری ہوجاتی ہے۔ فاطمہ (ع) نے فرمایا:
" يا أبتِ لَهذا أحبُّ إليَّ من الدّنيا"
بابا جان ایسی دعا میرے لئے دنیا اور دنیا میں موجود چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔

5- خاص اوقات میں دعا کرنا:

حضرت زہراء(‏ع) سے ایک روایت جمعہ کے دن کے بارے میں نقل کرتی ہیں آپ(ص) نے فرمایا کہ جمعہ کے دن ایک خاص وقت ہے کہ اس خاص وقت و ٹائم پر ہر قسم کی خیر اور اچھائی کی دعا بارگارہ خدا میں قبول ہوجاتی ہے۔ "عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ النَّبِيِّ (ع) قَالَتْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ (ص) إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ لَسَاعَةً لَا يُرَاقِبُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ فِيهَا خَيْراً إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ قَالَتْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ سَاعَةٍ هِيَ قَالَ إِذَا تَدَلَّى نِصْفُ عَيْنِ الشَّمْسِ لِلْغُرُوبِ قَالَ وَ كَانَتْ فَاطِمَةُ (ع) تَقُولُ لِغُلَامِهَا اصْعَدْ عَلَى الضراب (الظِّرَابِ) فَإِذَا رَأَيْتَ نِصْفَ عَيْنِ الشَّمْسِ قَدْ تَدَلَّى لِلْغُرُوبِ فَأَعْلِمْنِي حَتَّى أَدْعُوَ'۔ میں نے آنحضرت(ص) سے پوچھا وہ کونسا وقت ہے؟ آپ(ص) نے فرمایا جب سورج کا آدھا حصہ افق میں پنہان ہوجاۓ یعنی غروب کے وقت،اس کے بعد جناب زہراء(ع) اس ٹائم پر خاص اہتمام کے ساتھ مسلمانوں کے لئے دعا کیا کرتی تھی۔ آپ (ع) نے اپنے غلام کو حکم دیا کسی بلندی پر جاکر سورج کا مشاہدہ کرے جب غروب کا وقت ہوجاۓ تو مجھے خبر دے تاکہ میں دعا میں مشغول ہوجاوں۔

6- ہمسایوں کے لئے دعا کرنا:

امام حسن علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ (ع) فرماتے ہیں کہ جمعہ کی رات تھی میں اپنی ماں زہراء(ع) کو دیکھا کہ آپ محراب عبادت میں کھڑی ہیں اور مسلسل سجدہ اور رکوع کی حالت میں ہیں یہاں تک کہ صبح ہوگئی۔ اس تمام مدت میں، میں آپ(ع) کو مومنین و مومنات کے لئے دعا کرتے ہوۓ دیکھا اور ہرگز اپنے لئے دعا نہیں کی میں نے پوچھا مادر گرامی! جس طرح آپ(ع) نے دوسروں کے لئے اپنے لئے دعا کیوں نہیں فرمائی؟ آپ(ع) نے جواب دیا ہے:" میرے بیٹے پہلے ہمسایہ پھر گھر"۔
کلینی، ابی جعفر محمد بن یعقوب، اصول کافی، دار الکتب الاسلامیۂ، تہران،1407ق،
مفید محمد بن محمد بن نعمان، اختصاص،قم، الموتمر العالمى لالفية الشيخ المفيد،1413ق،چاپ اول۔
‌سید بن طاووس ،مُهَجُ الدّعَوات وَ مَنهَجُ العِبادات‏ ،‌دار الذخائر،1411ق۔
صدوق، محمد بن علی، معانی الاخبار، قم، جامعه مدرسین، ۱۳۷۹ق ۔
موسوی، سید علی، کوکب الدّری، دار التفسیر، چاپ اول،1390 ش۔
ہما اخلاقی، نکاتی دربارہ حدیث الجار ثم الدار/آثار تربیتی و عاطفی دعا کردن برای دیگران، اخبار استان خوزستان، اسفند 1393۔س

7.حضرت زہرا کی دعا:

حضرت زہراء سلام اللہ علیہا مختلف مقامات پر اپنے شیعوں اور دوستداروں کے لئے دعا کرتی تھی۔ آپ(ع) کی زندگی کی آخری ایام تک خاص توجہ و اہتمام کے ساتھ اپنے شیعوں دعا کرتی رہی۔ اسماء بنت عمیس نقل کرتی ہے آپ(ع) کی عمر کی آخری لمحات میں میری پوری توجہ ان پر مرکوز تھی۔ آپ(ع) نے پہلے غسل انجام دیا نیا لباس پہن لیا اور اپنے دولتسرا میں خدا سے راز و نیاز میں مشغول ہوگئ میں آگے پڑھی میں نے فاطمۂ الزہراء سلام اللہ علیہا کو دیکھا کہ آپ(ع) قبلہ کی طرف منہ کرکے بیٹھی ہوئی ہیں اور اپنے ہاتوں کو آسمان کی طرف بلند کرکے اس طرح دعا فرما رہی ہیں:"
إلهی وَ سَیِّدی، أسْئَلُکَ بِالَّذینَ اصْطَفَیْتَهُمْ، وَ بِبُکاءِ وَلَدَیَّ فی مُفارِقَتی أنْ تَغْفِرَ لِعُصاةِ شیعَتی، وَشیعَةِ ذُرّیتَی"۔ پروردگارا! ان پیغمبروں کا واسطہ جن کو آپ نے مبعوث فرمایا ہے اور میری جدائی اور فراق میں حسن اور حسین کا گریہ و زاری کا واسطہ میرے اور میرے فرزندوں کے گناہوں کو بخش دے۔ اس روایت کے متن اور مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا شیعوں کے گناہوں کی بخشش کے لئے انبیاء الہی اور حسنین کے آنسووں کا واسطہ قرار دیتی ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حضرت زہراء سلام اللہ علیہا شیعوں کے لئے دعا کا خاص اہتمام کرتی تھی اور اپنے معنوی فرزندوں پر خاص عنایات تھی۔

نتیجہ:
اس مقالہ میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کے اخلاقی پہلووں میں سے ایک پہلو یعنی جناب سیدہ کا ہمسایوں اور دیگر ہمنوع انسانوں کے ساتھ ہمدردی کا پہلو، امام حسن علیہ السلام سے نقل شدہ حدیث کی روشنی میں بیان کرنے کی کوشش کی گئ ہے۔حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کا ہمسایوں کو خود پر فوقیت دینا ایک قاعدہ کلیہ ہے، یہ درحقیقت زہراء سلام اللہ علیہا کا ایثار اور فداکاری کی ایک جھلک ہے۔ یہاں پر ہمسایۂ کو نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ وگرنہ حضرت (ع) ہمیشہ انفردی مفادات پر اجتماعی مفادات کوترجیح دیتیں، در حالیکہ آجکل ہمارے معاشرے میں انفرادی مفادات و منافع کو اجتماعی مفادات پر ترجیح دی جاتی ہے اور اجتماعی مفادات اور انسانی مفادات کو نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انفرادی منافع و مفادات کو ترجیح دینے سے بہت سارے انحرافات اور مسائل جنم لیتے ہیں۔ اگر عالم بشریت جناب سیدہ (‏ع)کے اس نظریہ کو اپنا لیتا اورذاتیات سے ہٹ کر بنی نوع انسان کے مفادات مد نظر قرار دیتا تو دنیا سے فقر و فاقہ، جنگ و جدال و۔۔۔ کا خاتمہ ہوتا اور انسانوں کی طرز زندگی بالکل بدل جاتی۔ جناب فاطمۂ الزہراء سلام اللہ علیہا کی پوری زندگی عالم بشریت کے لئے نمونہ عمل ہے بالخصوص خواتین کے لئے ان کی زندگی بہتریں نمونہ ہے خواہ والدین کی اطاعت اور فرمانبرداری کا پہلو ہو، خواہ شوہرداری کا پہلو، خواہ تربیت اولاد کا پہلو ہو خواہ عبادی زندگی کا پہلو ہو، خواہ عائلی زندگی کا پہلو ہو، خواہ سیاسی اور اجتماعی زندگی کا پہلو ہو، ان تمام پہلووں میں حضرت زہراء سلام اللہ علیہا بہترین آئیڈیل و نمونہ ہے۔ کیونکہ حضرت (ع) ایک نور کی مانند ہے کہ جہاں پر بھی آپ(ع) نے قدم رکھا، وہاں پر آپ(ع) نے روشنی بخشی، چاہے سماجی معاملات میں قدم رکھا ہو، چاہے معنوی اور آخرت کے معاملات میں قدم رکھا ہو، ہر مقام پر آپ(ع) کامیاب و کامران نظر آتی ہیں۔
اگر جناب سیدہ کی کے ان گہربہا کلمات پر عمل پیرا ہو کر ہر انسان ذات پرستی، خود پرستی، قوم پرستی، لسانی تعصبات اور ذاتی مفادات و منافع کو بالای طاق رہ کر دیگر انسانوں کے دکھ درد میں شریک ہو کر ان کے مسائل و مشکلات حل کرنے کی کوشش کرے تو بہت سارے مشکلات حل ہوسکتی ہیں. یہ سارا فقر و فاقہ، جنگ و جدال اور ظلم و ستم انا پرستی مفاد پرستی کی وجہ سے ہے. اگر ہر انسان اپنے ہمسایوں، محلہ والوں، گاؤں والوں، علاقہ والوں، ملک والوں اور تمام عالم بشریت کے لئے سوچے اور ان کے بارے میں اپنی ذمہ داری پر عمل کرے تونہ کوئی دوسرےکو ظلم و ستم کا نشانہ بنا‌‌ۓ گا اورنہ دنیا میں جنگ و جدال ہوگا اور نہ کوئی تعلیم سے محروم رہے گا اور نہ کوئی بھوگ اور سردی و گرمی سے مرے گا اور نہ کوئی فقر و فاقہ کا شکار ہوگا. پس اگر ہم حقیقی معنوں میں جناب سیدہ سلام اللَّه علیہا کے حقیقی پیروکار ہیں تو ان کے آفاقی پیغام پر خود عمل کرنے اور دوسروں تک ان کے اس آفاقی پیغام کو پہنچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔

منابع و ماخذ:
قرآن کریم
الطبري‌ الصغير، محمد بن جرير، دلا‏ئل الامامۂ،قم،چاپ اول،1413ق۔
شیخ صدوق، علل الشرائع، الشيخ الصدوق، منشورات المكتبة الحيدرية ومطبعتها في النجف
محمد باقر مجلسی، بحار الانوار، بیروت موسسۂ الوفاء،1403ھ۔ق۔
متفی ہندی، كنز العمّال، یروت، مؤسسة الرسالة، چاپ پنجم۔
حر عاملی، محمد بن حسن، وسائل الشیعہ، کتابفروشی اسلامیہ، تہران،1403ھ ق، چاپ ششم۔
المستنبط، السید احمد بن السید الرضی التبریزی الساوجی، القطره من بحار فضائل العتره، قم، ذوی القربی، طبعه الاولی، ۱۳۸۲ هـ . ش

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
2 + 0 =