۲۴ تیر ۱۴۰۳ |۷ محرم ۱۴۴۶ | Jul 14, 2024
استقبال عزاء انٹرنیشنل کانفرنس

حوزہ/مولانا اسلم رضوی؛ فرش عزا پر گٹکا، پان، تمباکو کھانا مجلس کی توہین ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ممبئی/ ماہ محرم الحرام کی آمد پر ایس این این چینل کی جانب سے مفسر قران، عالم ربانی جناب مولانا سید محبوب مہدی عابدی نجفی کی صدارت میں زوم کے ذریعے استقبالِ عزاء کے موضوع پر ایک انٹرنیشنل کانفرنس منعقد ہوئی۔

شہر شکاگو امریکہ سے مولانا محبوب مہدی عابدی نے اپنی صدارتی تقریر میں عالم اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ جس طرح ہم ماہ رمضان کا استقبال کرتے ہیں اسی طرح ہمیں ماہ محرم الحرام کا استقبال کرنا چاہیے، کیونکہ محرم نے ماہ رمضان کو بچایا ہے۔

مولانا موصوف نے تمام عزاداروں سے یہ اپیل کی کہ وہ امام حسین علیہ السلام کا پیغام دنیا والوں تک پہنچائیں۔

امریکہ میں مقیم مولانا سید نفیس حیدر تقوی نے فرمایا کہ رسولِ خدا صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ امام حسین علیہ السلام کی شہادت سے مؤمنین کے دلوں میں ایسی گرمی پیدا ہو گئی ہے جو کبھی سرد نہیں ہو سکتی۔

انہوں نے امام حُسین علیہ السّلام کے فضائل بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ کربلا کے میدان میں أمام حسین علیہ السّلام نے جو ھل من کی صدا کے ذریعے مدد مانگی تھی اس کے ذریعے آپ نے اپنے چاہنے والوں سے اسلام سے وابستہ ہونے کا حکم دیا تھا اپنی ذات کے لیے مدد کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔

موریشس سے خطیب جناب مولانا مرزا علی اکبر کربلائی نے نہایت خوبصورت اور ایک جامع تقریر کرتے ہوئے کہا کہ پیغمبر اسلام صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امام حسین علیہ السلام کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حسین ہدایت کا چراغ اور کشتی نجات ہے، یعنی جہاں اندھیرا ہوگا وہیں یہ چراغ روشنی پھیلائے گا۔ ہم سب جانتے ہیں کہ چراغ سے اندھیرے میں اسی وقت فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے جب چراغ آگے ہو اسی طرح اگر کسی کو امام حُسین علیہ السّلام سے ہدایت حاصل کرنا ہے تو حسین کے پیچھے چلنا ہوگا، یعنی امام کے نقش قدم پر چلنا ہوگا۔

امریکہ سے مولانا سید حسین نواب نے اپنی دلکش تقریر میں استقبال عزاء کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ قرآن مجید میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ جو شعائر الٰہی کی تعظیم کرے تو یہ دلوں کا تقویٰ ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ مجلس، علم اور تابوت وغیرہ یہاں تک کہ خود امام حسین علیہ السلام کی ذاتِ اقدس شعائر الٰہی میں ہے۔ عزاداری سید الشہداء کی عظمت کو آیت اللہ بہجت نے آیت اللہ حائری کے ایک جملے کے ذریعے بیان کیا جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ عزاداری کو اتنی اہمیت کیوں دیتے ہیں یہ تو ایک مستحب عمل ہے تو آیت اللہ حائری نے جواب دیا تھا کہ یہ ایسا مستحب ہے جو ہزاروں واجب کو بچائے ہوئے ہے۔

کویت میں مقیم مولانا مرزا عسکری حسین نے فرمایا کہ امام حسین علیہ السلام پر رونا ایک عظیم عبادت ہے، لیکن غم حسین میں ہمارا گریہ غیر مسلموں کی طرح بغیر معرفت کے نہیں ہونا چاہیے، بلکہ مصائب حسین علیہ السّلام سن کر ہماری آنکھوں سے ایک ایک قطرہ معرفت کے ساتھ نکلنا چاہیے۔ عزاداری و گریہ و بکاء کے ساتھ ساتھ مقصد حسین علیہ السّلام بھی پیش نظر ہونا چاہیے، تب جاکر ہم عزادار واقعی کہلائیں گے۔

استقبال عزاء انٹرنیشنل کانفرنس میں آخری مقرر کی حیثیت سے مولانا اسلم رضوی نے عزاداران حسین علیہ السّلام کو اہم نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ ہم جب امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کی مجلس میں جائیں تو اس طرح جائیں کہ مجلس کی توہین نہ ہونے پائے فرش عزاء پر بیٹھ کر گٹکا، پان اور تمباکو وغیرہ کھانا یہ مجلس کی کھلی توہین ہے، اگر کوئی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے فرش عزاء پر پان وغیرہ کھا کر آرہا ہے تو اس کی توہین نہ کریں، بلکہ پیار و محبت سے سمجھائیں اور اس کے بعد بھی نہ سمجھے تو اس کے لیے خدا سے دعا کریں، اسی طرح جب مجلس ہو رہی ہو تو فرش عزاء پر بیٹھیں مجلس کے باہر بیٹھیں گے تو تماشائی کہے جائیں گے عزادار نہیں۔

اس کامیاب کانفرنس کی میزبانی و نظامت کے فرائض ایس این این چینل کے ایڈیٹر انچیف مولانا علی عباس وفا صاحب نے انجام دیے اور کانفرنس کے اختتام پر تمام علماء کا شکریہ ادا کیا۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .