۱۰ خرداد ۱۴۰۳ |۲۲ ذیقعدهٔ ۱۴۴۵ | May 30, 2024
محمد بشیر دولتی

حوزه/دائرے مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔کچھ دائرے وسیع ہوتے ہیں تو کچھ دائرے بہت محدود ہوتے ہیں۔ دائرے اچھے بھی ہوتے ہیں تو برے بھی ہوتے ہیں۔ اپنے ضمیر شعور اور بصیرت سے کام لئے بغیر ہر بات مان لینے کا دائرہ غلط ہے تو ضمیر شعور اور بصیرت کا مظاہرہ کئے بغیر اپنی ہی بات پر اڑے رہنے کا محدود دائرہ بھی غلط ہے۔

تحریر: محمد بشیر دولتی

حوزه نیوز ایجنسی | دائرے مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔کچھ دائرے وسیع ہوتے ہیں تو کچھ دائرے بہت محدود ہوتے ہیں۔ دائرے اچھے بھی ہوتے ہیں تو برے بھی ہوتے ہیں۔ اپنے ضمیر شعور اور بصیرت سے کام لئے بغیر ہر بات مان لینے کا دائرہ غلط ہے تو ضمیر شعور اور بصیرت کا مظاہرہ کئے بغیر اپنی ہی بات پر اڑے رہنے کا محدود دائرہ بھی غلط ہے، اسی طرح حق، سچ، اصول، انصاف اور انسانیت کی اقدار کو نظر انداز کرتے ہوئے کچھ بھی ہو میں نہ مانوں کے وسیع دائرے میں جینا بھی بہت نقصان دہ اور پست ترین دائرہ ہے۔ یہ دائرہ وسیع ہوکر بھی انسانی ضمیر کو نچوڑتے اور اذیت دیتے رہنے کا دائرہ ہے۔ عمران خان کے حوالے سے کچھ لوگ چاہے ان کا تعلق سیاست دانوں سے ہوں یا بیوروکریٹس سے، علمائے کرام سے ہوں یا طلاب عزیز سےاسی قسم کے دائرے میں جی رہے ہیں۔ویسے جو اصولی بندے ہوتے ہیں وہ کبھی اصولوں پر سودا نہیں کرتے۔ وہ ظاہرا تھکتے ہیں، مرجھاتے ہیں مگر پچھتاتے نہیں ہیں۔ وہ لڑتے ہیں مرتے ہیں مگر کبھی ہار نہیں مانتے۔ وہ ہدف تک پہنچنے کے لئے آگے دوڑتے ہیں کبھی پیچھے ہٹتے بھی ہیں مگر ہدف سے کبھی منہ موڑتے نہیں ہیں۔ کوئی مانے یا نہ مانے عمران خان کا شمار بھی انہیں لوگوں میں ہوتا ہے۔

یہ گیارہ جنوری 1996 کی بات ہے کہ عمران خان نے تحریک انصاف کی بنیاد رکھنے کے بعد کہا تھا کہ"کسی انسان کے سامنے نہیں جھکنا ہے ہمیں صرف دلیر لوگوں کی ضرورت ہیں۔" اس نے وزیر اعظم بننے سے پہلے جیو نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ"میں کٹھ پتلی وزیراعظم نہیں بنوں گا میرے ہاتھ بندھے ہوئے ہوں، اسٹیپلشمنٹ مجھے ڈکٹیشن دے اور وہ ملک چلائے۔ دوہزار گیارہ کو مینار پاکستان پر عوامی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا"امریکہ کو ایک پیغام دینا چاہتا ہوں کہ تحریک انصاف کی جب گورنمنٹ آئےگی ہم دنیا میں سب کے ساتھ دوستی کریں گے لیکن غلامی قبول نہیں کریں گے۔ ہم افغانستان سے نکلنے کے لئے آپ کی مدد کریں گے آپ افغانستان سے اپنی جان بچاکر نکل جائیں لیکن ہم آپ کے لئے کوئی ملٹری آپریشن نہیں کریں گے۔

2014 میں قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ "میں سب کے پاس جانے کے لئے تیار ہوں ۔مولانا صاحب(فضل الرحمان)" کے پاس بھی جانے کے لئے تیار ہوں، مجھے شرم آتی ہے یہ کہتے ہوئے کہ یہ امریکی ہمیں (پاکستانیوں کو) اتنا نچلے درجے کا سمجھتے ہیں کہ ہمیں غلاموں سے بھی کم تر سمجھتے ہیں۔ ان کی بےحسی یہ ہے کہ یہ ملک ان کی جنگ میں تباہ ہو رہا ہے مگر انہیں کوئی احساس نہیں۔ وہ ہمیں اتنی حقارت سے دیکھتے ہیں اور ہم ان کے غلام بنے ہوئے ہیں۔"

دنیا گواہ ہے کہ عمران خان شروع سے اب تک ایک ہی نعرے پر گامزن رہا۔ ایک ہی ایجنڈے کے لئے کوشش کرتے رہے وہ ایجنڈا تھا پاکستان کو آزاد و خودمختار ملک بنانا۔ عمران خان نے چاہا کہ آئی ایم ایف سے ملک کو آزادی دلائیں لیکن یہ ملک اتنا مقروض ہوچکا تھا کہ وہ کچھ نہیں کرسکا۔عمران خان جیسا خود دار بندہ سعودی شاہ سے کہتا رہا کہ وہ اتنا قرضہ اور امداد دیں کہ دوبارہ أئی ایم ایف کے پاس جانے کی نوبت ہی نہ آئے لیکن افسوس غیر اتنے مخلص کہاں ہوتے ہیں۔عمران خان اسلامی بلاک کا خواب شرمندہ تعبیرکرنے کے لئے کوشش کرتے رہے۔ 18 دسمبر 2019 کو کوالالمپور سمٹ اس کا أئیڈیا عمران خان نے مہاتیر محمد کو دیا تھا تاکہ اسلامی دنیا کا الگ بلاک بنایا جاسکے۔ اس کانفرنس سے چار دن پہلے سعودی عرب نے عمران خان کو طلب کیا14 دسمبر کو عمران خان کو ہنگامی طور پر سعودی عرب جانا پڑا۔ سعودی ولی عہد نے دو آپشن رکھ دیئے۔ ملائشیا سمٹ کانفرنس میں شرکت سے انکار کریں نہیں تو ہمارا قرضہ واپس کریں وگرنہ پاکستانی مزدوروں کا مستقبل بھی خطرے میں پڑے گا۔ تنگ دست،مقروض ملک کا خود دار وزیراعظم سرجھکا کر یوں رہا جیسے ہارے ہوئے لشکر کا بہادر سپاہی ہو۔ عمران خان کی نگاہ میں وہ چار لاکھ پاکستانی آئے جن کے بارے میں پہلے ہی عمران خان سعودی شہزادے سے کہا تھا کہ "یہ مزدور میرے دل کے بہت قریب ہیں ان کا بہت خیال رکھیں" آخر عمران خان نے کوالالمپور کانفرنس میں شرکت کرنے سے انکار کیا۔ بےحس و بے بصیرت لوگ اس پر عمران خان کو یوٹرن خان کہتے رہے۔ عمران خان کی غیرت نے اس راز کو دل میں دفن کرنے سے انکار کیا تو 21 جنوری کو ڈیوس میں طیب اردگان سے ملاقات میں اس راز کو فاش کردیا تو ترک صدر نے اس بات کو عالمی میڈیا تک پہنچا دیا۔

امریکن مصنف ڈینل مارک اپنی کتاب No exit from Pakistan میں لکھتا ہے کہ پاکستان اور پاکستانی فوج پر نظر رکھنے کے لئے ہم پاکستان کے ساتھ مربوط رہیں گے۔ ہم نے بہتر سال پہلے یہ فیصلہ کیا تھا کہ پاکستان کو ترقی کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ ہم پاکستان کو دنیائے اسلام کو لیڈ کرنے نہیں دیں گے۔ پاکستان کو اتنا رکھیں کہ ہم مینج کر سکیں۔ ہم بوقت ضرورت پاکستانی لیڈرز کو خریدتے ہیں۔سیاستدان، جرنلسٹ، جرنل، میڈیا ہاؤس وغیرہ۔ پاکستانی لیڈرز اپنے آپ کو بہت تھوڑی قیمت میں بیچ دیتے ہیں۔اتنی کم قیمت کہ انہیں امریکی ویزہ یا بچوں کی اسکالرشپ مل جاتی ہے تو چارسالہ بیچلر ڈگری ملنے تک مکمل بک چکے ہوتے ہیں۔"یہ باتیں امریکی مصنف اپنی سات اکتوبر 2013 کو چھپنے والی کتاب میں کہہ رہا تھا جسے کیمبریج یونیورسٹی پریس نے آج سے تقریبا دس سال قبل شائع کیا لیکن آج پاکستان کا بچہ بچہ اب ان باتوں کو عملی ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہے۔

تیس جون دوہزار اکیس کو پارلیمنٹ میں عمران خان نے جو دبنگ خطاب کیا تھا اس کے بعد جنرل ریٹائرڈ ہارون اسلم نے جو لاجسٹک اسٹاف کے سربراہ اور ستارہ امتیاز اور ستارہ بسالت کے تمغے لے چکے ہیں انہوں نے 20 جولائی دو ہزار اکیس کو کہا تھا کہ جو بھی امریکہ کی جی حضوری نہ کرے یا ان کی پالیسی کے آگے سر تسلیم خم نہیں کرے گا امریکہ اس کا حشر لیاقت علی خان یا ذوالفقار علی بھٹو جیسا کرےگا۔ انہوں نے مخالفین کے خلاف امریکہ کے تین معروف طریقوں کا ذکرکیا تھا۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ جسمانی نقصان پہنچائے گا۔ دوسرا طریقہ اپوزیشن کے ذریعے حکومت گرائے گا تیسرا فوج کے ذریعے حکومت کا خاتمہ کرے گا۔

پھر یوں ہوا کہ عمران خان کے خلاف امریکی سفیر انجیلا گینل نےمریم نواز سے ملاقات کی۔ ڈیڑھ سال قبل زرداری کے کہنے پر تیار نہ ہونے والی نون لیگ اچانک عدم اعتماد کی تحریک پر تیار ہوگئی۔ امریکی سفیر اور سفارتی عملے اسمبلی ممبران سے ملنے لگے۔

سات مارچ کو امریکہ میں موجود اس وقت کے سفیر نے دفتر خارجہ کو ایک مراسلہ بھیجا جس میں رجیم چینج نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کے ساتھ سختی سے نمٹنے کی دھمکی دی گئی تھی۔ لوگ کہنے لگے کہ یہ شاہ محمود نے خود لکھا ہے کوئی مراسلہ نہیں آیا نہ کسی نے دھمکی دی ہے۔ بعد میں دھمکی دینے والے کا نام بھی سامنے آیا۔ یہ دھمکی دینے والا أٹھ زبانوں پر عبور رکھنے والا ساؤتھ اینڈ سینٹرل ایشین افئیرز کا اسسٹنٹ سیکریٹری ڈونلڈ لو تھا۔ نہ ماننے والے پھر بھی انکار کرتے رہے۔ اس مسئلے پر ملکی دفاعی کونسل نے دو دفعہ اجلاس بلایا۔ اجلاس میں نہ فقط اس دھمکی کو تسلیم کیا بلکہ اس کا جواب بھی دیا گیا۔ پھر جن تنظیموں اور اسمبلی ممبران کی ڈوریاں جہاں سے ہلتی تھیں وہاں سے ہلنے لگیں تو یہ لوگ تحریک انصاف سے دور ہوگئے۔ فون کال پر معاملات ادھر سے ادھر ہونے لگے۔ تین سال میں اپنے ہی کرپشن کرنے والے وزرا ء کے خلاف قانونی کارروائی کرنے والے وزیر اعظم کو ملکی و بین الاقوامی سطح پر بدترین کرپشن کرنے والوں کے لئے نکال باہر کیا گیا۔ عمران خان جاتے جاتے اپنی ڈائری لے کر نکل گیا۔ وہ چلا گیا مگر ہر محب وطن، بیدار اور باشعور پاکستانیوں میں مزید معروف ہوگئے۔

عمران خان کو کیوں اور کس لئے نکالا ؟ بہت سوں کی بصیرت وہاں تک نہ پہنچ سکی۔

امریکن تھنک ٹینکر اور معروف تجزیہ نگار "ریکا گرانٹ" سے جب "فوکس نیوز" کے اینکر نے سوال کیا کہ عمران خان کو کیوں نکالا گیا اور موجودہ حکومت کو کیا کرنا چاہیے؟ تو انہوں نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ بتایا کہ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ امریکہ کے خلاف پالیسیاں ختم کرے، یوکرین کو سپورٹ کرنا ہوگا،روس کے ساتھ معاشی ڈیلز ختم کرنی ہونگی، چین کے ساتھ تعلقات ختم کرنے ہونگے، انہیں پالیسیوں کی وجہ سے ابھی عمران خان کی حکومت گئی ہے تو اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان خود کو روس سے دور رکھے اور امریکہ کے خلاف پالیسیاں درست نہ کرے۔ہم اس چیز پر پوری نظر رکھیں گے"

یوں 2019 میں چائنا کے ساتھ ڈالر کی بجائے مقامی کرنسی میں معاہدہ کرنے والے، اپنے سپہ سالار اور عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے دباؤ پر مغربی میڈیا کے سامنے بیٹھ کر کھل کر انکار کرنے والے، گوادر اور سی پیک کو جاری رکھنے والے،امریکہ کو ہوائی اڈا دینے سے کھل کر انکار کرنے والے ، امریکن سی آئی اے کے سربراہ سے ملاقات سے انکار کرنے والے، روس کا دورہ کر کے گیس اور پٹرول کا معاہدہ مقامی کرنسی میں کرنے والے، پاکستانی معیشت کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کی کوشش کرنے والے عمران خان پر جان لیوا حملہ ہوا اور اسے ویل چیئر پر بٹھادیا ۔ مخالفین اس جان لیوا خطرناک حملے کو بھی ڈرامہ کہتے رہے تو مجھے سابق وزیر اعظم محترمہ بےنظیر بھٹو کی یاد آئی۔ محترمہ جب ایک عرصہ جلاوطنی کا کاٹ کر کراچی ائیرپورٹ پر اتری تو کارساز کے مقام پر آپ کے قافلے پر بموں سے حملہ ہوا ۔سو کے قریب بےگناہ افراد مارے گئے تو کچھ لوگوں نے کہا کہ یہ حملہ بےنظیر نے خود کروایا ہے تاکہ زیادہ شہرت مل سکے پھر ایسا ہوا کہ محترمہ بےنظیر بھٹو لیاقت باغ میں خودکش حملے میں شہید ہوگئی۔ ایسا ہی ایک حملہ اتحاد بین المسلمین کے داعی علامہ حسن ترابی پر گلشن اقبال پل پر ہوا جس میں علامہ صاحب بچ گئے تو بھی کچھ لوگ یہی کہتے رہے کہ یہ حملہ علامہ نے سستی شہرت کے لئے خود کروایا ہے مگر ٹھیک ایک ماہ بعد آپ پر عباس ٹاؤن میں خودکش حملہ ہوا جس میں آپ شہید ہوئے اور پاکستان ایک بہترین اتحاد بین المسلمین کے عظیم داعی سے محروم ہوگیا۔

پاکستان کی عزت، وقار اور آزادی کے لئے عمران خان کے ناقابل تغیر بیانات و جدوجہد ، امریکن مصنف ڈینل مارک کی پیشن گوئی اور امریکن تھنک ٹینکر "ریکا گرانٹ" کی ببانک دھل اعترافات کے بعد بھی نہ ماننے والے اب بھی آئیں بائیں شائیں ہی کرتے ہیں چونکہ ایسے لوگ حقائق کو دوسروں کی عطا کردہ عینک سے دیکھتے اور سچائی کو دوسروں کے معین کردہ دائرے میں رہ کر بیان کرتے ہیں۔ احساس پروگرام، صحت کارڈ اور شلٹر ہوم جیسے پروگرام سے جو غریب عوام استفادہ کر رہے تھے اب وہ عوام گندم اور آٹے کی تھیلی کے لئے لمبی لائنوں اور بھگدڑ وں میں فاقوں کے ساتھ جان دے رہے ہیں۔ترقی کی طرف جاتا ہوا پاکستان اب دیوالیہ ہونے کے قریب ہے۔اس جرم میں وہ تمام طاقتیں ،مذہبی و غیر مذہبی شخصیات اور تنظیمیں شامل ہیں جنہوں نے عمران خان کی حکومت گرانے اور موجودہ حکومت کو لانے پھر خاموش رہنے میں عافیت سمجھی ہے ۔

اس وقت نام نہاد بل بھی استعماری سازش رجیم چینج آپریشن کا دوسرا مرحلہ ہے ۔سویڈن اور دیگر یورپی ممالک میں شان رسالت مآب اور قرآن مجید کی توہین ہورہی ہے تو پاکستان میں اس متنازعہ بل کے ذریعے مسلمانوں کو آپس میں الجھایا گیا ہے۔ اس بل کے ذریعے فرقہ واریت کو ہوا دینے کے ساتھ خیبرپختونخواہ اور دیگر پختون نشین علاقوں میں پی ڈی ایم کی اتحادی، جماعت اسلامی کے ووٹ بینک میں اضافے کی کوشش کی گئی ہے، اس سازش کو سمجھنے میں بھی دائروں کے مکینوں کو پھر ایک زمانہ لگے گا۔ویسے اقبال تو مفت میں بدنام ہیں بصیرت کونسے وقت پر أتی ہے۔ خدا ملک خداداد پاکستان اور مخلص پاکستانیوں کی حفاظت فرمائے۔ آمین

نوٹ: حوزہ نیوز پر شائع ہونے والی تمام نگارشات قلم کاروں کی ذاتی آراء پر مبنی ہیں حوزہ نیوز اور اس کی پالیسی کا کالم نگار کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .