۲۴ مرداد ۱۴۰۱ |۱۷ محرم ۱۴۴۴ | Aug 15, 2022
آیت الله اعرافی
کرونا سے مقابلے کے سلسلے میں ہر قسم کی خدمت کیلئے آمادہ ہیں

 حوزہ / حوزہ علمیہ، حوزوی ادارے، طلاب، اساتذہ اور جوان فضلاء شہر قم اور پورے ملک میں کرونا، سیلاب اور زلزلے کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال سے مقابلے کے لئے ہر قسم کی خدمت کی انجام دہی کے لئے تیار ہیں۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایران میں دینی مدارس کے سرپرست اعلی آیت اللہ اعرافی نے حالیہ حادثات اور کرونا وائرس کی وجہ سے پیدا ہونے والے والے تشویشناک صورتحال کے پیش نظر بیانیہ صادر کر کے اعلان کیا ہے کہ حوزہ علمیہ، طلاب کرام اور علماء عظام متعلقہ اداروں اور لوگوں کی مدد کرنے کو تیار ہیں تاکہ کرونا وائرس کو شکست دے کر ملت ایران کو اس بلا سے نجات دے سکیں۔

ان کے اس بیانیہ کا متن اس طرح ہے:

قُلْ لَنْ یُصِیبَنَا إِلَّا مَا کَتَبَ اللَّهُ لَنَا هُوَ مَوْلَانَا وَعَلَی اللَّهِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ

اللَّهُمَّ اجْعَلْنِا فِی دِرْعِکَ الْحَصِینَةِ الَّتِی تَجْعَلُ فِیهَا مَنْ تُرِیدُ

حمد و ثنای باری تعالیٰ کے بعد تمام انبیاء، اولیاء الہی، ائمہ ھدی بالخصوص خاتم الانبیاء، خاتم الاوصیاء اور شہداء اسلام پر درود وسلام ہو۔

کرونا وائرس کا حملہ ملت ایران، حوزہ علمیہ کے بزرگان، مراجع عظام اور حوزہ علمیہ کی منیجنگ کونسل کے لئے رنج و الم کا باعث ہے۔

مراجع عظام، اساتذہ، طلاب، فضلاءکرام، حوزہ علمیہ کی مینیجنگ کونسل اور حوزوی اداروں کی طرف سے مصیبت زدہ اور رنج و الم میں گرفتار افراد سے اظہار ہمدردی، جاں بحق ہونے والوں کی بلندی درجات اور بیماروں کے لئے شفاء عاجل کی دعا کے ساتھ ساتھ ملت ایران، شہر قم کے لوگوں اور دینی مدارس کی توجہ کچھ نکات کی جانب مبذول کرانا چاہتے ہیں:

1. کبھی حوادث اور مصائب اسلام کی نظر میں بشر کے لیے امتحان اور اس کی ترقی اور تکامل کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ یہ حوادث انسان کے لیے بیداری کا باعث بنتے ہیں اور ان کی وجہ سے بشری سماج ترقی اور پیشرفت کے راستے پر گامزن ہوتا ہے۔ ان حالات میں انسان کو خدا کی ذات سے توسل اور اولیائے الہی کی پاکیزہ روح سے مدد طلب کرنی چاہیے اور ماہ رجب میں منقول دعاوں، مناجات اور اذکار کے ذریعہ خدا کے حضور ورد اور طلب استغفار کرنی چاہیے۔

2. ان حوادث میں سب کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔ مراجع عظام کی رہنمائیوں اور صحت وسلامتی کے اصولوں کی طرف توجہ دینی چاہیے۔نیز ڈاکٹرز کی نصیحتوں پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔

3. طبیعی حوادث اور قدرتی بلاؤں منجملہ کرونا پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے ماہرانہ اور دقیق پروگرامنگ کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں حکومتی افراد کی ذمہ داری انتہائی حساس ہے اور اس میں سب کو ایک دوسرے کا ساتھ دینا چاہیے البتہ ملک کی مصلحتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے تعمیری اور مثبت تنقید کو بھی قبول کرنا چاہئے۔

4. مریضوں کے علاج معالجہ کے لئے تحقیقات کا دائرہ کار وسیع کرنا چاہیے اور ادویات سازی کی صنعت میں ترقی بہت ضروری ہے کیونکہ انقلاب کی طاقت اور سربلندی ٹیکنالوجی اور علمی ترقی سے وابستہ ہے اور اس میدان میں نظام اسلامی کی کارکردگی بہت عمدہ ہے۔

5. صحت و سلامتی کے اصولوں کی رعایت اور ڈاکٹروں کی نصیحتوں پر عمل کرتے ہوئے ہنگامی حالات میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نقصانات کم سے کم ہوں۔ اس سلسلہ میں حوزہ علمیہ اور یونیورسٹیاں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ انہیں اس موضوع پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیے۔ دینی مدارس اور دینی تعلیم کے مراکز جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے لوگوں کو آگاہی فراہم کرسکتے ہیں۔

6. اس مشکل گھڑی میں لوگوں کو چاہئے کہ وہ اسلامی فقہ، اخلاق اسلامی اور انسانی اقدار کی بنیاد پر ایک دوسرے سے تعاون کریں کیونکہ باہمی تعاون سے بڑی بڑی مشکلات اور چیلنجز کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے ۔بفضل خدا ملت ایران بارہا اس کا عملی مظاہرہ کرچکی ہے۔ ابھی حال ہی میں سیلاب میں جہاں دوسرے لوگوں نے سیلاب متاثرین کی مدد کی وہاں علماء کرام اور دینی طلاب بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔

7. معاشرہ کے تمام افراد کو سخت اور دشوار حالات میں صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے اور اپنے آپ کو پرسکون رکھنا چاہئے اور ہمیں اس نکتے کی جانب توجہ دینی چاہئے کہ خدا پر ایمان اور عالم غیب پر ایمان انسان کے سکون خاطر میں اہم کردار ادا کرتا ہے البتہ ہمیں عبادت اور خدا سے راز و نیاز سے بھی غافل نہیں رہنا چاہئے۔

8. تمام میدانوں میں کامیابی کا راز مصمم اور مضبوط عزم و ارادہ میں ہے۔حوادث اور طبیعی آفات سے مقابلہ کے لیے مضبوط عزم و ارادے کی ضرورت ہے۔ ایسے مواقع پر انسان کو خوف و ہراس میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے بلکہ سب کو مل کر اس مشکل پر غلبہ حاصل کرنا چاہیے۔

9. یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ ہمیں اپنے ملک اور اسی طرح اپنی آزاد و خودمختار اقوام کے دشمنوں کے سوء استفادہ سے غافل نہیں ہونا چاہیے۔ وہ  لوگ ہمیشہ ہمارے  اقتصاد کو تباہ کرنے، انقلاب اسلامی کے افکار و نظریات اور دینی اقدار کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے بہانوں کی تلاش میں ہیں۔ لہذا اس سلسلے میں بہت زیادہ ہوشیاری کی ضرورت ہے۔ مغربی میڈیا اپنی مشکلات کو کم اور دوسروں کی مشکلات کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے جیسا کہ چین کے ساتھ مغرب کے رویے کا ہم مشاہدہ کر چکے ہیں۔

10. مغربی ایشیا کے بعض ممالک میں ایران سے بھی پہلے کرونا وائرس پھیل چکا تھا اور اس کے نتیجے میں اموات بھی ہوئیں لیکن انہوں نے دیر سے اس کا اعلان کیا۔ ہماری آرزو ہے کہ پوری دنیا اور اسلامی ممالک اس آفت سے نجات حاصل کریں۔ امید ہے کہ تمام ممالک ایک دوسرے سے تعاون کرکے اس مشکل کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔

11.  ایران کے مختلف صوبوں میں دینی مدارس کے پرنسپل حضرات اور دینی تعلیم کے اداروں کو چاہئے کہ وہ اپنے کام میں جدت لائیں اور بھرپور کوشش کریں کہ تعلیمی و اور تبلیغی سرگرمیوں کو نقصان نہ پہنچے۔ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کرکے سیلاب اور کرونا متاثرین کی مدد کرنی چاہیے اور اس بابرکت مہینے میں ان کے روحانی سکون کا سامان مہیا کرنا چاہیے۔

12. حوزہ علمیہ اور علماء کرام ملت ایران اور شہر قم کے لوگوں سے کیے گئے اپنے عہد و پیمان پر قائم ہیں اور قائم رہیں گے اور ان کی خوشبختی، صحت و سلامتی اور آرام و سکون کی خاطر ہر قسم کے تعاون کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

 حوزہ علمیہ قم ملک بھر اور پوری دنیا کے دینی مدارس اور دینی مراکز کے لوگوں کے ساتھ اس تعلق کو اپنے لئے باعث افتخار سمجھتا ہے اور ملک بھر کے علماء کرام اور علماء کے انجمنیں سیلاب، زلزلہ اور کرونا سے متاثرین کی امداد کے لئے انتہائی ذوق و شوق سے آمادہ ہیں۔  وہ ملت ایران کی کسی بھی قسم کی امداد سے دریغ نہیں کریں گے۔ خدا کے فضل و کرم سے متعلقہ ذمہ دار اداروں اور افراد کو ہم آہنگی سے مختلف انواع کی امدادی کاموں کا آغاز ہوچکا ہے۔

 آخر میں تمام متعلقہ حکام اور  لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو اس آفت اور دیگر تمام طبیعی حوادث پر غلبہ پانے کے لئے دن رات کام کر رہے ہیں۔ بالخصوص ڈاکٹرز، نرسز اور میڈیکل شعبے سے وابستہ افراد کا تہہ دل سے مشکور ہوں جو اس محاذ میں فرنٹ لائن پر مصروف ہیں۔ خدا کے حضور انتہائی انکساری سے دعاگو ہوں کہ جلد از جلد یہ مصیبت ٹل جائے اور ملت ایران اور امت اسلامی کو صحت و سلامتی اور عزت و سربلندی حاصل ہو۔

 علیرضا اعرافی

 مدیر حوزہ ہای علمیہ

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .
7 + 4 =