۲۷ فروردین ۱۴۰۳ |۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 15, 2024
سیمینار غفران مآب

حوزہ/مولانا سید کلب جواد نقوی نے کہاکہ دفتر مکتب فقہی و کلامی حضرت غفران مآبؒ کی نئی عمارت میں تمام علماء کے علمی اور فقہی آثار کو زندہ کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ایک عظیم الشان کتب خانہ بھی قائم کیا جائے گا جس سے محققین استفادہ کرسکیں گے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لکھنؤ۳ مارچ: نورہدایت فائونڈیشن کی جانب سے ’مکتب فقہی و کلامی حضرت غفران مآبؒ ‘ پر دوروزہ سیمینار کا انعقاد عمل میں آیا۔اس سیمینار میں مختلف مقررین اور مقالہ نگاروں نے مجددالشریعۃ آیت اللہ العظمیٰ سید دلدار علی غفران مآبؒ،ان کے مجتہد فرزندوں اور شاگردوں کے علمی آثار اور فکری جہات پر روشنی ڈالی۔

سیمینار میں خاندان اجتہاد،خاندان عبقات،خاندان جزائری اور خاندان باقرالعلوم کے علمی کارناموں پر بھی گفتگوہوئی اور ان کے علمی آثار کو بھی نمائش میں پیش کیاگیا۔

۳ مارچ کو افتتاحی جلسے کا آغاز مولانا حیدر مہدی کریمی نے تلاوت قرآن مجید سے کیا۔اس کے بعد مولانا سید کلب جواد نقوی نے افتتاحی تقریر کی اور تمام مہمانوں کا شکریہ اداکرتے ہوئے کہا کہ حضرت غفران مآبؒ نے برصغیر میں مکتب امامیہ کی تقویت اور ترویج کے لئے نمایاں کردار اداکیا اور آج برصغیر میں جتنے بھی علمی خانوادے ہیں وہ واسطہ یا بالواسطہ طورپر حضرت غفران مآب کے شاگردوں میں شمار ہوتے ہیں ۔

مولانا تقی حیدر نقوی نے ہندوستان میں ولی فقیہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ مد ظلہ العالی کے نمائندے حجۃ الاسلام آقای شیخ مہدی مہدوی پور کا پیغام پڑھا جو ایران میں ہونے کی وجہ سے پروگرام میں شریک نہیں ہوسکے۔

انہوں نے اپنے پیغام میں کہا کہ ہندوستان کے علما نے ہمیشہ مکتب تشیع کے تحفظ اور امامیہ عقائد کی ترویج و تبلیغ اور شبہات کے ازالہ کے لئے بڑی قربانیاں پیش کی ہیں۔آج مکتب فقہی و کلامی لکھنو کے احیاء کی ضرورت ہے تاکہ انکے علمی آثار کو زندہ کیاجاسکے جو مکتب حضرت غفران مآب کا عظیم کارنامہ ہیں۔

انہوں نےکہاکہ مکتب لکھنؤ کے تمام خانوادے خواہ وہ خاندان اجتہاد ہو،خاندان عبقات ہو،خاندان جزائری ہویا پھر خاندان باقرالعلوم ہو،آسمان علم و فقاہت کے درخشندہ ستارے ہیں ،جن کے کارناموں کو ہرگز فراموش نہیں کیاجاسکتا، تمام اختلافات کو بھلاکر ہمیں ان کے علمی اور فکری آثار کے احیاء کے لئے کوشش کرنا چاہیے۔

صدر جلسہ اور المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی ایران کے ہندوستان میں نمائندے حجۃ الاسلام آقای رضا شاکری نے اپنی تقریر میں فقہ و فقاہت کی اجمالی تاریخ پیش کی۔

انہوں نے کہاکہ حضرت غفران مآبؒ نے اپنے زمانے کے تقاضوں اور ضرورت کو محسوس کیا اور اس کے مطابق کارہائے نمایاں انجام دئیے۔ معاصر عہد میں فقہاء کو چاہیے کہ وہ حضرت غفرانمآبؒ کی روش پر عمل کرتےہوئے نوجوان نسل کے تقاضوں اور نئے زمانے کی ترجیحات کو پیش نظر رکھیں۔

انہوں نے کہاکہ جب بھی مکتب امامیہ پر فکری یلغار ہوئی،اس وقت فقہاء نے اس مکتب کا دفاع کیا اور قربانیاں پیش کیں۔جس زمانے فقہ امامیہ اور فقہائے کرام کو دبانے کی کوشش کی گئی ،اس عہد میں بھی بعض فقہاء نے قربانیاں پیش کیں اور فقہ امامیہ کا تحفظ کیا،جس طرح اپنے عہد میں حضرت غفر ان مآب نے اخباریت اور دیگر نظریات کے خلاف محاذ آرائی کی۔

انہوں نے کہا کہ حضرت غفران مآب ہندوستان کے پہلے مسلّم اور مستند فقیہ اور مجتہد تھے۔ انہوں نے فقہ امامیہ کے تمام ۹ ادوار پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔فارسی تقریر کا اردو ترجمہ مولانا اطہر کشمیری نے پیش کیا۔

افتتاحی اجلاس میں ’’مکتب حضرت غفران مآب: ایک تحقیقی جائزہ‘‘ کتاب کی رسم رونمائی علماء کے ذریعہ انجام پائی جسے محقق عالیقدر سفیر مکتب فقہی و کلامی حضرت غفران مآبؒ مولانا اسیف جائسی نے ترتیب دیا ہے۔

مولانا صابر علی عمرانی نے نعت شریف پیش کی اور محمد اعدل نے حضرت غفران مآب کی شان میں اشعار پڑھے ۔نظامت کے فرائض محقق و مصنف جناب عادل فراز نے انجام دئیے۔

افتتاحی جلسے کے اختتام پر مولانا سید کلب جواد نقوی نے تمام معزز مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ دفتر مکتب فقہی و کلامی حضرت غفران مآبؒ کی نئی عمارت میں تمام علماء کے علمی اور فقہی آثار کو زندہ کرنے کی کوشش کی جائے گی اور ایک عظیم الشان کتب خانہ بھی قائم کیا جائے گا جس سے محققین استفادہ کرسکیں گے۔ان شاءاللہ بہت جلد یہ عمارت مکمل ہوگی اور یہاں مکتب حضرت غفران مآب پر تحقیقی کام شروع ہوگا۔

"مکتب فقہی و کلامیٔ حضرت غفرا ن مآب" پر عظیم الشان سیمینار کا انعقاد،ایران اور ہندوستان کے علما ء اور دانشوروں نے شرکت کی

اس سے پہلے ۲ مارچ کو شب میں ۸ بجے ’مکتب فقہی و کلامی حضرت غفران مآب‘ پر مکالماتی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں ہندوستان اور ایران کے مختلف علماء نے شرکت کی۔

اس نشست کا آغاز مولوی صائم رضا نے تلاوت قرآن مجید سے کیا جس کے بعد مولانا کلب جواد نقوی نے افتتاحی خطبہ دیتے ہوئے تمام علما اور دانشور وں کو مکالمے اور مباحثے کی دعوت دی۔اس نشست میں مشہور عالم اور خطیب مولانا علی عباس خان مدیرمدرسۂ شہید ثالث ایران نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہر مکتب کو دوسرے مکتب کی تقویت کے لئے کام کرنا چاہیے تاکہ ہم سب مذہب اسلام کی تقویت کا سبب بن سکیں ناکہ تضعیف کا۔

"مکتب فقہی و کلامیٔ حضرت غفرا ن مآب" پر عظیم الشان سیمینار کا انعقاد،ایران اور ہندوستان کے علما ء اور دانشوروں نے شرکت کی

انہوں نے کہاکہ علم کسی کی جاگیر نہیں ہے،پروردگار عالم اسی کو علم سے نوازتاہے جو اسکی راہ میں کام کرتاہے۔

انہوں نے مکتب حضرت غفران مآب کی عظمت اور ان کی کتاب ’اساس الاصول‘ کا اجمالی جائزہ بھی پیش کیا۔

معروف اسلامی اسکالر مولانا تقی رضا برقعی نے کہاکہ ولی فقیہ کی حکومت کا پہلا تصور حضرت غفرانمآب نے دیاتھا جبکہ بعض اس سلسلے میں علامہ شہید باقرالصدر کا نام بھی لیتے ہیں ،جن کے سیاسی نظریے کی عظمت اور آفاقیت سے انکار نہیں کیاجاسکتا۔

انہوں نے آیت اللہ غفران مآب کی کتاب ’شہاب ثاقب‘ کااجمالی تعارف بھی پیش کیا اور اس کو ایک تاریخی کارنامہ قراردیا۔

مولانا ڈاکٹر کمال الدین اکبر نے کہاکہ حضرت غفران مآب کے علمی کارناموں کی افہام و تفہیم کے لئے ان کے علمی آثار کا غائرانہ مطالعہ کیاجائے تاکہ شکوک و شبہات کا ازالہ ہوسکے۔

ایران سے تشریف لائے مہمان حجۃ الاسلام سید اکبر حسینی پروفیسر موسسہ امام خمینی نے کہا کہ مکتب حضرت غفرانمآب کے عظیم فقہی اور کلامی کارنامے ہیں جن پر تحقیقی کی اشد ضرورت ہے۔

آقای ڈاکٹر حسن یوسفیان پروفیسر موسسہ امام خمینی ایران، نے اپنی تقریر میں کہاکہ علمائے ہند پوری دنیا کے مسلمانوں پر ایک خاص حق رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ جب تحفۂ اثناعشریہ جیسی کتاب لکھی گئی تو اسکا دائرۂ اثر ہندوستان تک محدود نہیں تھابلکہ جہاں بھی فارسی زبان بولی اور سمجھی جاتی تھی ،وہاں تک اس کتاب کا اثرپہونچاتھا۔حضرت غفران مآب اور اس مکتب کے شاگردوں نے اس کتاب کی رد لکھی اور مذہب امامیہ کا عالم گیر دفاع کیاجن میں حضرت غفران مآب،ان کے بیٹے ،ان کے شاگرد اور خاص طورپر علامہ میر حامد حسینؒ قابل ذکر ہیں۔

پروگرام کے آخر میں مولانا کلب جواد نقوی،مولانا اسیف جائسی اور احمد عباس نقوی نے تمام مہمانوں کا شکریہ اداکیا۔

نماز ظہرین کے بعد ۴ بجے سہ پہر میں مقالہ خوانی کی نشست شروع ہوئی جس میں مولانا علی ہاشم عابدی،جناب فیضان جعفر ،جناب حیدر رضا ،مولانانوید عباس علی گڑہ،مولانا علی عباس خان،مولانا سرتاج حیدر زیدی،مولانا تقی رضا برقعی،مولانا حیدر مہدی کریمی اور دیگر مقالہ نگاروں نے اپنے وقیع مقالے پیش کئے۔

نظامت کے فرائض جناب ڈاکٹر رضا عباس نے انجام دئیے۔آخر میں مولانا رضا حیدر زیدی مدیر حوزہ علمیہ حضرت دلدار علی غفران مآبؒ نے تمام مقالہ نگاروں اور شرکا ئے جلسہ کا شکریہ اداکیا۔

سیمینار میں مولانا سید رضا حیدر زیدی،مولانا تسنیم مہدی ،مولانا اصطفیٰ رضا،مولانا ڈاکٹر رضا عباس علی گرہ،مولانا €حیدر مہدی کریمی،مولانا شباہت حسین ،مولانا سرتاج حیدر،ڈاکٹر ارشد جعفری،امام عباس مدیر روزنامہ صحافت،ڈاکٹر حیدر مہدی،ڈاکٹر ظفرالنفی ،ڈاکٹر سبط حسن نقوی،ڈاکٹر علی سلمان رضوی،مولانا حامدحسین ،مولانا حیدر عباس رضوی،مولانا نثار احمد زین پوری،مولانا اطہر عباس رضوی،مولانا غضنفر نواب ،مولانا منظر عباس،مولانا ضیغم عباس ،مولانا وصی عابدی،مولانا محمد حسین ،ان کے علاوہ حوزہ علمیہ حضرت دلدار علی غفران مآبؒ کے تلامذہ نے بھی خاص طورپر شرکت کی ۔یہ سیمینار ’دفتر فقی و کلامیٔ حضرت غفران مآب‘ کی نئی عمارت میں منعقد ہوا جو پکچر گیلری گھنٹہ گھر کے قریب واقع ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .