۶ اردیبهشت ۱۴۰۳ |۱۶ شوال ۱۴۴۵ | Apr 25, 2024
حجۃ الاسلام سید عباس موسوی

حوزہ/ شگر بلتستان کے معروف عالم دین اور محکمہ شرعیہ چھوترون کے صدر حجۃ الاسلام سید عباس موسوی نے کہا: عصر حاضر میں حوزہ ہائے علمیہ ایران کے خبر رساں ادارہ حوزہ نیوز ایجنسی کی علماء کی علمی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی اشاعت قابلِ تحسین ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، شگر بلتستان پاکستان کے معروف عالم دین اور محکمہ شرعیہ چھوترون کے صدر حجۃ الاسلام سید عباس موسوی نے قم میں حوزہ ہائے علمیہ ایران کے خبر رساں ادارہ حوزہ نیوز ایجنسی کے مرکزی دفتر کا دورہ کرتے یوئے ایک انٹرویو دیا ہے۔

عصر حاضر میں حوزہ نیوز ایجنسی کی علماء کی علمی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی اشاعت قابلِ تحسین ہے: حجۃ الاسلام سید عباس موسوی

حوزہ: آپ کا شکریہ کہ آپ یہاں تشریف لائے، سب سے پہلے ہم آپ کے آباء واجداد کا تعارف اور علاقے میں ان کی خدمات بارے میں جاننا چاہیں گے۔

حجۃ الاسلام سید عباس موسوی: میں حوزہ نیوز کے عہدے داروں کا شکرگزار ہوں کہ جنہوں نے موقع فراہم کیا کہ میں نزدیک سے اس ادارے کی خدمات کا مشاہدہ کر سکوں اور میں اپنے علاقے کے حوالے سے کچھ معروضات پیش کرسکوں۔ میرے جد امجد سید عباس موسوی اپنے زمانے کے مطلق مجتہد تھے اور آخوند خراسانی اور دیگر فقہاء کے شاگرد تھے۔اس دور کے نجفی مجتہدین نے دین اسلام کی تبلیغ کیلئے ان کو بلتستان بھیجا، کیونکہ اس وقت بلتستان میں تصوف کا رجحان تھا اور لوگ خرافات کا شکار تھے۔ میرے جد امجد نے کرگل سے اپنا تبلیغی سفر شروع کیا اور شگر بلتستان کے چھوترون نامی گاؤں میں قیام پذیر ہوئے اور شگر کے مضافاتی علاقے باشہ، برالدو اور دیگر گاؤں میں تبلیغ کے فرائض انجام دئیے اور لوگوں تک دین اور اہل بیت علیہم السلام کے علوم و معارف پہنچائے۔ مرحوم جد امجد کے بعد ان کے بڑے بیٹے سید طہ موسوی نے محکمہ شرعیہ اور مدرسه علمیه قائمیه کی باقاعدہ بنیاد رکھی۔ بلتستان کے زیادہ تر بزرگ علماء مدرسه علمیه قائمیه کے فارغ التحصیل ہیں، ان کے بعد کچھ عرصہ سید عباس مرحوم کے چھوٹے بیٹے سید علی آغا موسوی نے ذمہ داری سنبھالی اور ان کی رحلت کے بعد میرے تایا سید مبارک علی شاہ نے نجف سے واپسی پر محکمہ شرعیہ اور اصلاح معاشرہ کی ذمہ داری سنبھالی، جو کہ حال ہی میں قضائے الہیٰ سے وفات پائے اور اب یہ ذمہ داری میرے کندھوں پر آئی ہے۔بندہ حقیر حوزه علمیه مشہد مقدس اور جوار ثامن الحجج امام رضا علیہ السلام میں 15سال حصول علم کے بعد پچھلے تین سالوں سے شگر بلتستان میں دینی خدمات کی انجام دہی میں مصروف عمل ہوں۔

عصر حاضر میں حوزہ نیوز ایجنسی کی علماء کی علمی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی اشاعت قابلِ تحسین ہے: حجۃ الاسلام سید عباس موسوی

حوزہ: مدرسه علمیه قائمیه اور محکمہ شرعیہ کی مجموعی فعالیت اور سرگرمیوں پر مختصر روشنی ڈالیں۔

حجۃ الاسلام سید عباس موسوی: مدرسه علمیه قائمیه بلتستان کی سب سے قدیمی دینی درسگاہ ہے، جس کی بنیاد سید طہ الموسوی مرحوم نے رکھی تھی، اس عظیم درسگاہ کے نامور شاگردوں میں مفسر قرآن اور بانی جامعۃ الکوثر اسلام آباد شیخ محسن علی نجفی کے علاؤہ بلتستان کے دیگر بزرگ علماء شامل ہیں۔ شگر کے علاقہ تسر باشہ کے اکثر علماء نے اس مدرسے سے ہی تعلیم حاصل کی۔اس مدرسے کا مکمل نصاب اور آئین نامہ موجود ہے اور جہاں تک محکمہ شرعیہ کی بات ہے، محمکہ شرعیہ کو ابتداء سے ہی لوگوں کے باہمی اختلافات کے حل کیلئے وجود میں لایا گیا تھا اور اب بھی اس محکمہ کی زیر نگرانی قضاوت کا سلسلہ منظم انداز سے جاری ہے اور اس سلسلے کا سو سالہ ریکارڈ موجود ہے۔

عصر حاضر میں حوزہ نیوز ایجنسی کی علماء کی علمی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی اشاعت قابلِ تحسین ہے: حجۃ الاسلام سید عباس موسوی

حوزہ: اس وقت عالمی سطح مسلمانوں کو اور بلتستان بالخصوص علاقۂ شگر کو کن مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے اور ان مشکلات کے حل کیلئے آپ کیا راہ حل پیش کرتے ہیں؟

حجۃ الاسلام سید عباس موسوی: اس وقت عالمی سطح پر ثقافتی یلغار اہم مسئلہ بنا ہوا ہے، جو کہ معاشرے کو انحراف کی جانب دھکیل رہا ہے اور اس اہم مشکل سے نمٹنے کا واحد طریقہ اسلامی ثقافت کی درست تبیین ہے، اس اہم مسئلہ کے ساتھ اتحاد اور وحدت معاشرے کی اہم ضرورت ہے۔

اتحاد اور وحدت معاشرے کی اہم ضرورت ہے

مومنین اور تمام مسالک کے درمیان وحدت اور بھائی چارگی کے ذریعے ہم اپنے مسائل کو حل کر سکتے ہیں، اس سلسلے میں خصوصی طور پر علماء کا، آپس میں ہم آہنگی، ذاتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اسلام ناب محمدی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی حفاظت، اسلامی اقدار کی ترویج اور یکجہتی کیلئے ید واحد بن کر اقدام ضروری ہے تاکہ معاشرے کے مسائل آسانی سے حل ہوں۔ ہم نے تمام مسالک کے علماء کے ساتھ اتحاد و وحدت برقرار رکھنے کیلئے اقدامات کئے ہیں جن کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔ اتحاد و وحدت پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت ہے اور رہبرِ انقلابِ اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای بھی وحدت پر تاکید فرماتے ہیں۔ وحدت کے سائے میں ہی ہم اپنے اور دنیائے اسلام کے مسائل کو حل کر سکتے ہیں۔

عصر حاضر میں حوزہ نیوز ایجنسی کی علماء کی علمی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی اشاعت قابلِ تحسین ہے: حجۃ الاسلام سید عباس موسوی

حوزہ: شہداء خصوصاً شہید مقاومت شہید قاسم سلیمانی کے اسلامی بیداری میں کردار کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟

حجۃ الاسلام سید عباس موسوی: شہداء معاشرہ کیلئے چراغ کی مانند ہیں، کیونکہ شہداء کی ایک اہم زمہ داری معاشرے کی ہدایت ہے۔ ہر دور میں شہداء نے اپنے پاک خون کے ذریعے دین کی حفاظت کی ہے۔ دفاع مقدس کے شہداء سے زیادہ شہدائے مقاومت کا کردار اہم ہے، کیونکہ علت محدثہ سے اہم علت نبویہ ہے۔ آج شہدائے مقاومت نے مکتب اسلام اور نظام جمہوریہ اسلامی کی حفاظت کا فریضہ انجام دیا ہے، یہ شہدائے مقاومت کی عظیم قربانیوں اور ان کی بصیرت اور بیداری کا ہی نتیجہ ہے کہ آج عالمی استکبار اور دشمنان اسلام ناکام و نامراد ہو چکے ہیں۔

عصر حاضر میں حوزہ نیوز ایجنسی کی علماء کی علمی، ثقافتی اور سیاسی سرگرمیوں کی اشاعت قابلِ تحسین ہے: حجۃ الاسلام سید عباس موسوی

حوزہ: حوزہ نیوز کے حوالے سے آپ کے کیا تاثرات ہیں؟

حجۃ الاسلام سید عباس موسوی: اس وقت الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا اپنا پیغام پہنچا رہی ہے، ایسے میں حوزہ نیوز دین و مکتب اور علماء کے پیغام کو بلا امتیاز نشر و اشاعت کرنے میں مصروف عمل ہے۔

حوزه نیوز کے توسط سے علماء دینی پیغام آسانی سے پہنچا سکتے ہیں، کیونکہ علماء آزادی کے ساتھ بعض ذرائع ابلاغ کے توسط سے اپنا پیغام نہیں پہنچا سکتے، لیکن حوزہ نیوز ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جس کے توسط سے علماء آزادی کے ساتھ دین اور مکتب کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتے ہیں۔

حوزه نیوز کے توسط سے علماء دینی پیغام آسانی سے پہنچا سکتے ہیں، کیونکہ علماء آزادی کے ساتھ بعض ذرائع ابلاغ کے توسط سے اپنا پیغام نہیں پہنچا سکتے، لیکن حوزہ نیوز ایک ایسا پلیٹ فارم ہے کہ جس کے توسط سے علماء آزادی کے ساتھ دین اور مکتب کا پیغام دنیا کے کونے کونے تک پہنچا سکتے ہیں۔ حوزہ نیوز ایجنسی کی دینی، ثقافتی، سماجی اور سیاسی خدمات لائق تحسین اور قابلِ قدر ہیں۔ حوزہ نیوز کے مشکور ہیں۔امید ہے خدمات کا یہ سلسلہ جاری وساری رہے گا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .