۲۳ تیر ۱۴۰۳ |۶ محرم ۱۴۴۶ | Jul 13, 2024
علامہ امین شہیدی

حوزه/ پاکستان کے معروف عالم دین اور خطیب علامہ امین شہیدی نے راولپنڈی میں عشرۂ محرم الحرام کی مجلس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا حقیقی چہرہ؛ کربلائے حسینی سے ملتا ہے جہاں جرأت، عقل، استدلال، معنویت اور انسان کی فکری و روحانی ضرورتیں میسر ہیں۔

حوزه نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان کے معروف عالم دین اور خطیب علامہ محمد امین شہیدی نے راولپنڈی میں عشرۂ محرم الحرام کی مجلس سے خطاب میں شیعہ مسنگ پرسنز پر شدید تحفظات اور ان کے خاندان سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیئے تھا دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم، داعش کو شکست دینے والوں کو ہیرو کے طور پر تسلیم کیا جاتا، لیکن بدقسمتی سے آج بھی اس کے متاثرین شیعہ مسنگ پرسنز کی صورت میں پاکستان میں موجود ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ داعش کے پرچم کا ہدف شرک کے نوکروں کو توحید کا لباس پہنا کر حقیقی دین کے پرچم کے مقابلہ میں کھڑا کرنا تھا، لیکن ہم سب نے اس کے نتائج ملاحظہ کئے۔ اسلام کا حقیقی چہرہ، کربلائے حسینی سے ملتا ہے جہاں جرأت، عقل، استدلال، معنویت اور انسان کی فکری و روحانی ضرورتیں میسر ہیں۔ تمام دنیا نے مل کر اسلام کے اس حقیقی چہرے کو مسخ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ مغربی دنیا نے اس ہدف کے حصول کے لئے تقریباً سات ٹریلین ڈالرز خرچ کئے، لیکن انہیں داعش کی تاریخ ساز و ذلت آمیز شکست اور دہشت گردوں کی لاشیں اٹھانے کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوا۔ یہ شکست اللہ کی طرف سے نصرت اور پیغام تھا۔

علامہ امین شہیدی نے کہا کہ پاکستان سے بھی کچھ لوگ داعش کے فتنہ کو ختم کرنے کے لئے گئے، لیکن آج تک ان کے خاندان والے زیر عتاب ہیں۔ بظاہر یہ قبول تو کیا جاتا ہے کہ داعش دین، انسانیت و جمہوریت دشمن اور دہشت گرد تنظیم ہے، لیکن جب اسی شدت پسند تنظیم سے مقابلہ کے لئے یہاں سے کوئی جوان جاتا ہے تو اس کو اٹھا کر کئی سالوں تک غائب کر دیا جاتا ہے۔

سربراہ امت واحدہ پاکستان نے کہا کہ ریاستی اداروں کے قول و عمل میں واضح تضاد ہے۔ صرف پاکستان سے نہیں، بلکہ یورپ، لبنان، ایران، افغانستان اور یمن کے باشندوں نے بھی داعش کا مقابلہ کیا اور اسے شکست دی۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا دنیا کی سب سے بڑی دہشت گرد تنظیم کو شکست دینے والوں کو ہیرو کے طور پر تسلیم کیا جاتا، لیکن بدقسمتی سے آج بھی اس کے متاثرین شیعہ مسنگ پرسنز کی صورت میں پاکستان میں موجود ہیں۔ ہمارے قانونی اداروں نے ان کو بغیر کسی جرم کے اٹھایا اور اب تک وہ لوگ اداروں کی قید میں ہیں۔ جب اداروں سے سوال کیا جائے کہ کیا شیعہ مسنگ پرسنز کسی ریاست مخالف اقدام میں ملوث رہے ہیں؟ کیا انہوں نے کوئی قانون شکنی کی ہے؟ یا پھر داعش کو قتل کرنا جرم ہے؟ تو جوابا ادارے خاموشی اختیار کئے رہتے ہیں۔ اس وقت بھی کراچی میں شیعہ مسنگ پرسنز کے خاندان والے علامتی بھوک ہڑتال میں بیٹھے ہیں جن کا مطالبہ یہ ہے کہ ان کے گمشدہ افراد کو عدالت میں پیش اور واپس کیا جائے۔ ان میں سے چند مسنگ پرسنز کے تو والدین بھی ان کی واپسی کا انتظار کرتے کرتے دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن اس غیر عادلانہ نظام میں ان کی فریاد سننے والا کوئی نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .