۳۱ فروردین ۱۴۰۳ |۱۰ شوال ۱۴۴۵ | Apr 19, 2024
ڈگری حاصل کر لی

حوزہ/ بلتستان پاکستان سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ ”محترمہ ناہیدہ پروین" نے جامعۃ المصطفیٰ سے ایم فل کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، محترمہ ناہیدہ پروین گلگت بلتستان کے ایک دور افتادہ گاؤں "بگاردو" سے تعلق رکھتی ہیں۔ خدا نے ان کے دل میں علم کے نور کو روشن فرمایا تو آپ نے علوم محمد و آل محمد علیہم السّلام کے حصول کیلئے المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی ایران کا انتخاب کیا۔

آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی علاقے میں حاصل کی، جبکہ 2015ء میں علوم آل محمد علیہم السّلام سے اپنے قلب و روح کو منور کرنے کیلئے بلتستان کی عظیم دینی درسگاہ "جامعة الزہراء" میں داخلہ لیا، چار سال تک جامعۃ الزہراء سکردو سے کسب فیض کرنے کے بعد علوم آل محمد علیہم السّلام سے مزید بہرہ مند ہونے کیلئے قم المقدسہ ایران آنے کا عزم کیا۔ بلتستان کے ایک دور افتادہ گاؤں سے مرکز علم و معرفت قم المقدسہ تک آنا کوئی آسان کام نہیں تھا، خاص کر ایک صنف نازک کیلئے کہ جس کیلئے ہر قدم پر بے شمار معاشرتی قدغنیں ہوتی ہیں، یہ سب ان کے عزم وہمت کا نتیجہ تھا کہ وہ ان تمام رکاوٹوں کی پرواہ کئے بغیر حوزه علمیہ قم تک پہنچیں۔

محترمہ ناہیدہ پروین نے قم المقدسہ میں المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کے شعبہ برائے خواتین بنت الہدیٰ میں داخلہ لیا۔ علم و معرفت سے شغف رکھنے کے ساتھ ساتھ آپ کو قم المقدسہ جیسا ایک علمی ماحول میسر ہوا، جس کی وجہ سے آپ کی صلاحیتوں میں مزید نکھار آیا۔

موصوف نے کم وقت میں فارسی زبان پر مکمل دسترس حاصل کی اور اس کے بعد "فقہ خانوادہ" (فیملی لائف کے شرعی احکامات) کے شعبے سے منسلک ہو گئیں۔ آپ نے اس شعبے کا چناؤ، بلتستان کے معاشرے کی ضرورت کے تقاضوں کے مطابق کیا تھا۔ محترمہ ناہیدہ پروین کو کلام الٰہی "قرآن مجید" ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ حفظ کرنے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔

محترمہ خواہر ناہیدہ پروین نے حال ہی میں ایم فل کے امتحان کو 98 فیصد سے پاس کر لیا ہے۔ آپ نے تھیسز کیلئے شیعہ مکتب فکر کی نہایت ہی مستند شخصیت جناب امیر بہاء الدین علائی نژاد کی کتاب "احکام اموات با رویکرد مسائل جدید" کا انتخاب کیا۔ آپ نے اس کتاب کا، حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر بشوی کی نگرانی میں، اردو میں نہایت خوبصورت ترجمہ کیا اور اعلیٰ نمبروں سے دفاع کر کے ایم فل کی ڈگری حاصل کر لی ہے۔

لیبلز

تبصرہ ارسال

You are replying to: .