۳ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۳ شوال ۱۴۴۵ | Apr 22, 2024
امام زمانہ

تحریر: مولانا سید آفاق عالم زیدی سرسوی، جنرل سیکٹری پیام آفاق فاؤنڈیشن سرسی سادات

حوزہ نیوز ایجنسی

1-شناخت امام اور ان سے ارتباط
ہمارا سب سے پہلا وظیفہ ہے امام زمانہ کو پہچاننا اور ان سے ارتباط رکھنا چاہے وہ دعا کے ذریعہ ہو جو اکثر ہم بعد نماز پڑھتے ہیں,الھم کن لولیک الحجۃ، چاہے قبلہ کی طرف رخ کرکے ہم ہر نماز کے بعد سلام کریں السلام علیک یا بقیۃ اللہ.

2-امام سے متوسل ہونا 
ہمارا ایک وظیفہ ہے امام سے توسل کرنا اپنی مشکلات میں۔

3-امام کیلئے صدقہ دینا 
ہمارا ایک وظیفہ ہے امام کیلئے صدقہ دینا کچھ لوگ سوال کرتے ہیں کہ کیا امام بیمار ہوتے ہیں جو ہم صدقہ دیں ,کیا ان کے اوپر کوئی مصبت آتی ہے جو ہم اس کو دفع کرنے کیلئے صدقہ دیں جہ ہاں ٹھیک ہیں کہ وہ امام ہیں لیکن وہ بشر بھی تو ہیں لہذا سلامتی امام کیلئے صدقہ دیں۔

4-امام کیلئے زیارت و طواف مستحبی انجام دینا
ہمارا ایک وظیفہ ہے امام زمانہ کی نیابت میں زیارت کرنا اور طواف مستحبی انجام دینا آئمہ کی زیارت کو جائیں تو ایک زیارت امام کی طرف سے بھی کریں .حج کو جائیں تو طواف امام زمانہ کی طرف سے بھی کریں۔

5-اس بات کا احساس کرنا کہ امام سب کچھ دیکھ رہے ہیں 
ہمارا ایک وظیفہ ہے کہ انسان ہر قدم پر امام کے ہونے کا احساس کرے کہ میں جو کچھ بھی کررہا ہوں میرا وقت کا امام دیکھ رہا ہے۔

6-اپنی پوری زندگی رضائے امام پر بسر کرنا
"ہمارا ایک وظیفہ ہے رضایت امام" انسان جب اپنی زندگی اس فکر اور احساس کے ساتھ بسر کرے گا کہ میں جو عمل انجام دے رہا ہوں میرے اس عمل سے میرا امام راضی ہے یا نہیں تو گناہوں سے دور رہے گا کیوں اس لیئے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ میرے اس عمل سے میرا وقت کا امام ناراض ہوجائے۔

7-امام کے ظہور کی دعا کرنا 
ہمارا ایک وظیفہ ہے، امام کے آنے کی دل سے دعا کرنا

8-ہمارا ایک وظیفہ ہے سادات اور فرزندان آئمہ کا احترام کرنا۔

9-ہمارا ایک وظیفہ ہے امام کو یاد کرنا مختلف مناسبتوں میں۔
 

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .