تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری
حوزہ نیوز ایجنسی| 5 اکتوبر 2026 کو نیبراسکا کے شہر گرینڈ آئی لینڈ میں انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جنگ کی وجہ سے پٹرول، ڈیزل اور دوسری اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور دنیا کو محفوظ رکھنے کے لیے یہ ایک ’’چھوٹی قیمت‘‘ ہے۔ اسی دوران انہوں نے کہا کہ ایران کسی امریکی شہر کو نشانہ بنا سکتا تھا اور لاس اینجلس یا سان ڈیاگو کو نقصان پہنچنا بھی اس قیمت کے مقابلے میں معمولی ہوتا۔ ان الفاظ پر امریکہ میں شدید ردعمل ہوا اور وائٹ ہاؤس کو وضاحت کرنا پڑی کہ ٹرمپ کا مقصد امریکی شہروں پر حملے کی حمایت کرنا نہیں بلکہ یہ کہنا تھا کہ ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے جنگ ضروری تھی۔
لیکن اس تقریر کا اصل سیاسی وزن ٹرمپ کے ایک جملے سے زیادہ اس حقیقت میں ہے کہ ایران نے امریکہ کو ایک ایسی جنگ میں الجھا دیا ہے جس کی قیمت اب خود امریکی عوام محسوس کر رہے ہیں۔ امریکی کانگریس کے غیر جانب دار بجٹ دفتر کے مطابق اگست 2026 تک ایران کی جنگ پر امریکہ تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ کر چکا تھا اور اس کے بعد بھی تقریباً 3 ارب ڈالر ماہانہ اضافی خرچ کا اندازہ لگایا گیا۔ ستمبر میں امریکی محکمہ دفاع کا تازہ تخمینہ اس سے بھی بڑھ کر 43.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس میں جنگی کارروائیوں کے اخراجات کے ساتھ تباہ شدہ طیاروں، اسلحے اور دوسرے فوجی وسائل کی دوبارہ فراہمی کی لاگت بھی شامل تھی۔
یہ رقم صرف ایک مالی عدد نہیں؛ یہ امریکی طاقت کی ایک بڑی کمزوری کی طرف اشارہ ہے۔ رائٹرز کے مطابق 2026 کی جنگوں نے امریکی فوج کے میزائل ذخائر اور دوسرے اہم جنگی وسائل پر نمایاں دباؤ ڈالا، جبکہ بعض اہم فوجی نظام کو دوبارہ مطلوبہ سطح تک پہنچانے میں برسوں لگ سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ جنگ، دوسرے عالمی محاذوں اور مسلسل فوجی سرگرمیوں نے امریکی وسائل کو ایک ایسے وقت میں کھینچ دیا ہے جب واشنگٹن کو بیک وقت کئی ممکنہ خطرات کا سامنا ہے۔
ایران کی اہم کامیابی یہ ہے کہ اس نے امریکہ کی بے پناہ فوجی طاقت کے باوجود جنگ کی قیمت یک طرفہ نہیں رہنے دی۔ امریکہ کے پاس جدید ترین طیارے، میزائل، بحری بیڑے اور دنیا کا سب سے بڑا فوجی بجٹ ہے، لیکن ایران نے اپنی مزاحمت، میزائل قوت اور آبنائے ہرمز کی جغرافیائی اہمیت کے ذریعے ایسا دباؤ پیدا کیا کہ عالمی توانائی کا نظام متاثر ہوا۔ آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں جنگ کے دوران شدید کمی آئی اور امریکی منڈی میں بھی پٹرول کی قیمت پر اس کا اثر پڑا۔
یہاں ایران کی ہمت اور ثابت قدمی کا اصل پہلو سامنے آتا ہے۔ ایران نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا؛ اس نے اس سے زیادہ اہم بات ثابت کی کہ شدید نقصان کے باوجود اس کی مزاحمت ختم نہیں ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے کئی ماہ بعد بھی امریکی حکام کے لیے سب سے بڑا سوال صرف یہ نہیں کہ ایران کو کتنا نقصان پہنچا، بلکہ یہ بھی ہے کہ جنگ کو فیصلہ کن انجام تک کیسے پہنچایا جائے۔
واشنگٹن نے طاقت آزمائی، مگر فتح حاصل نہ کر سکا؛ دباؤ بڑھایا، مگر ایران کو جھکا نہ سکا۔ آج صورتِ حال یہ ہے کہ امریکہ کے پاس نہ جنگ جاری رکھنے کی طاقت ہے، اور نہ ہی اسے اپنے حق میں ختم کرنے کا کوئی راستہ رہا ہے ۔
یہ صورتحال امریکہ کی عالمی ساکھ کے لیے بھی معمولی دھچکا نہیں۔ برسوں سے واشنگٹن نے دنیا کو یہ تاثر دیا کہ اس کی فوجی طاقت کے سامنے کسی بھی مخالف کے لیے طویل مزاحمت تقریباً ناممکن ہے۔ مگر ایران نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔ رائٹرز کے مطابق امریکی فوجی کارروائیوں نے نہ صرف امریکی وسائل پر دباؤ ڈالا بلکہ بعض اتحادی ممالک کو بھی اپنی دفاعی حکمت عملی پر دوبارہ غور کرنے پر مجبور کیا۔
ٹرمپ کا ’’چھوٹی قیمت‘‘ والا جملہ اسی بدلتی ہوئی حقیقت کی علامت بن گیا ہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت کا صدر اپنے عوام کو مہنگے پٹرول، ڈیزل اور دوسری اشیا کی قیمت برداشت کرنے کی تلقین کرے، جبکہ جنگ پر دسیوں ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہوں، تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر اس جنگ کی اصل قیمت کتنی ہے اور اسے کون ادا کر رہا ہے؟ امریکی تجزیوں میں جنگ کے معاشی اثرات کو عام امریکی خاندانوں تک پہنچنے والی اضافی لاگت سے بھی جوڑا گیا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں امریکی طاقت کے ڈھول کی پول کھلتی محسوس ہوتی ہے۔ سپر پاور ہونا صرف یہ نہیں کہ آپ کے پاس دنیا کے سب سے زیادہ ہتھیار اور سب سے بڑا فوجی بجٹ ہو؛ اصل امتحان یہ ہے کہ آپ اپنی طاقت استعمال کرکے اپنے سیاسی مقاصد کتنی جلدی اور کتنی کم قیمت پر حاصل کرتے ہیں۔ اگر اربوں ڈالر خرچ کرنے، فوجی ذخائر پر دباؤ ڈالنے اور عالمی توانائی کے نظام کو ہلانے کے باوجود مخالف ملک کو سیاسی طور پر جھکانا ممکن نہ ہو تو پھر فوجی برتری اور سیاسی فتح کے درمیان فرق نمایاں ہو جاتا ہے۔
ایران کی مزاحمت نے اسی فرق کو دنیا کے سامنے نمایاں کیا ہے۔ امریکہ ایران کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن ایران نے امریکہ کو یہ ثابت کرنے پر مجبور کر دیا کہ طاقتور ہونا اور ہر جنگ جیت جانا ایک ہی بات نہیں۔ ایران کے پاس امریکہ جتنے وسائل نہیں، مگر اس کے پاس ایک ایسی چیز ہے جسے اربوں ڈالر سے نہیں خریدا جا سکتا: اپنے موقف پر قائم رہنے کا عزم۔
اور شاید یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ کے لہجے میں اب فتح کے دعوے کے ساتھ ساتھ جنگ ختم کرنے، قیمتیں کم ہونے اور عوام کو موجودہ تکلیف برداشت کرنے کی اپیل بھی سنائی دیتی ہے۔
اب صورت حال یہ ہے کہ ایران امریکہ کو شکست کا اعلان کرنے پر تو مجبور نہیں کر سکتا، مگر اس کی مزاحمت نے امریکہ کو فتح کا اعلان کرنے کے قابل بھی نہیں چھوڑا۔ یہی اس جنگ کا اصل نتیجہ ہے: دنیا کی خود ساختہ سپر پاور نہ شکست تسلیم کر پا رہی ہے، نہ فتح کا دعویٰ کر پا رہی ہے؛ اور ایران نے اسی درمیانی کیفیت کو اپنی سب سے بڑی سیاسی کامیابی بنا دیا ہے۔










آپ کا تبصرہ